Thursday, January 8, 2026

⛔️ معاویہؓ کے حکم پر سیدنا علیؓ کے زیر حکمرانی علاقوں پر بسر بن ارطاط کی چھاپہ مار کاروائیاں،قتل وغارت گری اور اہل مدینے کے مکانات کا انہدام

⛔️    معاویہؓ کے حکم پر سیدنا علیؓ کے زیر حکمرانی علاقوں پر بسر بن ارطاط کی چھاپہ مار کاروائیاں،قتل وغارت گری اور اہل مدینے کے مکانات کا انہدام .

⚠️  امام قرطبی فرماتے ہیں :

عبید اللہ بن زیاد نے جن کرتوتوں کا ارتکاب کیا ایسی ہی کارستانیوں کا ارتکاب اسی قماش کا ایک اور شخص بشر بن ارطات عامری ابن زیاد سے پہلے کرچکا تھا جس نے اسلام کی ہتک کی تھی اور ناحق خون بہائے تھے اور لوگوں کو المناک موت کا مزہ چکھایا تھا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے حق اور عزت و حرمت تک کا بھی لحاظ نہ کیا۔ چنانچہ اس نے اہلِ بیت کرام رضی اللہ عنہم کے قتل کو روا رکھا ، ان کے سروں پر بزورِ شمشیر حکمرانی کی اور پھر بجلی کی سی تیزی سے ان کی موت کا فیصلہ کردیا اور عبد المطلب کے پوتے سیدنا عبید اللہ بن عباسؓ کے دو کمسن بیٹوں قثم اور عبد الرحمن کو ان کی والدہ کی اںکھوں کے سامنے جب وہ شاداں وفرحاں کھیل رہے تھے ، موت کے گھاٹ اتار دیا جس ماں کے دل پر اتنا شدید اثر ہوا کہ ایک طرح سے وہ بچوں کی جدائی پر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھیں۔

ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں ایک طویل حدیث نقل کی ہے۔ اس روایت میں صحابی رسول سیدنا ابو ذر غفاری کے متعلق لکھا ہے کہ ایک دن انہوں بنے نماز کو عام معمول سے ہٹ کر بہت زیادہ طول دیا ، لمبا قیام کیا اور لمبے رکوع اور سجود کے ساتھ نماز ادا کی اور پھر انہوں نے مصیبت کے دن سے اور بے پردہ اور عریانی کے زمانہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی۔ راوی کہتا ہے : ہم نے سوال کیا اے ابو ذر ! آپ نے کس چیز سے پناہ مانگی ہے اور کس بارے میں دعا کی ہے؟ انہوں نے فرمایا : مصیبت کے دن سے اور بے پردگی سے کیونکہ مسلمان عورتیں قید کر لی جائیں گی ، پھر ان کی منڈی لگے گی اور خواتین کی پنڈلیوں کو ننگاہ کرکے دکھایا جائے گا ، جس خاتون کی پنڈلیاں فربہ (اور خوبصورت) ہوں گی اس کا سودا ہوجائے گا تو میں نے اللہ عزوجل سے دعا کی ہے کہ میں وہ زمانہ نہ پاؤں اور شاید تم وہ زمانہ دیکھوگے۔

ابن عبد البر نے ’’ تاریخ الکبیر ‘‘ کے حوالہ سے بیان کیا ہے : أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن عبد المؤمن، أنبأنا أبو محمد إسماعيل بن محمد الحبطلي ببغداد في تاريخه الكبير، حدثنا محمد بن مؤمن بن حماد قال: حدثنا سلمان بن شيخ قال: حدثنا محمد بن عبد الحكم، عن عوانة قال :
سیدنا معاویہؓ نے تحکیم کے بعد بشر بن ارطات کو لشکر کے ہمراہ مدینہ بھیجا ، جب یہ لوگ شام سے چل کر مدینہ پہنچے تو ان دنوں أمیر المؤمنین سیدنا علیؓ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا ابو ایوب انصاریؓ مدینہ منورہ کے عامل (گورنر) تھے ، سیدنا ابو ایوب وہاں سے بھاگ کر سیدنا علیؓ کے پاس چلے گئے تھے۔ بشر بن ارطاۃ مدینہ میں داخل ہوا اور اس نے منبر شریف پر چڑھ کر کہا : ’’ میرے وہ بزرگ کہاں ہیں جن کے ساتھ کل کلاں عہد کیا تھا ‘‘ اس کی مراد سیدنا عثمان بن عفان تھے ، پھر کہا : ’’ اے اہلِ مدینہ ! واللہ ! اگر میں نے معاویہؓ سے وعدہ نہ کیا ہوتا تو مدینہ میں کسی بالغ شخص کو قتل کیے بغیر نہ چھوڑتا ‘‘ پھر اس نے اہلِ مدینہ کو حکم دیا کہ معاویہؓ کے لیے میرے ہاتھ پر بیعت کرو اور بنو سلمہ کے قبیلے کو اس نے پیغام بھیجا کہ تمہارے لیے کوئی امان نہیں ہے اور نہ ہی تم سے اس وقت تک میں بیعت لوں گا جب تک تم جابر بن عبد اللہؓ کو میرے پاس نہیں لے کر آتے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہؓ کو میرے پاس نہیں لے کر آتے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ کو جب خبر ہوئی تو وہ مدینہ سے نکل گئے یہاں تک شام کے وقت میں ام المؤمنین ام سلمہؓ کے پاس حاضر ہوئے اور ان کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کا کیا مشورہ ہے؟ کیونکہ یہ بیعت تو گمراہی کی بیعت ہے لیکن اگر میں بیعت نہیں کرتا تو اندیشہ ہے کہ مجھے قتل کردیا جائے گا۔ اُم المؤمنین سیدۃ ام سلمہؓ نے فرمایا : ’’ میرا مشورہ یہ ہے کہ تم بیعت کرلو کیونکہ میں نے اپنے بیٹے عمر بن ابی سلمہ کو بھی بیعت لینے کا حکم دیا ہے ‘‘۔ چانچہ جابر بن عبد اللہؓ نے بشر بن ارطاۃ کے پاس آکر معاویہؓ کے لیے اس کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ بشر نے مدینہ منورہ میں بیعت نہ کرنے والوں کے گھروں کو مسمار کرادیا تھا ، پھر وہ وہاں سے چلا گیا یہاں تک کہ مکہ معظمہ پہنچا ، وہیں سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ تھے ، جب انہیں بشر بن ارطاۃ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو ان کو اپنی جان کا ڈر ہوا کہ بشر بن ارطاۃ ان کو قتل کردے گا۔ چنانچہ وہ مکہ سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور بشر بن ارطاۃ کو جب اس واقعہ کی رپورٹ پہنچی تو اس نے کہا : ابو موسیٰ اشعریؓ کو میں قتل کرنے والا نہیں ہوں کیونکہ انہوں نے سیدنا علیؓ کی بیعت توڑ دی تھی۔ بشر بن ارطاۃ نے ان کو طلب نہیں کیا۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نے یمن خط لکھا کہ معاویہؓ کی طرف سے یمن پر گھوڑ سواروں کا دستہ بھیجا جارہا ہے جو اس مقصد کے لیے بھیجا جارہا ہے کہ جو لوگ معاویہؓ کی حکومت کو تسلیم نہ کریں ان کو قتل کردیا جائے ، پھر بشر بن ارطاۃ یمن چلا گیا۔ سیدنا علیؓ کی طرف سے یمن کے عامل اس وقت عبید اللہ بن عباسؓ تھے ، انہیں جب بشر بن ارطاۃ کی خبر ہوئی تو وہ وہاں سے کوفہ چل دیئے اور اپنی جگہ عبید اللہ بن عبد مدان حارثی کو شہر کا عامل مقرر کر گئے۔ بشر بن ارطاۃ نے عبید اللہ اور ان کے بیٹے کو قتل کردیا۔ عبید اللہ بن عباسؓ کے گھر بار سے جو کچھ بشر جو ملا اس میں عبید اللہ بن عباسؓ کے دو کمسن بیٹے بھی تھے۔ بشر نے ان دونوں بچوں کو بھی قتل کردیا اور پھر شام لوٹ گیا۔

ابو عمرو شیبانی کا بیان ہے بشر بن ارطاۃ کو معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کے حامیوں سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا تھا ، جب وہ مدینہ آیا تو اس نے عبید اللہ بن عباس کے دو بیٹوں کو قتل کیا تھا اور اہل مدینہ بھاگ کر حرہ جسے حرہ بنی سلیم کہتے تھے ، میں داخل ہوگئے تھے۔ ابو عمرو شیبانی نے اسی خروج کا ذکر کیا ہے۔ بشر نے ہمدان پر شب خون مارا اور بڑی لوٹ مار اور غارت گری کی ، عورتوں کو قیدی بنالیا۔ یہ پہلا واقعہ تھا کہ اسلام میں مسلمانوں عورتوں کو قیدی بنایا گیا ، اس نے بنی سعد کے مردوں کو قتل کردیا تھا اور عورتوں کو قید کرلیا تھا۔ اہلِ بیت کے دو بچوں کے قتل کے متعلق اختلاف ہے کہ وہ کہاں قتل کئے گئے تھے۔ آیا وہ مدینہ منورہ میں قتل ہوئے ، مکہ معظمہ میں یا یمن میں؟ کیونکہ بشر بن ارطاۃ ان تینوں شہروں میں داخل ہوا اور ہر جگہ اس نے قتل و غارت گری کا بازار بھی گرم کیا۔ سیدنا علیؓ کے ساتھ اپنے عناد کا مظاہرہ کیا اور فساد پھیلایا اور ان کے اہلِ بیت کے ساتھ بہت زیادہ بغض اور دشمنی کا ثبوت دیا۔ اہلِ بیت کرام پر اس نے لشکر مسلط کر رکھے تھے جنہوں نے قتل کرنے ، قیدی بنانے اور گھروں کو مسمار کرنے غرض کہ ہر ظلم اور زیادتی کی انتہا کردی تھی اور سب کچھ لوٹ کر لے گئے۔ صرف کھائیاں اور زمین میں گاڑے ہوئے کھونٹے اور کیل باقی رہ گئے۔ یمن پر معاویہؓ کی طرف سے بشر بن ارطاۃ نے 40 ھـ میں چڑھائی کی تھی ، جب وہاں سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کے بھائی عبید اللہ بن عباسؓ عامل تھے۔ عبید اللہ وہاں سے بھاگ نکلے تھے ، بشر بن ارطاۃ یمن میں ٹھہرا رہا ، حقیقت یہ ہے کہ بشر بن ارطاۃ نے اپنا دین و ایمان دنیا کی حقیر دولت کے عوض بیچ دیا اور بہت خسارے کا سودا کیا ، اس نے یمن میں بہت اودھم مچایا ، راستے خطرناک ہوگئے ، چراگاہیں اُجڑ گئیں ، خواتین کی بے حرمتی کی گئی یہاں تک کہ مسلمانوں کی عورتوں کو فروخت کرنے سے بھی اس نے گریز نہ کیا۔ سیدنا علیؓ نے بشر بن ارطاۃ کی تلاش میں جاریہ بن قدامہ سعدیؓ کو بھیجا تھا لیکن وہ شام کی طرف بھاگ گیا۔ اس نے دنیا میں بہت ننگ و عار اور ذلت و رسوائی کے کاموں کو اپنا شعار بنائے رکھا ، نہایت قبیح کردار کا حامل رہا ، دنیا میں تو اس نے اپنے برے افعال کی چادر اوڑھ لی لیکن آخرت میں جبار وقہار جو سب کچھ جاننے والا ہے ، اس مالک حقیقی کی عدالت میں ابھی تک فیصلہ ہونا باقی ہے ، یوم حساب ابھی آنا ہے جس کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے :

{يعرف المجرمون بسيماهم فيؤخذ بالنواصي والأقدام}

’’ مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں فے تو پیشانیوں اور پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں ڈالیں جائیں گے ‘‘ .

شریف (سید) ابو عبد اللہ محمد بلاد یمن کی طرف واپس لوٹ آئے اور سیدنا علیؓ کے قتل ہونے تک وہاں کے والی رہے۔

بشر بن ارطاۃ کی صحابیت کی تحقیق :

امام احمد بن حنبلؒ اور امام یحیی بن معینؒ اور دوسرے آئمہ حدیث فرماتے ہیں کہ :

« بشر بن ارطاۃ نے نبی کریم ﷺ سے ایک حرف کا سماع بھی نہیں کیا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے وصال فرمانے کے وقت وہ بہت کمسن تھا لہٰذا اس کے لیے رسول اللہ ﷺ کی صحبت ثابت نہیں ہے »۔

بعض دوسرے آئمہ حدیث فرماتے ہیں کہ : « بشر بن ارطاۃ کو آخر عمر میں انجائنا ہوگیا تھا »

یحیی بن معین نے کہا : « بشر بن ارطاۃ ایک برا شخص تھا »

قرطبی کہتے ہیں : « حافظ ابو الخطاب دحیہؒ نے بھی ایسا ہی کہا ہے »

دوسرا موقف :

امام ابو داؤد نے «عن جنادة، عن ابن أبي أمية سے روایت کی ہے کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ بشر بن ارطاۃ کے ساتھ سمندر میں سفر کر رہے تھے ، بشر کے پاس ایک منصور نامی شخص کو لایا گیا ، اس نے ایک اونٹنی چوری کی تھی۔ بشر بن ارطاۃ نے کہا : « میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنگ میں (چور کے) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے اگر رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث نہ ہوتی تو میں اس شخص کے ہاتھ کاٹ دیتا »

امام المحدثین ابو محمد عبد الحق فرماتے ہیں : « اس بشر بن ارطاۃ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانۂ مبارک میں پیدا ہوا ، تاہم اس کے متعلق تاریخ یہ بھی بیان کرتی ہے کہ سیدنا علی اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ اس کا رویہ بہت برا رہا ہے اور نیز یہی وہ شخص ہے جس نے سیدنا عبید اللہ ابن عباسؓ کے دو کمسن بیٹوں کو ذبح کردیا تھا اور ان بچوں کی والدہ محترمہ اس صدمہ کی وجہ سے اپنی عقل کھو بیٹھی تھیں۔ سیدنا علیؓ نے اس شقی القلب کے خلاف دعا کی تھی کہ اللہ اس کی عمر لمبی کرے اور اس کی عقل جاتی رہے اور اللہ نے ایسا ہی کردیا » (اور وہ پاگل ہوا اور سٹھیا کر اور سٹپٹا کر ہلاک ہوا)
ابنِ دحیہ بیان کرتے ہیں : « جب اس سنگدل نے ان دو چھوٹے بچوں کو ذبح کیا تو ان کی ماں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی ، موسم حج میں جب وہ اپنے کمسن بچوں کے اس بے دردی کے ساتھ ذبح کرنے کا ذکر کرتیں تو سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے اور ہر شخص اشکبار ہوجاتا اور لوگوں کی آہیں نکل جاتی تھیں۔ وہ ماں اپنے کمسن بچوں کو یاد کرتی اور یہ شعر پڑھتی تھیں : »

هامن أحس بإبني اللذين هما ... كالدرتين تسطا عنهما الصدف
« سنو ! میرے ان دو بچوں کو کس نے دیھا ہے؟ جو اس طرح چمک رہے تھے جیسے »

يقال تسطعت العصاة إذا صارت فلقاً، قاله في المجمل وغيره.
هامس أحس بإنبي اللذين هما ... سمعي وعقلي فقلبي اليوم مختطف

حدثت بشراً وما صدقت ما زعموا من قولهم ومن الإفك الذي اقترف
أحنى على ودجي إبني مرهف ... مشحوذة وكذاك الإثم يقترف

« سنو! میرے موتیوں ایسے دو لڑکوں کو کس نے دیکھا وہ دونوں میرے کان اور عقل تھے اور آج میں ان کو کھو کر عقل و حواس کھو بیٹھی ہوں کیونکہ مجھ سے کوئی میرا دل چھین کر لے گیا ہے۔ مجھے بتایا جاتا ہے کہ بشر نامی شخص نے تیرے بیٹوں کو ذبح کیا ہے ، مجھے لوگوں کی بات پر یقین نہیں آتا اور میں لوگوں کی اس بات کو ایک صاف جھوٹ قرار دیتی ہوں کیونکہ میرا دل نہیں آتا اور میں لوگوں کی اس بات کو ایک صاف جھوٹ قرار دیتی ہوں کیونکہ میرا دل نہیں مانتا کہ میرے ان بے گناہ اور معصوم بچوں کو کوئی سنگ دل اس بے دردی سے ذبح کرنے کے گناہ کا بھی ارتکاب کرسکتا ہے »

(كتاب التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة - [القرطبي، شمس الدين] - ص : 1124-1130) .
====================================================
ومثل صنيع عبيد الله بن زياد صنع قبله بشر بن أرطأة العامري الذي هتك الإسلام، وسفك الدم الحرام، وأذاق الناس الموت الزؤام، لم يدع لرسول الله صلى الله عليه وسلم الذمام، فقتل أهل بيته الكرام وحكم في مفارقهم الحسام، وعجل لهم الحمام ذبح ابني عبيد الله بن عباس بن عبد المطلب وهما صغيران بين يدي أمهما يمرحان، وهما قثم وعبد الرحمن، فوسوست أمهما وأصابها ضرب من الجان لم أشعله الثكل في قلبها من لهب النيران.

روى أبو بكر بن أبي شيبة في مصنفه في حديث فيه طول: كان أبو ذر الغفاري صاحب رسول الله يتعوذ من شر يوم البلاء ويوم العورة في صلاة صلاها أطال قيامها وركوعها وسجودها، قال: فسألناه مم تعوذت وفيم دعوت؟ فقال: تعوذت من يوم البلاء ويوم العورة، فإن نساء من المسلمات ليسبين ليكشف عن سوقهن، فأيتهن كانت أعظم ساقاً اشتريت على عظم ساقها، فدعوت الله عز وجل أن لا يدركني هذا الزمان ولعلكما تدركانه.

وذكر أبو عمر بن عبد البر قال: أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن عبد المؤمن، أنبأنا أبو محمد إسماعيل بن محمد الحبطلي ببغداد في تاريخه الكبير، حدثنا محمد بن مؤمن بن حماد قال: حدثنا سلمان بن شيخ قال: حدثنا محمد بن عبد الحكم، عن عوانة قال: أرسل معاوية بعد تحكيم الحكمين بشر بن أرطأة في جيش، فساروا من الشام حتى قدموا المدينة وعامل المدينة يومئذ لعلي عليه السلام أبو أيوب الأنصاري صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ففر أبو أيوب ولحق بعلي رضي الله عنهما.

ودخل بشر المدينة فصعد منبرها فقال: أين شيخي الذي عهدته هنا بالأمس يعني عثمان بن عفان، ثم قال يا أهل المدينة: والله لولا ما عهدته إلى معاوية ما تركت فيها محتلماً إلا قتلته، ثم أمر أهل المدينة بالبيعة لمعاوية، وأرسل إلى بني سلمة فقال ما لكم عند أمان ولا مبايعة حتى تأتوني بجابر بن عبد الله، فأخبر جابر فانطلق حتى جاء الشام فأتى أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فقال لها: ماذا ترين فإني خشيت أن أقتل وهذه بيعة ضلالة، فقالت: أرى أن تبايع وقد أمرت ابني عمر بن أبي سلمة أن يبايع فأتى جابر بشراً فبايعه لمعاوية، وهدم بشر دوراً بالمدينة، ثم انطلق حتى أتى مكة وبها أبو موسى الأشعري، فخاف أبو موسى.

على نفسه أن يقتله فهرب فقيل ذلك لبشر، فقال: ما كنت لأقتله وقد خلع علياً..

ولم يطلبه وكتب أبو موسى إلى اليمن أن خيلاً مبعوثة من عند معاوية تقتل من الناس من أبى أن يقر بالحكومة، ثم مضى بشر إلى اليمن وعامل اليمن لعلي رضي الله عنه عبيد الله بن العباس، فلما بلغه أمر بشر فر إلى الكوفة واستخلف على المدينة عبيد الله بن عبد مدان الحارثي، فأتى بشر فقتله وقتل ابنه، ولقي ثقل عبيد الله بن العباس وفيه ابنان صغيران لعبيد الله بن عباس فقتلهما ورجع إلى الشام.

وذكر أبو عمرو الشيباني قال: لما وجه معاوية بشر بن أرطاة لقتل شيعة علي رضي الله عنه سار إلى أن أتى المدينة، فقتل ابني عبيد الله بن العباس، وفر أهل المدينة حتى دخلوا الحرة حرة بني سليم، وهذه الخرجة التي ذكر أبو عمرو الشيباني أغار بشر على همدان فقتل وسبى نساءهم، فكن أول نساء سبين في الإسلام وقتل أحياء من بني سعد.

وقد اختلفوا كما ترى في أي موضع قتل الصغيرين من أهل البيت هل في المدينة أو في مكة أو في اليمن، لأنه دخل هذه البلاد وأكثر فيها الفساد وأظهر لعلي رضي الله عنه العناد، وأفرط في بعضه وزاد وسلط على أهل البيت الكريم الأجناد، فقتل وسبى وأباد ولم يبق إلا أن يخد الأخاديد ويعد الأوتاد، وكان معاوية قد بعثه في سنة أربعين إلى اليمن وعليها عبيد الله ابن العباس أخو عبد الله بن العباس، ففر عبيد الله وأقام بشر باليمن وباع دينه ببخس من الثمن فأخاف السبيل ورعى المرعى الوبيل، وباع المسلمات وهتك المحرمات، فبعث علي رضي الله عنه في طلبة حارثة بن قدامة السعدي، فهرب بشر إلى الشام، وقد ألبس بذميم أفعاله ثياب العار والذمام وبقي الوقوف بين يدي الملك العلام {يعرف المجرمون بسيماهم فيؤخذ بالنواصي والأقدام} ورجع الشريف أبو عبد الله محمد إلى بلاد اليمن، فلم يزل والياً عليهم حتى قتل علي رضي الله عنه.

ويقال: إن بشر بن أطأرة لم يسمع من النبي صلى الله عليه وسلم حرفاً لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض وهو صغير فلا تصح له صحبة.

قاله الإمام أحمد بن حنبل ويحيى بن معين وغيرهما، وقال آخرون: خوف في آخر عمره.

قال يحيى بن معين: وكان الرجل سوء.

قال المؤلف رحمه الله: كذا ذكره الحافظ أبو الخطاب بن دحية رحمه الله.

وقد ذكر أبو داود، «عن جنادة، عن ابن أبي أمية قال: كنا مع بشر بن أطأرة في البحر فأتى بشارق يقال له منصور وقد سرق بختية، فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تقطع الأيدي في الغزو ولولا ذلك لقطعته» .

قال أبو محمد عبد الحق: بشر هذا يقال ولد في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكانت له أخبار سوء في جانب علي وأصحابه، وهو الذي ذبح طفلين لعبيد الله بن العباس، ففقدت أمهما عقلها وهامت على وجهها، فدعا عليه علي رضي الله عنه أن يطيل الله عمره ويذهب عقله، كان كذلك، قال ابن دحية: ولما ذبح الصغيرين وفقدت أمهما عقلهما كانت تقف في الموسم تشعر شعراً يبكي العيون ويهيج بلابل الأحزان والعيون وهو هذا:
هامن أحس بإبني اللذين هما ... كالدرتين تسطا عنهما الصدف
يقال تسطعت العصاة إذا صارت فلقاً، قاله في المجمل وغيره.
هامس أحس بإنبي اللذين هما ... سمعي وعقلي فقلبي اليوم مختطف حدثت بشراً وما صدقت ما زعموا من قولهم ومن الإفك الذي اقترف أحنى على ودجي إبني مرهف ... مشحوذة وكذاك الإثم يقترف

(كتاب التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة - [القرطبي، شمس الدين] - ص : 1124-1130) . -ابو محمد السلفی 

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...