ایک پراسرار کائنات: ہائزنبرگ کا اصول
ڈاکٹر سہیل زبیری
بیسویں صدی کے شروع میں جو قوانین فطرت دریافت ہوئے، انہوں نے کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات میں ایک انقلابی سوچ کو جنم دیا۔ نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین ہماری سائنسی سوچ کی بنیاد بن گئے تھے۔ یہ قوانین ہماری روزمرہ کی چیزوں کے لئے بہت درست نظر آتے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق ہم قطعی درستگی کے ساتھ کسی بھی خصوصیت کی پیمائش کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ جب کوئی ذرہ حرکت کر رہا ہوتا ہے تو ہم بغیر کسی ابہام کے اس کی پوزیشن اور اس کی رفتار دونوں کی پیمائش کر سکتے ہیں۔
ورنر ہائزنبرگ نے 1927 میں دریافت کیا کہ کوانٹم مکینیکل قوانین کے مطابق یہ ناممکن ہے۔ اگر ہم کسی شے کی پوزیشن کو بہت درست طریقے سے جان لیں تو اس کی رفتار انتہائی غیر یقینی ہو جاتی ہے اور جب ہم رفتار کو زیادہ درستگی سے ماپتے ہیں تو اس کی پوزیشن انتہائی غیر یقینی ہو جاتی ہے۔ اس قانون کو ہائزنبرگ کے بے یقینی کے اصول (Heisenberg uncertainty priciple) کے نام سے جانا جا تا ہے۔
پر اسرار بات یہ ہے کہ اس حیرت انگیز نتیجے کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ ہمارے ماپنے کے آلات کتنے درست ہیں۔ ہمارے پیمائش کے آلات کتنے آئیڈیل کیوں نہ ہوں، ہم ایک وقت میں کسی ذرے کی پوزیشن اور رفتار کامل درستگی کے ساتھ نہیں ماپ سکتے۔
ایسا کیوں ہے؟
یہ کیسے ممکن ہے؟
اس مضمون میں میں سادہ دلائل پیش کرنے کی کوشش کروں گا جن سے اس انتہائی حیران کن نتیجے کو سمجھا جا سکے۔
میں نے پچھلے مضامین میں بحث کی ہے کہ کوانٹم میکانکس کی بنیاد ویو پارٹیکل ڈوئلٹی کے اصول پر رکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، میں نے روشنی پر اپنے مضمون میں ذکر کیا تھا کہ تھامس ینگ کے ڈبل سلٹ تجربے جیسے تجربات ہیں جن میں روشنی لہر کی طرح کام کرتی ہے۔ اس کے بعد ایسے تجربات ہیں، جیسے الیکٹران کا اخراج جب روشنی کسی دھات پر پڑتی ہے، جن کی وضاحت صرف روشنی کو ذرات یا فوٹون پر مشتمل مان کر ہی کی جا سکتی ہے۔
1924 میں ایک فرانسیسی پی ایچ ڈی کے طالب علم لوئس ڈی بروگلی نے استدلال کیا کہ، اگر روشنی ایک لہر اور ایک ذرہ دونوں کی طرح برتاؤ کر سکتی ہے، تو الیکٹران جیسے ذرے کو بھی کچھ تجربات میں لہر کی طرح اور کچھ دوسرے تجربات میں ذرے کی طرح برتاؤ کرنا چاہیے۔ یہ ایک انقلابی سوچ تھی جس نے کوانٹم مکینکس کی دریافت میں اہم کردار ادا کیا۔
مثال کے طور پر، ایک تاریخی تجربے میں یہ دکھایا گیا کہ الیکٹران ایک ڈبل سلٹ تجربے میں اسی طرح لہر کا سا برتاؤ کرتا ہے جس طرح روشنی۔ لیکن پھر اس طرح کے بے شمار تجربات ہیں جہاں الیکٹران اپنی ذرہ جیسی فطرت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہم برقی کرنٹ کو سمجھنے کے لیے ایک الیکٹران کو ایک خاص کمیت اور چارج والے ذرے کی طرح سمجھتے ہیں۔
اب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم کسی بھی چیز کی پوزیشن اور رفتار کو مکمل درستگی کے ساتھ ناپ نہیں سکتے۔ اور اس حیرت ناک نتیجے کی بنیاد wave۔ particle duality پر کس طرح ہے۔
ہائزنبرگ کے اصول کی بنیاد کیا ہے؟
یہاں میں صرف اس بات کا تذکرہ کرتا ہوں کہ یہ پیمائش کا عمل ہے جو غیر یقینی صورتحال کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔
1927 میں لکھے گئے اپنے مقالے میں ہائزنبرگ نے کسی چیز کی پوزیشن کی تعریف یوں کی:
”اگر کوئی اس بارے میں واضح ہونا چاہتا ہے کہ ’کسی چیز کی پوزیشن‘ سے کیا مراد ہے، مثال کے طور پر ایک الیکٹرون۔ تو اسے ایسے مخصوص تجربات بتانے ہوں گے جن کے ذریعے ’الیکٹرون کی پوزیشن‘ کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔ ورنہ اس اصطلاح کا کوئی مطلب نہیں ہے۔“
مثال کے طور پر، اگر ہم ایک الیکٹرون کی پوزیشن کی پیمائش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک خوردبین جیسا آلہ لانا ہو گا۔ یہ سب سے پہلے الیکٹرون کو روشن کرے گا اور پھر بکھری ہوئی روشنی کو دیکھ کر الیکٹرون کی پوزیشن کا تعین کرے گا۔ روشنی فوٹون پر مشتمل ہوتی ہے جو ذرات کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ کسی دوسرے ذرے کی طرح، جب فوٹون الیکٹرون سے ٹکراتے ہیں، تو الیکٹرون کی جگہ اور رفتار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
اس منظر نامے کو سمجھنے کے لیے، فرض کریں کہ ہم ایک مکمل تاریک کمرے میں ہیں جس میں ایک چھوٹی سی چیز حرکت کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس چیز کی پوزیشن کا تعین کیسے کیا جائے؟ ایسا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس چیز پر روشنی کی کرن بھیجیں اور منعکس روشنی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ روشنی کس رخ سے آئی ہے، اس سے اس چیز کی پوزیشن کا تعین ہو جائے گا۔ چونکہ روشنی کی کرنیں فوٹون پر مشتمل ہوتی ہیں جو ذرات کی طرح کام کرتے ہیں، اس لیے اس چیز کی پوزیشن کی پیمائش کے عمل میں روشنی کے فوٹون اس چیز سے ٹکرائیں گے اور اس طور اس چیز کی رفتار متاثر ہو گی، بالکل اس طرح جیسے کسی چیز سے کوئی اور چیز ٹکرا جائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اگر ہم اس چیز کی پوزیشن کے بارے میں صحیح طور پر جان لیں تو ہم اس چیز کی رفتار کی پیمائش نہیں کر پائیں گے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ پیمائش کا عمل کسی بھی چیز کو اس طرح ڈسٹرب کر دیتا ہے کہ اس چیز کی پوزیشن اور رفتار ایک ساتھ ماپنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
اس توجیہ سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ ہائزن برگ کے اصول کی بنیاد یہ ہے کہ جب ہم کسی شے کی کوئی خصوصیت معلوم کرنا چاہتے ہیں تو پیمائش کے پراسس میں اس کی دوسری خصوصیت متاثر ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کسی چیز کی پوزیشن معلوم کرنا چاہیں تو پیمائش کے نتیجے میں اس کی رفتار متاثر ہو کی۔
اس مثال سے یہ بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہم کو روزمرہ زندگی میں کوانٹم اثرات کیوں نظر نہیں آتے۔ یہ اس لئے کہ الیکٹرون اور ایٹم سے بڑی چیزوں کی پوزیشن اور رفتار کی پیمائش پر روشنی کی کرن کا اثر بہت کم ہوتا ہے۔ مثلاً ہم بظاہر ایک گیند کی پوزیشن اور رفتار کو بیک وقت ایک صوابدیدی درستگی کے ساتھ پیمائش کرنے کے قابل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روشنی کے فوٹون اس پر بہت معمولی حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم دھول کے ذرے کی پوزیشن کو ایک میٹر کے دس لاکھویں حصے کی درستگی اور رفتار کو ایک ٹریلینویں میٹر فی سیکنڈ کی درستگی کے ساتھ پیمائش کر سکتے ہیں۔ گیند جیسی بڑی چیز کے لیے، غیر یقینی صورتحال اور بھی چھوٹی ہوتی ہے۔ بڑی اشیاء کے لیے، ہمیں پوزیشن اور رفتار کی پیمائش میں کوانٹم مکینکس سے وابستہ غیر یقین نوعیت دیکھنے کے لیے انتہائی درست پیمائش کرنے والے آلات کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے ماپنے والے آلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔ لیکن الیکٹرون اور ایٹم جیسی چھوٹی اشیا پر روشنی کا اثر قابل پیمائش ہے۔
ہائزن برگ کے اصول کو سمجھنے کا ایک اور آسان طریقہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جب روشنی ایک چھوٹے سے سوراخ میں سے گزرتی ہے تو پھیل جاتی ہے۔ اگر یہ روشنی ایک سکرین پر پڑے تو ایک بڑا سا روشن دائرہ نظر آئے گا۔ سوراخ جتنا چھوٹا ہو گا، روشن دائرہ اتنا بڑا ہو گا۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس سادہ مشاہدے سے ہائزن برگ کے اصول کو کس طرح سمجھا جا سکتا ہے۔
اس مقصد کے لئے روشنی کی کرن کے بجائے، ہم ایک الیکٹرون پر غور کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ الیکٹرون ایک چھوٹے سے سوراخ سے گزر کر سکرین پر کہاں پایا جائے گا؟
اب اگر ہم الیکٹرون کو ایک ذرہ تصور کریں تو جواب سادہ ہے، الیکٹرون سیدھے راستے پر چلتے ہوئے سکرین کے مرکز میں جا کر ٹکرائے گا۔
لیکن کوانٹم مکینکس کے مطابق تو الیکٹرون اس تجربے میں لہر کی طرح برتاؤ کرے گا۔ ڈی بروگلی کے مطابق الیکٹرون ایک ایسی لہر کی طرح برتاؤ کرے گا جس کی طول موج (wavelength) کا تعلق اس بات سے ہو گا کہ الیکٹرون کس رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔ اگر الیکٹرون کی رفتار آہستہ ہے تو اس کی طول موج بڑی ہو گی، اور اگر اس کی رفتار تیز ہے تو اس کی طول موج چھوٹی ہو گی۔ اس طرح، الیکٹرون روشنی کی لہروں کی طرح برتاؤ کرے گا۔
لیکن الیکٹرون اور روشنی کی لہر میں ایک بنیادی فرق ہے۔
روشنی کی لہر تو سوراخ سے گزر کر سکرین پر پھیل جائے گی۔ بالکل اسی طرح الیکٹرون کی لہر بھی سکرین پر پھیل جائے گی۔ لیکن الیکٹرون کی لہر کوئی اصلی لہر نہیں، یہ تو ایک امکانی لہر ہے۔ سکرین پر جہاں لہر گہری ہو گی وہاں الیکٹرون کے پائے جانے کا امکان زیادہ ہو گا۔ اس طور سکرین کے مرکز میں الیکٹرون کے پائے جانے کا امکان زیادہ ہو گا، اور جیسے جیسے مرکز سے دور ہوتے جائیں گے، الیکٹرون کے پائے جانے کا امکان کم ہوتا جائے گا۔ روشنی کی طرح، اگر سوراخ چھوٹا ہو گا، تو سکرین پر الیکٹرون کے پائے جانے کا امکان ایک بڑے دائرے میں ممکن ہو گا اور اگر سوراخ بڑا ہو گا تو الیکٹرون سکرین کے مرکز کے نزدیک پایا جائے گا۔
اب ہم اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں اور یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم الیکٹرون کی پوزیشن اور رفتار کو کس حد تک بہتر طریقے سے ناپ سکتے ہیں۔
ہم عمودی سمت میں الیکٹرون کی پوزیشن اور رفتار ماپنے کے مسئلے پر غور کرتے ہیں۔
ہم سب سے پہلے نوٹ کرتے ہیں کہ، الیکٹرون سوراخ میں سے کہیں سے بھی گزر سکتا ہے۔ اس لئے اگر سوراخ چھوٹا ہے تو ہم الیکٹرون کی پوزیشن کو بہت درست طریقے سے ناپ سکتے ہیں۔ اس طور عمودی سمت میں الیکٹرون کی پوزیشن کا اچھی طرح تعین کیا جا سکتا ہے۔
اگر سکرین پر مرکزی نقطہ پر الیکٹرون پایا جائے تو کوئی انحراف نہیں ہوتا اور الیکٹران کی رفتار کا عمودی جزو صفر ہوتا ہے۔ تاہم، اگر یہ مرکز سے دور پایا جائے، تو رفتار کا عمودی جزو غیر صفر ہونا چاہیے۔
آئیے اب عمودی سمت میں الیکٹران کی رفتار میں پھیلاؤ یا غیر یقینی صورتحال کے سوال کی طرف لوٹتے ہیں۔ ایک بہت ہی چھوٹے سوراخ سے گزرتے ہوئے، الیکٹرون سے وابستہ لہر بہت زیادہ پھیلتی ہے بالکل اسی طرح جیسے روشنی ایک بہت ہی تنگ سوراخ سے گزرتے ہوئے پھیلتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے کی ایک بڑی رینج ہے جہاں سکرین پر الیکٹرون کے پائے جانے کے امکانات ہیں۔ نتیجہ یہ کہ عمودی رفتار میں غیر یقینی صورتحال بڑی ہو جاتی ہے۔
اس طرح، ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر سوراخ چھوٹا ہے تو ہم پوزیشن کو بہت درست طریقے سے ناپ سکتے ہیں اور الیکٹرون کی پوزیشن میں غیر یقینی صورتحال کم ہو گی۔ تاہم، اس صورت میں، الیکٹرون سے وابستہ لہر پھیلتی ہے اور اس کے نتیجے میں عمودی سمت میں رفتار کا جزو بہت غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر سوراخ بڑا ہو تو ہمیں نہیں معلوم کہ الیکٹران کہاں سے گزرا اور اس کے نتیجے میں الیکٹرون کی پوزیشن بہت غیر یقینی ہے۔ تاہم، اس صورت میں لہر کا پھیلاؤ بہت کم ہے، اور ہم اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ عمودی سمت میں یہ کتنی تیزی سے حرکت کر رہا ہے۔
یہ ہائزن برگ کے حیران کن اصول کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
اب ایک اہم سوال ذہن میں ابھرتا ہے۔
جب یہ کہا جاتا ہے کہ پوزیشن یا رفتار کی پیمائش میں غیر یقینی عنصر ہے۔ تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دراصل ذرے کی پوزیشن اور رفتار تو مکمل طور پر متعین ہیں، بس پیمائش کی نوعیت ایسی ہے کہ ہم کسی طور ان کو مکمل یقین کے ساتھ معلوم نہیں کر سکتے؟
حیران کن طور پر کوانٹم میکانکس کے مطابق یہ کہنا بالکل درست نہیں۔ کوانٹم میکانکس کے مطابق پیمائش سے پہلے پوزیشن اور رفتار جیسی خصوصیات کا وجود نہیں۔ یہ خصوصیات پیمائش کے نتیجے میں وجود میں اتی ہیں۔
یہ نتائج کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
ڈاکٹر سہیل زبیری
ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔
No comments:
Post a Comment