Friday, January 9, 2026

«سورة اٰلِ عِمْرٰن» حاشیہ نمبر :94

Surat No. 3 Ayat NO. 121 
«سورة اٰلِ عِمْرٰن» حاشیہ نمبر :94
یہاں سے چوتھا خطبہ شروع ہوتا ہے ۔ یہ جنگ احد کے بعد نازل ہوا ہے اور اس میں جنگ احد پر تبصرہ کیا گیا ہے ۔ اوپر کے خطبہ کو ختم کرتے ہوئے آخر میں ارشاد ہوا تھا کہ ” ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی ، بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ۔“ اب چونکہ احد کے میدان میں مسلمانوں کی شکست کا سبب ہی یہ ہوا کہ ان کے اندر صبر کی بھی کمی تھی اور ان کے افراد سے بعض ایسی غلطیاں بھی سرزد ہوئی تھیں جو خدا ترسی کے خلاف تھیں ، اس لیے یہ خطبہ جس میں انہیں ان کمزوریوں پر متنبہ کیا گیا ہے ، مندرجہ بالا فقرے کے بعد ہی متصلاً درج کیا گیا ۔
اس خطبے کا انداز بیان یہ ہے کہ جنگ احد کے سلسلہ میں جتنے اہم واقعات پیش آئے تھے ، ان میں سے ایک ایک کو لے کر اس پر چند جچے تلے فقروں میں نہایت سبق آموز تبصرہ کیا گیا ہے ۔ اس کو سمجھنے کے لیے اس کے واقعاتی پس منظر کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے ۔
شوال سن 3 ہجری کی ابتدا میں کفار قریش تقریباً 3 ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے ۔ تعداد کی کثرت کے علاوہ ان کے پاس ساز و سامان بھی مسلمانوں کی بہ نسبت بہت زیادہ تھا ، اور پھر وہ جنگ بدر کے انتقام کا شدید جوش بھی رکھتے تھے ۔ نبی ﷺ اور تجربہ کار صحابہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں محصور ہو کر مدافعت کی جائے ۔ مگر چند نوجوانوں نے ، جو شہادت کے شوق سے بے تاب تھے اور جنھیں بدر کی جنگ میں شریک ہونے کا موقعہ نہ ملا تھا ، باہر نکل کر لڑنے پر اصرار کیا ۔ آخرکار ان کے اصرار سے مجبور ہو کر نبی ﷺ نے باہر نکلنے ہی کا فیصلہ فرما لیا ۔ ایک ہزار آدمی آپ کے ساتھ نکلے ، مگر مقام شوط پر پہنچ کر عبداللہ ابن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہو گیا ۔ عین وقت پر اس کی اس حرکت سے مسلمانوں کے لشکر میں اچھا خاصہ اضطراب پھیل گیا ، حتٰی کہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے لوگ تو ایسے دل شکستہ ہوئے کہ انہوں نے بھی پلٹ جانے کا ارادہ کر لیا تھا ، مگر پھر اولو العزم صحابہ کی کوششوں سے یہ اضطراب رفع ہو گیا ۔ ان باقی ماندہ سات سو آدمیوں کے ساتھ نبی ﷺ آگے بڑھے اور احد کی پہاڑی کے دامن میں ( مدینہ سے تقریباً چار میل کے فاصلہ پر ) اپنی فوج کو اس طرح صف آرا کیا کہ پہاڑ پشت پر تھا اور قریش کا لشکر سامنے ۔ پہلو میں صرف ایک درہ ایسا تھا جس سے اچانک حملہ کا خطرہ ہو سکتا تھا ۔ وہاں آپ نے عبداللہ بن جبیر کے زیر قیادت پچاس تیر انداز بٹھا دیے اور ان کو تاکید کر دی کہ ” کسی کو ہمارے قریب نہ پھٹکنے دینا ، کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا ، اگر تم دیکھو کہ ہماری بوٹیاں پرندے نوچے لیے جاتے ہیں تب بھی تم اس جگہ سے نہ ٹلنا ۔“ اس کے بعد جنگ شروع ہوئی ۔ ابتداءً مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا ، یہاں تک کہ مقابل کی فوج میں ابتری پھیل گئی ۔ لیکن اس ابتدائی کامیابی کو کامل فتح کی حد تک پہنچانے کے بجائے مسلمان مال غنیمت کی طمع سے مغلوب ہو گئے اور انہوں نے دشمن کے لشکر کو لوٹنا شروع کر دیا ۔ ادھر جن تیر اندازوں کو نبی ﷺ نے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا ، انہوں نے جو دیکھا کہ دشمن بھاگ نکلا ہے اور غنیمت لٹ رہی ہے ، تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر غنیمت کی طرف لپکے ۔ حضرت عبداللہ بن جبیر نے ان کو نبی ﷺ کا تاکیدی حکم یاد دلا کر بہتیرا روکا ، مگر چند آدمیوں کے سوا کوئی نہ ٹھہرا ۔ اس موقع سے خالد بن ولید نے ، جو اس وقت لشکر کفار کے رسالہ کی کمان کر رہے تھے ، بروقت فائدہ اٹھایا اور پہاڑی کا چکر کاٹ کر پہلو کے درہ سے حملہ کر دیا ۔ عبداللہ بن جبیر نے ، جن کے ساتھ صرف چند ہی آدمی رہ گئے تھے ، اس حملہ کو روکنا چاہا مگر مدافعت نہ کر سکے اور یہ سیلاب یکایک مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا ۔ دوسری طرف جو دشمن بھاگ گئے تھے ، وہ بھی پلٹ کر حملہ آور ہو گئے ۔ اس طرح لڑائی کا پانسہ ایک دم پلٹ گیا اور مسلمان اس غیر متوقع صورت حال سے اس قدر سراسیمہ ہوئے کہ ان کا ایک بڑا حصہ پراگندہ ہو کر بھاگ نکلا ۔ تاہم چند بہادر سپاہی ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے تھے ۔ اتنے میں کہیں سے یہ افواہ اڑ گئی کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے ۔ اس خبر نے صحابہ کے رہے سہے ہوش و حواس بھی گم کر دیے اور باقی ماندہ لوگ بھی ہمت ہار کر بیٹھ گئے ۔ اس وقت نبی ﷺ کے گرد و پیش صرف دس بارہ جاں نثار رہ گئے تھے اور آپ ﷺ خود زخمی ہو چکے تھے ۔ شکست کی تکمیل میں کوئی کسر باقی نہ رہی تھی ۔ لیکن عین وقت پر صحابہ کو معلوم ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ زندہ ہیں ، چنانچہ وہ ہر طرف سے سمٹ کر پھر آپ کے گرد جمع ہو گئے اور آپ کو بسلامت پہاڑی کی طرف لے گئے ۔ اس موقع پر یہ ایک معما ہے جو حل نہیں ہو سکا کہ وہ کیا چیز تھی جس نے کفار مکہ کو خود بخود واپس پھیر دیا ۔ مسلمان اس قدر پراگندہ ہو چکے تھے کہ ان کا پھر مجتمع ہو کر باقاعدہ جنگ کرنا مشکل تھا ۔ اگر کفار اپنی فتح کو کمال تک پہنچانے پر اصرار کرتے تو ان کی کامیابی بعید نہ تھی ۔ مگر نہ معلوم کس طرح وہ آپ ہی آپ میدان چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...