سنی سے شیعہ ہونے والے
عموماً جو افراد سنی سے شیعہ ہوتے ہیں ان میں ایک ہی مسئلہ پایا گیا ہے۔ وہ کبھی بھی شیعہ کسی بنیادی مسئلہ پر نہیں ہوئے۔ ایک بالفرض محال مثال ہے کہ معاذ اللہ شیخین رضی اللہ عنھما اس امت کے سب سے برے افراد بھی ثابت ہو جائیں، تب بھی امامت اور سیدنا علی ؓ کی خلافت بلا فصل ثابت نہیں ہوتی۔ ہاں البتہ اگر نص کے ذریعے ان کی خلافتِ بلا فصل کا اثبات ہو جائے تو شیخین کی امامت فی نفسہ فاسد ہوجاتی ہے۔ یعنی بنیادی اختلاف امامت منصوص من اللہ ہے۔ باقی سب چیزیں اسی کی شاخیں ہیں۔
اب یہ امامت منصوص من اللہ چیز کیا ہے؟
امامت منصوص من اللہ کا تصور یہ ہے کہ اللہ نے انبیاء کے بعد انبیاء ہی کی مثل چند چنندہ افراد کا ایک ایسا سلسلہ شروع کردیا کہ وہ افراد اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں، جیسے کہ انبیاء بھیجے جاتے ہیں۔ وہ افراد معصوم بھی ہیں، وحی بھی پاتے ہیں، ان پر ایمان لانا لازم بھی ہے۔ ان پر ایمان نہ لانے والا حشر میں کفار کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ان کے خلاف کسی دوسرے کو حکمران یا رہبر ماننا شرک ہے۔ گویا کہ بالکل انبیاء کا ایسا عکس ہیں کہ سوائے انبیاء کے نام کہ اکثر خصائل مشترک ہیں۔
اسی لیے مجلسی صاحب کہتے ہیں:
«وبالجملة لا بد لنا من الاذعان بعدم كونهم : أنبيآء وبأنهم أشرف وأفضل من غير نبينا (ص) من الانبيآء والاوصياء ولا نعرف جهة لعدم اتصافهم بالنبوة إلا رعاية جلالة خاتم الانبيآء ، ولا يصل عقولنا إلى فرق بين بين النبوة والامامة»
مختصراً، ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ وہ (ائمہ) انبیاء نہیں ہیں اور یہ کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسرے جمیع انبیاء اور اوصیاء سے زیادہ شرف والے اور افضل ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ کس وجہ سے وہ (ائمہ) انبیاء نہیں ہیں، سوائے اس بات کے کہ خاتم الانبیاء ﷺ کی جلالت کی رعایت کی جائے (اور ائمہ کو نبی نہ کہا جائے)۔ البتہ ہماری عقلیں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نبوت اور امامت کے مابین تفریق کر سکیں۔
📗 بحار الانوار (٨٢/٢٦)
مجلسی صاحب یہاں پر انصاف سے کام لے رہے ہیں۔ جو اوصاف ائمہ کے لیے گنوائے جاتے ہیں، وہ تمام انبیاء میں موجود ہوتے ہیں۔ الغرض یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ صرف نام کا فرق ہے ورنہ وہ بارہ کے بارہ انبیاء ہی ہیں۔ الغرض امامیہ ہونے والے افراد سے یہ سوال ہونا چاہیے کہ ہم نے آپ کے اس دعویٰ ہو بھی تسلیم کرلیا کہ صحابہ خائن تھے (معاذ اللہ)۔ لیکن اس سے بھی امامت منصوص من اللہ کا اثبات نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ عظیم دعویٰ کرنے کے لیے آپ کو اتنی ہی عظیم دلیل درکار ہے۔ نہ کہ محض اپنی تراث کی وہ روایات جنہیں آپ خود کبھی مانتے ہیں اور کبھی نہیں۔ مثلاً مجلسی صاحب ایک اور موقع پر خود ہی کہتے ہیں:
«ولا يخفى أن هذا الخبر وكثير من الأخبار الصحيحة الصريحة في نقض القران وتغييره، وعندي الأخبار في هذا الباب متواترة معنى، وطرح جميعاً يوجب الرفع الاعتماد عن الاخبار رأسا بل ظني، أن الاخبار في هذا الباب لا يقصر عن الاخبار الإمامة فكيف يثبتونها باخبر»
یہ بات مخفی نہیں کہ یہ روایت اور بہت سارے صحیح اور صریح اخبار اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ قرآن میں کمی اور تبدیلی پیش آئی ہے۔ میرے (ملا مجلسی) کے نزدیک اس عنوان (تحریف) کی روایات معنوی طور پر ہیں۔ یوں ان تمام اخبار کا انکار کردینا روایات کے اوپر سے اعتماد اٹھا دیتا ہے بلکہ انہیں مشکوک بنا دیتا ہے، اس عنوان (تحریف) کی روایات کسی بھی صورت میں امامت کے اخبار سے کم نہیں۔ پھر آپ (امامت) اخبار کے ذریعے کیسے ثابت کریں گے؟
📓 مراۃ العقول شرح اخبار آل الرسول (١٢/٥٢٥)
البتہ یہ کفرِ صریح ہے لیکن بات انصاف کی ہے کہ آپ امامت کو جس تراث کی بنیاد پر مانتے ہیں، اسی بنیاد پر آپ تحریف کے قائل کیوں نہیں؟
الغرض یہ بتانا مقصود تھا کہ اپنے ارد گرد ایسے "converts" سے یہ سوال ضرور کیجئیے گا کہ آپ نے امامت پر کتنی تحقیق کی؟ آپ ان کی تحقیق کو صحابہ کے اختلاف سے آگے قطعا نہ پائیں گے۔ عموما ان افراد کو اپنی تراث کا علم تک نہیں ہوتا۔ اللہ المستعان۔
Copied SM Enamul Hassan's wall
No comments:
Post a Comment