#ارض_فلسطین_خدا_کی_شاہی_خلعت_ہے
جب تاریخ سے تعلق رکھنے والی قرآنی آیتوں پر غور کیا جائے تو ارضِ فلسطین کے تعلق سے بڑے لطیف اور عجیب اشارات ملتے ہیں۔
جب بنی اسرائیل کو خیرِ امت کا منصب تفویض کرنے کی تیاری ہوئی تو سب سے پہلے انہیں فرعونیت کے استبداد سے نکال کر فلسطین کے دروازہ پر لاکھڑا کیا گیا اور اس سرزمین کے لیے جدو جہد کا حکم دیا گیا۔(جب انہوں نے اس حکم سے روگردانی کی تو چالیس سال تک ذلت ورسوائی ان پر مسلط رہی)
بنی اسرائیل کو بھی اس سرزمین کے تعلق سے واضح اشارات دے دیے گئے تھے کہ اس سرزمین کی ملکیت کو کسی قوم اور نسل کے لیے مخصوص نہیں رکھا گیا،تاکہ یہ منصب ہمیشہ جغرافیائی شناخت سے بالائے تر رہے اور اس کا محافظ وپاسباں ایسے گروہوں کو بنایا جاتا رہے جو خیر امت کے منصب کی شرائط کو پورا کریں گے۔ (يرثها عادي الصالحون) (الأرض لله يورثها من يشاء من عباده )۔
چنانچہ خیر امت کے منصب سے جیسے ہی بنی اسرائیل کو معزول کرنے کی تیاری ہوئی تو ان کے ہاتھ سے ارض مقدس کی تولیت چلی گئی۔
قرآن کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ سرزمین خدا کی شاہی خلعت ہے،اللہ تعالی نے جس قوم کو بھی عالمی قیادت وسیادت (منصب خیر امت) سے سرفراز فرمایا اسے سب سے پہلے ارضِ انبیاء (شام وفلسطین) کی تولیت کا کام سونپا اور وہاں قابض اقوام سے صف آرا ہونے کے لیے تیار کیا پھر دنیا کی رہبری کی زمام اس کے ہاتھ میں دی گئی۔
گویا اس سرزمین کی تولیت کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ خیر امت کے منصب کا تاج ہے اور ساتھ ہی خدا کےالطاف وعنایات کی وہ کنجی ہے جس کے حصول کے بعد خدا کی نصرت اور تائید کا حیرت انگریز سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
(یہاں غور کریں تو المحدث الملہم حضرت فاروق اعظم کے سفرِ شام وفلسطین کی معنویت کا ادراک آسان ہو جائے گا،بلاشبہ خلیفہ دوم امت کے لیے اس خدائی خلعت کو حاصل کرنے گئے تھے جو خیر امت کے منصب کا عظیم عملی مظہر تھی اور جس کے بعد عالمی اسٹیج پر امت نے علمی ، سیاسی ، روحانی واخلاقی سیادت کا کردار بھرپور طور پر سنبھالا) ۔
قرآن کی ان آیتوں میں امت محمدیہ کو بھی اشارات دیے گئے ہیں کہ بنی اسرائیل کی معزولی کے بعد اس سرزمین کے لیے سنجیدہ کوششیں اور طاقتور اقدامات کرنا پوری امت کا دینی فریضہ ہے اور یہ چیز امت کی رفعت وبلندی کی بڑی حد تک ضامن ہے۔
ساتھ ہی «ولا ترتدوا على أدباركم فتنقلبوا خاسرين»کے ضمن میں امت محمدیہ کے لیے بڑا عبرت ناک پیغام ہے ، یہ آیتیں واضح کردیتی ہیں کہ اس سرزمین کے تحفظ کا کام خدا کو اتنا عزیز ہے کہ اس کے تعلق سے کوتاہی اور ناقدری بالکل برداشت نہیں،لہذا جب کبھی امت کی جانب سے اس کے ساتھ استخفاف کا رویہ اپنایا جائے گا تو اس کے نتیجہ میں ذلت وخواری کا لباس پوری امت کے تن پر ڈال دیا جائے گا۔
No comments:
Post a Comment