Monday, January 12, 2026

نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا


نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور اپنی میراث کا مطالبہ کیا آنحضور ﷺ کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ آنحضرت ﷺ نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد ﷺ اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں ، خدا کی قسم ! جو صدقہ حضور اکرم ﷺ چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا ۔ جس حال میں وہ آنحضور ﷺ کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں ( اس کی تقسیم وغیرہ ) میں ، میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آنحضور ﷺ کا اپنی زندگی میں تھا ۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا ۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آنحضور ﷺ کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں ۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں ۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا ۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم ! آپ تنہا ان کے پاس نہ جانا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو خدا کی قسم ! ضرور ان کے پاس جاؤں گا ۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے ۔ علی رضی اللہ عنہ نے خدا کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ( کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا ) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے ( کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گیا اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ ﷺ کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے زیادہ عزیز ہے ۔ لیکن میرے اور آپ لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے حضور اکرم ﷺ کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا ۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا ۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا پھر علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے اس فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے ( کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا ) ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا ۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا ۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کر لی ہے ۔ بخاری،4240

نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور اپنی میراث کا مطالبہ کیا آنحضور ﷺ کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ آنحضرت ﷺ نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد ﷺ اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں ، خدا کی قسم ! جو صدقہ حضور اکرم ﷺ چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا ۔ جس حال میں وہ آنحضور ﷺ کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں ( اس کی تقسیم وغیرہ ) میں ، میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آنحضور ﷺ کا اپنی زندگی میں تھا ۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا ۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آنحضور ﷺ کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں ۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں ۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا ۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم ! آپ تنہا ان کے پاس نہ جانا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو خدا کی قسم ! ضرور ان کے پاس جاؤں گا ۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے ۔ علی رضی اللہ عنہ نے خدا کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ( کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا ) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے ( کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گیا اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ ﷺ کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے زیادہ عزیز ہے ۔ لیکن میرے اور آپ لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے حضور اکرم ﷺ کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا ۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا ۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا پھر علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے اس فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے ( کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا ) ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا ۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا ۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کر لی ہے ۔صحیح بخاری#4241
کتاب غزوات کے بیان میں
Status: صحیح
www.theislam360.com
عقیل نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے ان ( عروہ ) کو خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کی دختر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا ، وہ رسول اللہ ﷺ کے اس ورثے میں سے اپنی وراثت کا مطالبہ کر رہی تھیں جو اللہ نے آپ کو مدینہ اور فدک میں بطور فے دیا تھا اور جو خیبر کے خمس سے باقی بچتا تھا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا :’’ ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا ، ہم جو چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا اور محمد ﷺ کا خاندان اس مال میں سے کھاتا رہے گا ۔‘‘ اور اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ ﷺ کے صدقے کی اس کیفیت میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کروں گا جس پر وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں تھا ، اور میں اس میں اسی طریقے پر عمل کروں گا جس پر رسول اللہ ﷺ نے عمل فرمایا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کیا تو اس معاملے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ناراض ہو گئیں ، انھوں نے ان سے قطع تعلق کر لیا اور ان سے بات چیت نہ کی حتی کہ وفات پا گئیں ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں ، جب فوت ہوئیں تو ان کے خاوند حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انھیں رات کے وقت دفن کر دیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع نہ دی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہی ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کی توجہ تھی ، جب وہ وفات پا گئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے چہرے بدلے ہوئے پائے ، اس پر انھوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح اور بیعت کرنی چاہی ۔ انھوں نے ان ( چھ ) مہینوں کے دوران میں بیعت نہیں کی تھی ۔ انھوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے ہاں تشریف لائیں اور آپ کے ساتھ کوئی اور نہ آئے ۔۔۔ ( ایسا ) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آمد کو ناپسند کرتے ہوئے ( کہا ) ۔۔۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا : اللہ کی قسم ! آپ ان کے ہاں اکیلے نہیں جائیں گے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ان سے کیا توقع ہے کہ وہ میرے ساتھ ( کیا ) کریں گے ؟ اللہ کی قسم ! میں ان کے پاس جاؤں گا ۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ( خطبے اور ) تشہد کے کلمات کہے ، پھر کہا : ابوبکر ! ہم آپ کی فضیلت اور اللہ نے جو آپ کو عطا کیا ہے ، اس کے معترف ہیں ، ہم آپ سے خوبی اور بھلائی پر حسد نہیں کرتے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے ، لیکن آپ نے امارت ( قبول کر کے ) ہم پر من مانی کی ہے اور رسول اللہ ﷺ سے رشتہ داری کی بنا پر ہم سمجھتے تھے کہ ہمارا بھی کوئی حق ہے ( ہم سے بھی مشورہ کیا جاتا ) ، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کرتے رہے حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھیں بہہ پڑیں ۔ پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو کہا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے اپنی قرابت کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی قرابت نبھانا کہیں زیادہ محبوب ہے اور اس مال کی بنا پر میرے اور آپ لوگوں کے درمیان جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق سے نہیں ہٹا ، اور میں نے کوئی ایسا کام نہیں چھوڑا جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں کرتے ہوئے دیکھا تھا مگر میں نے بالکل وہی کیا ہے ۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا : بیعت کے لیے آپ کے ساتھ ( آج ) پچھلے وقت کا وعدہ ہے ۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو منبر پر چڑھے ، کلمات تشہد ادا کیے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حال ، بیعت سے ان کا پیچھے رہ جانے کا سبب اور ان کا وہ عذر بیان کی جو انھوں نے ان کے سامنے پیش کیا تھا ، پھر استغفار کیا ۔ ( اس کے بعد ) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کلمات تشہد ادا کیے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت بیان کی اور یہ ( کہا : ) کہ انھوں نے جو کیا اس کا سبب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقابلہ بازی اور اللہ نے انھیں جو فضیلت دی ہے اس کا انکار نہ تھا ، لیکن ہم سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں ہمارا بھی ایک حصہ تھا جس میں ہم پر من مانی کی گئی ہے ، ہمیں اپنے دلوں میں اس پر دکھ محسوس ہوا ۔ اس ( گفتگو ) پر مسلمانوں نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا ، انھوں نے کہا : آپ نے درست کہا ہے اور جب وہ پسندیدہ بات کی طرف لوٹ آئے تو مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے ۔

صحیح مسلم#4580
کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌  کے اختیار کردہ طریقے

Status: صحیح

www.theislam360.com

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...