معاویہ کے بارے میں ائمہ اہلسنت کا عقیدہ
امام بخاری کے استاد امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمار نے اپنے لوگوں سے فرمایا
شام والوں کو کافر نہ کہو، انہیں فاسق اور ظالم کہو۔
(دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ 38997 ، یہ حدیث صحیح ہے)
ماتریدی عقائد کے بڑے ترجمان ،حنفی عالم جلیل علامہ سعدالدین تفتازانی شرح المقاصد میں لکھتے ہیں
صحابہ کے درمیان جو اختلافات اور جنگیں ہوئیں ان کے بارے میں ثقہ راویوں کے بیانات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بعض صحابہ حق سے منحرف ہو گئے تھے، اور ظلم اور فسق کی حد تک پہنچ گئے تھے، اس کی وجہ حسد ، جلن، نفرت، عداوت اور حکومت و ریاست کی طلب ، اور خواہشات اور شہوات کی طرف میلان تھا صحابی معصوم نہیں تھے، اور نہ ہر وہ شخص جو نبی سے ملا صاحب خیر ہے۔
(دیکھئے شرح المقاصد صفحہ 310)
علامہ ابن الہمام حنفی فتح القدیر میں لکھتے ہیں
ظالم بادشاہ سے کسی علاقے کی گورنر شپ قبول کرنا جائز ہے، جیسا کہ بعض صحابہ نے معاویہ کی طرف سے گورنر شپ قبول کی ( جس سے یہ ظاہر ہے کہ معاویہ ظالم بادشاہ تھے )
(دیکھئے فتح القدیر جلد 7 ص 225 )
محدث جلیل علامہ شوکانی اپنی کتاب (وبل الغمام علی شفاء الاوام) میں لکھتے ہیں:
’’معاویہ نے دنیا اور حکومت کی طلب میں ایسے لوگوں کو استعمال کیا جو نہ کسی بھلائی کو نہیں جانتے تھے ، نہ کسی برائی سے رکتے تھے، معاویہ نے ان کو یہ دھوکہ دیا کہ وہ عثمان کا قصاص طلب کر رہے ہیں ۔
( دیکھئے وبل الغمام علی شفاء الاوام صفحہ 416)
حضرت علامہ سید صدیق حسن خان قنوجی نے فرمایا
معاویہ کے دل میں دھوکہ اور دنیاوی حکومت کا لا پچ تھا ، اس کی نیت اصلاح کی نہیں تھی۔
دیکھئے الروضة الندية شرح الدررالبية
الجزء الثانی صفحہ 773
حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی فتاوی عزیزی میں فرماتے ہیں
اہل بیت کی محبت فرائض ایمان میں ہے ۔ مروان ملعون کو برا کہنا چاہیے ، اور دل سے اس سے بیزار رہناچاہئے ۔ اس نے اہلبیت اور حضرت امام حسین کے ساتھ بڑی بدسلوکیاں کیں ۔ وہ ان سے کامل عداوت رکھتا تھا ،اس وجہ سے اس شیطان سے نہایت بیزار رہنا چاہیے۔
معاویہ کے بارے میں محققین محدثین نے روایات کی تحقیق کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ معاویہ کی حرکات شائبہ نفسانی سے خالی نہ تھیں، ان کی وجہ سے وہ مرتکب کبیرہ اور باغی قرار پاۓ ، ہاں فاسق پر لعنت نہ کی جاۓ ۔
دیکھئے فتاویٰ عزیزی صفحہ 413
حضرت شاہ صاحب نے تحفہ اثنا عشریہ میں معاویہ کی بغاوت کو گناہ کبیرہ قرار دیا ہے جو مستوجب فسق ہے ۔(دیکھئے اردو ترجمہ صفحہ 360) Zafar Mirza-
حافظ علی ابن جعد (استاد امام بخاری ) : معاویہ اسلام سے خارج ہو کر مرا
حوالہ: مسائل احمد ابن حنبل جلد دوم صفحہ 154، روایت 1866
مسائل احمد ابن حنبل جلد دوم صفحہ 154، روایت 1866
نوٹ : علی ابن جعد امام بخاری کے استاد تھے اور جنہیں امام اور حافظ کے القاب سے نوزا گیا. (سیر اعلام النبلاء، جلد 10، ص 459-468)منقول
No comments:
Post a Comment