Sunday, January 11, 2026

تحفظ توحید کے نام پر کتب اسلاف میں تحریف (2)-تحریر ۔اسید الحق عاصم قادری

تحفظ توحید کے نام پر کتب اسلاف میں تحریف (2)
-تحریر ۔اسید الحق عاصم  قادری

امام مسلم کی عقیدت ومحبت کا یہ واقعہ جو سات سطروں میں مصنف نے نقل کیا تھا وہ بھی سعودی نسخے میں ’’اختصار وترتیب ‘‘کی نذر ہوگیا ،اسی فصل کے آخر میں ایک ذیلی عنوان تھا’’ السر فی عدم شیوعہ التقبیل فی تحیتہ ﷺ‘‘اس عنوان کے تحت ڈھائی صفحات لکھے گئے تھے ،سعودی نسخے میںیہ ذیلی عنوان مع ان ڈھائی صفحات کے موجود نہیں ہے ،چھٹی فصل کا عنوان ہے الفصل السادس فیما جاء فی القرآن فی فضل الرسول ﷺ(چھٹی فصل قرآن کریم کی ان آیات کے بیان میں جو حضور ﷺ کی فضیلت میں ہیں)اس فصل میں مصنف نے قرآن کریم کی ۲۵ آیات کریمہ نقل کی ہیں جن میں اللہ کے رسول ﷺ کے مقام ومرتبہ اور فضیلت وعظمت کا بیان ہے ،قرآن کریم سے سرور کائناتﷺ کا مقام ومرتبہ بیان کرنے کے بعد مصنف نے مختلف پہلوؤں سے بڑے دل آویز انداز میں فضائل رسالت مآب کا ذکر فرمایا ہے ،اور ساتھ ہی امام بوصیری سمیت بہت سے عاشقان رسول کے مدحیہ قصائد کے منتخب اشعار سے کتاب کو زینت بخشی ہے،یہ پوری گفتگو تقریباً دس صفحات پر مشتمل ہے ،ان میں بہت سے اشعار ایسے بھی ہیں جو شاید سعودی مرتبین کے نزدیک ’’شرک‘‘ پر مبنی ہوں ،لہٰذاعقیدۂ توحید کے تحفظ کے لیے انہوں نے ان دس صفحات کو حذف کرنا ضروری سمجھا -
یہ تحریف وتلفیق صرف عالم عرب ہی میں نہیں ہوئی ہے بلکہ بر صغیر کے ناشران کتب بھی اس کے مرتکب ہوئے ہیں،گذشتہ نصف صدی سے مدارس اسلامیہ کی نصابی کتابوں کے ساتھ جو ستم کیا جارہا تھا اس کی حقیقت تو اس وقت کھلی جب کچھ صاحبان ہمت نے جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں ’’مجلس البرکات‘‘قائم کرکے درسی کتب،ان کی شروح اور حواشی کو ان کے حقیقی مصنفین کے نام سے شائع کردیا ،ورنہ اس سے پہلے بعض ناشرین کتب ان اہم حواشی کو اپنی جماعت کے علما کی علمی خدمات کے کھاتے میں ڈالے ہوئے تھے-
مسند الہندشاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے عظیم الشان خانوادے کے علما کی تصنیفات میں جو تحریف والحاق اور حذف واضافات کیے گئے ہیںوہ خود ایسا وسیع موضوع ہے جوایک مستقل مقالے کا متقاضی ہے ،یہاں تو یہ ستم بھی کیا گیا کہ پوری پوری کتابیں تصنیف کرکے ان حضرات کی طرف منسوب کردی گئیں،کم ازکم دو کتابوں کے بارے میں حتمی طور سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ شاہ ولی اللہ کی نہیں ہیں بلکہ کسی نے ان کو تصنیف کرکے شاہ صاحب کی طرف منسوب کیا ہے،ایک تحفۃ الموحدین،اور دوسری البلاغ المبین -پروفیسر ایوب قادری نے تاریخی حوالوں ،شواہد وقرائن اور خود شاہ صاحب کے تلامذہ واہل خاندان کے حوالوں سے ان دونوں رسالوں کے جعلی ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے( ۱۵ ) سوال یہ ہے کہ تحفۃ الموحدین نامی رسالے میں ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے اس کو شاہ صاحب کی طرف منسوب کیا گیا؟اس کا جواب دارالعلوم دیوبند کے مستند اور نامور فرزند جناب منظور نعمانی صاحب کے اس دعویٰ میں آپ خود تلاش کرلیں،وہ فرماتے ہیں:
’’شاہ ولی اللہ کی کتاب تحفۃ الموحدین گویا متن ہے اور ان کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی کی کتاب تقویۃ الایمان اس کی شرح‘‘( ۱۶)
اس پر سید فاروق القادری مترجم ’’انفاس العارفین ‘‘کا یہ دلچسپ ریمارک بھی ملاحظہفرمالیں:
’’اس سے آپ اندازہ لگا لیجیے کہ متن بھی خود ساختہ اور اس کی شروح وتفصیلات بھی من مانی اور ستم یہ کہ پھر بھی اسے فکر ولی اللہی کا نام دیا جاتا ہے ‘‘-(۱۷)
تحفۃ الموحدین، البلاغ المبین اور قول سدید وغیرہ کے جعلی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے خانوادۂ ولی اللّٰہی کے آثار و معارف کے مستند محقق مولانا محمود احمد برکاتی فرماتے ہیں:
’’مندرجہ رسائل اہل سنت والجماعت کے نظریات سے متصادم نظریات اور وہ متشددانہ افکار پیش کیے گئے ہیں جن کو یہ حضرات تمسک بالکتاب والسنۃ کا نام دیتے ہیں اور جو کتاب التوحید کی بازگشت ہیں‘‘(۱۸)-
شاہ صاحب کی کتاب ’’تفہیمات‘‘ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدرآباد سندھ نے شائع کی تو اس میں یہ عبارت بھی موجود تھی
’’کل من ذہب الی بلدۃ اجمیراو الی قبر سالار مسعوداو ما ضاہاہالاجل حاجۃ یطلبہافانہ اثم اثماً اکبر من القتل والزنالیس مثلہ الا مثل من کان یعبد المصنوعات او مثل من یدعوااللات والعزیٰ‘‘(۱۹ )
ہر وہ شخص جو شہر اجمیر یا سالار مسعودکی قبر یا ان سے مشابہ کسی جگہ اپنی حاجت طلب کرنے جائے تو اس نے ایسا گناہ کیاجو قتل اور زنا کے گناہ سے بھی بڑا ہے ،یہ شخص اس شخص کی طرح ہے جو بنائی ہوئی چیزوں کی عبادت کرتا ہے ،یا اس کی طرح جو لات وعزّیٰ کو پکارتا ہے
اس عبارت کو سامنے رکھ کر آپ شاہ صاحب کی دوسری کتب مثلاً انفاس العارفین،فیوض الحرمین ،الدرالثمین ،الانتباہ فی سلاسل اولیا ء ا للہ،اور ان کے ملفوظات القول الجلی کی صرف اگر فہرست مضامین پر ایک سرسری سی نظر ڈال لیں تو آپ (بشرط ا نصاف) ہر گز اس بات کو تسلیم کرنے کو راضی نہ ہوں گے کہ یہ عبارت شاہ صاحب کے قلم سے نکلی ہوگی -
شاہ رفیع الدین کے نواسے سید ظہیر الدین عرف سید احمد ولی اللّٰہی نے شاہ صاحب اور ان کے خانوادے کے بزرگوں کی بہت سی تصانیف شائع کروائی ہیں، سید صاحب شاہ صاحب کی کتاب تاویل الاحادیث کے خاتمے میں لکھتے ہیں:
’’آج کل بعض لوگوں نے بعض تصانیف کو اس خاندان کی طرف منسوب کردیا ہے اور درحقیقت وہ تصانیف اس خاندان میں سے کسی کی نہیں اور بعض لوگوں نے جو ان کی تصانیف میں اپنے عقیدے کے خلاف بات پائی تو اس پر حاشیہ جڑا اور موقع پایا تو عبارت کو تغیر و تبدل کر دیا‘‘(۲۰)-
ویسے ہمارے خیال میں جناب صلاح الدین مقبول احمد صاحب نے زیادہ درست موقف اختیار کیا کہ جنہوں نے شاہ صاحب کو’’ توحیدیانے‘‘ کی بجائے ان کے ’’شرکیات‘‘ سے اپنا دامن جھاڑلیا-صلاح الدین مقبول صاحب شاہ ولی اللہ دہلوی کی خدمات حدیث کا اجمالی تعارف کرانے کے بعد لکھتے ہیں کہ
’’اھل الحدیث فی شبہ القارۃ الہندیۃ یعرفون ہٰذاالدہلوی المحدث ولاصلۃ لہم بالدہلوی الصوفی واتباعہ وانصارہ الذین عضوا علی التقلید والتصوف باالنواجذ‘‘( ۲۱)
برصغیر کے اہل حدیث انہی شاہ ولی اللہ محدث کو جانتے ہیں ،شاہ ولی اللہ صوفی اور ان کے متبعین وانصار سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں جو تقلید اور تصوف پر سختی سے قائم ہیں
یہ صرف چند سرسری اشارہ ہیں ،ورنہ اسلاف کی کتب میں لفظی اور معنوی تحریف کی اور بھی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں- غالباً ایسی ہی کسی صورت حال سے متأثر ہوکر اقبالؔ نے کہا تھا-
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
یہ کم مایہ راقم سطور اس موضوع پر اردو اور عربی دونوں زبانوں میں ایک مفصل کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتا ہے ،کافی مواد جمع ہوچکا اور ہنوز تلاش وتحقیق جاری ہے -السعی منی والاتمام من اللہ-
(جامِ نور دسمبر ۲۰۰۷ئ؍جنوری ۲۰۰۹ئ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مراجع ومصادر
( ۱ )یہ ’’ینبغی‘‘کالفظی ترجمہ ہے ،فقہا کی اصطلاح میں اس کا مطلب کبھی’’بہتر ہے‘‘کبھی’’مستحب ہے‘‘ کبھی ’’سنت ہے ‘‘اور کبھی’’واجب ہے‘‘ہوتا ہے -دیکھیے شرح الاشباہ والنظائرللحموی( ۲)الاذکار ص:۲۹۵،دارالہدیٰ ،ریاض۱۴۰۹ھ(۳ )بحوالہ: محمود سعید ممدوح :رفع المنارۃ لتخریج احادیث التوسل والزیارۃ ص ۷۶دارالامام ترمذی قاہرہ۱۹۹۷ئ(۴ )اس حدیث کی تفصیلی تخریج اور اس پر مکمل بحث ملاحظہ کرنے کے لیے دیکھیں:احقاق حق ص۵۴ تا ۵۷،تخریج وتحقیق :اسید الحق بدایونی(۵)بحوالہ :علامہ غلام رسول سعید ی: شرح صحیح مسلم:ج۷،ص۶۴،۶۵،۶۶،پوربندر گجرات۱۴۲۳ھ( ۶ )محمود سعید ممدوح:رفع المنارۃ ص۶،دار الامام الترمذی ،قاہرہ۱۹۹۷ئ( ۷ )ڈاکٹر رضیہ حامد:نواب صدیق حسن خاںص۲۷۶،باب العلم پبلی کیشنز دہلی۱۹۹۸ئ( ۸ )فتح الباری ج۲ص۴۹۵( ۹ )بلال بن حارث المزنی کی روایت سے متعلق یہ پوری بحث ہم نے علامہ محمود سعید ممدوح کی کتاب رفع المنارہ سے اخذ کی ہے دیکھیے:رفع المنارۃ لتخریج احادیث التوسل والزیارۃ، ص۳۶،۳۷،۳۸ اور ۲۶۲تا۲۷۸،دارالامام الترمذی قاہرہ۱۹۹۷ئ(۱۰)عبداللہ محمد صدیق غماری:بدع التفاسیرص ۱۵۶،مکتبۃ القاہرہ،۱۹۹۴ء طبع دوم(۱۱)مرجع سابق ،نفس صفحہ(۱۲)مرجع سابق،ص۱۶۴(۱۳)چند سال قبل علامہ نبہانی کی کسی کتاب میں مَیں نے یہ بات پڑھی تھی،مگر اب یہ مقالہ لکھتے وقت وہ کتاب میرے سامنے نہیں ہے،اس لیے علامہ نبہانی کی طرف اس قول کی نسبت کرنے پر مجھے اصرار نہیں ہے(۱۴)علامہ زاہد الکوثری:حاشیہ السیف الصقیل فی الرد علی ابن زفیل،ص۱۱۶،المکتبۃ الازہریہ للتراث قاہرہ ۲۰۰۳ئ(۱۵)محمد ایوب قادری:مقدمہ وصایا اربعہ،ص۲۶،شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدرآباد(۱۶)منظور نعمانی:ماہنامہ الفرقان شاہ ولی اللہ نمبر بحوالہ تقدیم انفاس العارفین:سید محمد فاروق قادری ص۱۹،مکتبۃ الفلاح دیوبند(۱۷)سید محمد فاروق قادری :تقدیم انفاس العارفین، ص۱۹،مکتبۃ الفلاح دیوبند(۱۸)حکیم محمود احمد برکاتی:شاہ ولی اللہ اور ان کے اصحاب،ص۲۴،مکتبہ جامعہ لمیٹڈدہلی۲۰۰۶(۱۹)شاہ ولی اللہ دہلوی :تفہیمات،ج۲ص۲۸،بحوالہ تقدیم انفاس العارفین:سید محمد فاروق قادری ص۱۹،مکتبۃ الفلاح دیوبند(۲۰)حکیم محمود احمد برکاتی:شاہ ولی اللہ اور ان کے اصحاب،ص۲۰۱،مکتبہ جامعہ لمیٹڈدہلی۲۰۰۶ (۲۱)صلاح الدین مقبول احمد:الاستاذ ابوالحسن الندوی وجہ آخر فی کتاباتہ ص ۱۰۸،مطبوعہ کویت-

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...