کتاب اہلسنت سے ایسی روایت جو کہ ابھی تک قارئین نے شائد نہیں سنی ہوگی
کتاب خطط الشام
مصنف ۔۔۔محمد کرد علی
شام سے تعلق رکھنے والے اہل سنت کے جید عالم دین
کتاب «خطط الشام» ایسی کتاب ہے کہ تمام اہل سنت اسے قبول کرتے ہیں
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل ہوا ہے أمر الناس بخمس فعلموا بأربع وترکوا واحدہ
لوگوں کو پانچ چیزوں کا حکم دیا گیا انہوں نے چار چیزیں اپنا لیں اور ایک چھوڑ دی
ولما سئل عن الأربع قال: الصلاة والزکاة وصوم شهر رمضان والحج
سوال ہوا کہ وہ چار چیزیں کون سی ہیں ؟
کہا: نماز ، زکوة ، روزه اور حج
قیل: فما الواحد التی ترکوها ؟؟
پس وہ چیز کونسی ہے جس کو لوگوں نے ترک کیا؟
قال: ولایة علی بن أبی طالب علیہ السلام
کہا علی بن أبی طالب علیہ السلام کی ولایت
پھر لکھتے ہیں کہ
قیل له وإنما لمفروضة معهن؟
کیا ولایت علی بن أبی طالب بھی ان چاروں چیزوں کے ساتھ واجب ہے ؟
قال: هی مفروضة معهن
کہا بالکل ۔ علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت واجبات میں سے ہے
خطط الشام، ج 6، ص 245
مناقب علی بن أبی طالب میں ابن مردویه اصفهانی المتوفی 410 هجری نے لکھا ہے کہ. ابو سعید خدری رض سے پوچھا گیا
فما الواحدة الّتی ترکوها ؟
وہ ایک واجب کونسا ہے جس کو ترک کیا گیا؟
قال: ولایة علی بن أبی طالب علیہ السلام
کہا: ولایت علی بن أبی طالب.
وإنّها مفترضة معهنّ؟
آیا ولایت علی بن ابی طالب بھی باقی واجبات کی طرح واجب ہے؟
قال: نعم
کہا : ہاں.
قال: فقد کفر الناس ؟؟
سوال کرنے والے نے کہا پھر تو لوگ کافر ہوگئے ہیں (علی بن ابی طالب کی ولایت کو چھوڑ کر)
قال: فما ذنبی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس میں میرا کیا گناه ہے
مناقب علی بن أبی طالب؛ ص 72، ح 48
No comments:
Post a Comment