Thursday, January 8, 2026

نواصب ، حدیث عمار کے مقابل حدیث ابن حرام کو لاتے ہیں

نواصب ، حدیث عمار کے مقابل حدیث ابن حرام کو لاتے ہیں اور لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں کہ ماموں نہ باغی، نہ خاطی، نہ یدعونہ الی النار ہے بلکہ صاحب فضیلت اور جنتی لشکر میں شامل ہے۔ جبکہ حدیث عمار متواتر ہےجس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور حدیث ام حرام مشکوک ہے جس پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اس حدیث میں  رسول اللہ ﷺ کی عزت وحرمت پر حملہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہﷺ کی عادت تھی کہ آپ ص( نامحرم عورت) ام حرام کے گھر جایا کرتے تھے، وہاں کھانا کھاتے اور قیلولہ کیا کرتے تھے۔ایک دن نبی کریم ﷺ  ان کے گھر آئے، کھانا کھایا اور پھر ام حرام آپ ص کے سر کی جوئیں نکا لنے لگیں اور آپ ص کی آنکھ لگ گئی۔ ( صحیح بخاری ح 2788)
ام حرام کہتی ہیں کہ ایک دن آپ ص آئے اور میرے قریب ہی سو گئے۔( صحیح بخاری ح2799، 2800)
نیز کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سوئے، پھر بیدار ہوئے اور میں اپنا سر دھو رہی تھی، آپ ص ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا، اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ ص میرے بال دیکھ کر ہنس رہے ہیں؟ ( سنن ابوداؤد ح 2490)
دیکھو کس قدر کذب وبہتان ہے کہ کوئی صاحب ایمان ان خرافات کو تسلیم نہیں کرسکتا؟
نیز صحیح بخاری حدیث ابن حرام 2924 کے اسناد میں تمام راوی شامی ہیں جیسا کہ ابن حجر عسقلانی نے " فتح الباری " میں اور علامہ عینی نے " عمدۃالقاری " میں تصریح کی ہے۔ اور اہل شام کا ناصبی یعنی مولا علی ع سے بغض و عناد رکھنا مشہور و معروف ہے۔ اس حدیث کے ایک راوی " ثور بن یزید" کے متعلق تصریح بھی موجود ہے کہ یہ مولا علی رض سے بغض و عناد رکھتا تھا۔ ( تہذیب التہذیب بتر جمہ ثور بن یز ید)
امام شعبہ نے کہا اہل شام سے حدیث مت لکھو۔ اور عبدالرحمن نے کہا اہل شام صحت حدیث میں صفر ہیں۔ اور عمرو بن عاص نے فرمایا اہل شام مخلوق ( یعنی ماموں) کی اطاعت میں اور اللہ کی نافرمانی میں سب سے آگے بڑھے ہوۓ ہیں۔ اور عمر بن عبید نے کہا اہل شام فاسق ہیں۔ اورثوری نے کہا اہل شام کو فضائل علی رض سنایا کرو۔ابن عساکر کہتے ہیں کہ اس لئے کہ اہل شام مولا علی سے بغض و عناد رکھتے ہیں۔اور اوزاعی نے کہا علماء مستحب سمجھتے ہیں اہل شام کو فضائل اہلبیت رض سنانا، اس لئے کہ شامی اپنی ناصبیت سے توبہ کرلیں۔( تاریخ دمشق ج۱ص۳۲۴ )
نیز نواصب اہل شام کی گھڑی ہوئی حدیث ابن حرام 2924 میں یہ الفاظ " واجب ہوگئی۔ان کیلئے مغفرت ہے" آئے ہیں، اس کو  عمیر ابن اسود العنسی شامی کے علاوہ اور کسی نے روایت نہیں کیا اور اس شیخ الحدیث عمیر العنسی نے دورہ حدیث میں صرف یہی ایک حدیث 2924 پڑھی ہے اس کے علاوہ کوئی حدیث نہ سنی، نہ پڑھی اور نہ پڑھائی جیسا کہ ابن حجر عسقلانی نے " فتح الباری " میں تصریح کی ہے۔ 
نیز اس حدیث2924 کے الفاظ امام بخاری کے علاوہ باقی صحاح ستہ کے مولفین نے نقل نہیں کئےجیسا کہ ابن کثیر نے " البدایہ والنہایہ ج ۶ص ۲۲۳" میں تصریح کی ہے۔
نیز نواصب اہل شام کا حدیث جعل کرنے کے باوجود دعویٰ ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ اہل حدیث عالم وحید الزمان نے " تیسیر الباری " میں لکھا ہے کہ لشکر والوں کی بخشش ہونے سے لازم نہیں آتا کہ اس کا ہر فرد بخشا جائے اور بہشتی ہو۔ خود آنحضرتﷺ کے ساتھ ایک شخص خوب بہادری سے لڑ رہا تھا، آپ ص نے فرمایا دوزخی ہے۔
نیز جب عمل ہی بہودہ ہوں تو بشارت بھی کام نہیں آتی، چنانچہ مہلب نے کہا اس حدیث میں معاویہ و یزید کی فضیلت ہے۔ شارحین حدیث نے مہلب کا رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ( ماموں اور ) یزید کی فضیلت کیسے ثابت کی جاسکتی ہے ؟ جبکہ ( ماموں اور ) یزید کے حالات مشہور ہیں۔اور اس حدیث میں ایک عام حکم ہے کسی فرد کی تخصیص نہیں، لہٰذا یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص دوسرے اسباب کی بناء پر اس عام حکم سے خارج ہو جائے۔ جیسا کہ اہل علم میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ بخشش کی شرط اس پر منحصر ہے کہ وہ بخشش کے لائق ہو۔ لہذا اس حدیث میں بخشش ان لوگوں کےلئے ہے جن میں شرائط بخشش موجود ہوں۔ ( فتح الباری ابن حجر، عمدۃالقاری عینی، ارشادالساری قسطلانی)
اب ماموں پارٹی اپنے ماموں کے اعمال چیک کرے اور بتائے کہ کونسا عمل ہے جس سے ماموں اس بشارت کے لائق قرار پاتا ہے؟ کوئی بھی تو نہیں۔
نیز ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک عام حکم ہے۔ اور لا الہ الا اللہ کہنے کا تقاضا تو یہی ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو، لیکن اگر دوسرے گناہوں کا ارتکاب کرے تو وہ اس عام حکم سے خارج ہو جائے گا۔ لہذا ماموں جان بھی اپنے سنگین گناہوں و جرائم کی وجہ سے اس حدیث کے حکم عام سے خارج ہیں۔
نیز اس حدیث کا مفاد صرف یہ ہے کہ اس وقت کے گناہ بخش دیئے جائیں، نہ کہ اس کے بعد والے گناہ بھی بلکہ بعد میں افعال قبیحہ انجام دئیے تو اس نے بشارت سے محروم کردیا۔چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جو اس نے گناہ کئے وہ بخش دیئے جائیں، کیونکہ جہاد کفارات میں سے ہے اور کفارات کی شان یہ ہے کہ وہ سابقہ گناہوں کے اثر کو زائل کرتا ہے۔ بعد میں ہونے والے گناہوں کے اثر کو زائل نہیں کرتا۔ ہاں اگر اسی کے ساتھ یہ فرما دیا ہوتا کہ قیامت تک کے لئے اس کی بخشش کردی گئی ہے تو بے شک یہ حدیث اس کی نجات پر دلالت کرتی۔ اور جب یہ صورت نہیں تو نجات بھی ثابت نہیں۔( شرح تراجم ابواب البخاری ص ۳۱ )
حدیث ام حرام میں تا قیامت کے الفاظ موجود نہیں ہیں، لہذا بعد والے گناہوں نے بشارت سے خارج کردیا۔ اور یہ معلوم ہے کہ اول بحری جنگ زمانہ عثمان میں ہوئی، اس کے بعد ماموں نے بغاوت ، قتل عمار رض وغیرہ افعال قبیحہ انجام دئیے جس سے بشارت سے خارج قرار پائے۔ پس نواصب اہل شام کی گھڑی ہوئی حدیث 2924 سے بھی ماموں پارٹی اپنے ماموں کو بچانے میں ناکام رہی ہے،ان کی سعی بھی اس کے عظیم گناہوں و جرائم پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔   Kings Maker King-

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...