زرتشت(پارسی)مذہب۔۔!!
رزتشت مذہب کا زمانہ2200 قبلِ مسیح سے 2400 قبلِ مسیح کے درمیان کا ہے
400 قبلِ مسیح میں افلاطون بھی اپنی کچھ تحریروں میں اس کا ذکر کرتا ہے جبکہRene Guenonab کا خیال ہے کہ زرتشت کسی ایک شخصیت کا نام نہیں تھا زرتشت ایک منصب تھا جسکا مقصد ”نبوت اور قانون سازی” ہوتا تھا اس کے خیال کے مطابق زرتشت بہت گذرے ہیں جیسے مصر میں برسرِاقتدار شخصيت کے لۓ فرعون کا خطاب مختص تھا، وہ مزید کہتا ہے کہ آخری زرتشت کا زمانہ 600 قبل مسیح کا هے
وہ باختر(Bactria)کے علاقے کا رہنے والا تھا وہاں سے یہ مذہب فارس میں آیا اور فارس اور اس کے 117صوبوں کا سرکاری مذہب قرار پایا وہیں سے گرد و نواح میں پھیلا اور اس نے دنیا کے دیگر مذاہب کو متاثر کیا۔
پارسیوں کی مقدس کتابوں میں ”دساتیر اور اوستا“شامل ہیں دساتیر کو مزید دو حصوں میں تقسيم کیا گیا ہے خرد(چھوٹا) دساتیر اور کلاں(بڑا ) دساتیر اسی طرح اوستا کو بھی دو حصوں میں تقسيم کیا گیا ہے خرد اوستا اور کلاں اوستا جسے ژند یا ماہا ژند بھی کہا جاتا ہے، پارسیوں کے مذہبی صحیفے دو زبانوں میں پاۓ جاتے ہیں ایک پہلوی(پہلوی دستاویز موجودہ فارسی سے مشابہت رکھتی ہے) اور دوسری ژندی زبان میں، کچھ پارسی دساتیر کو زیادہ مستند سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اوستا کو زیادہ معتبر مانتے ہیں۔!
پارسیوں کے مقدس کتاب ”دساتیر“ کے مطابق صفاتِ خداوندی حسب ذيل ہیں۔
*خدا ایک ہے۔
*اس کا کوٸی ہم سِر نہیں۔
*اس کی کوٸی ابتدا ہے نہ انتہا۔
*نہ اس کا کوٸی باپ ہے نہ بیٹا نہ بیوی نہ کوٸی اولاد۔
*وہ بے جسم و بے شکل ہے۔
*نہ کوٸی آنکھ اس کا احاطہ کرسکتی ہے نہ کوٸی فکری قوّت اسے تصور میں لاسکتی ہے۔
*وہ ان سب سے بڑھ کر ہے جنہيں ہم اپنے تصور میں لاسکتے ہیں۔
*وہ ہم سے بھی زیادہ ہمارے نزدیک ہے۔
*وہ خالق،قوی،داتا،سخی اور عظمت والا ہے۔
پارسی عقائد کے مطابق درج ذیل اِجزا پر ایمان لازمی ہے
*انبیاء کرام۔
*ان کو خدا کی طرف سے دی جانے والی وحی(سروش)
*فرشتے(یزد)۔
*دنیا کا خاتمہ۔
*حساب کتاب کا دن۔
*موت کے بعد زندگی(آخرت)
*جنت و دوزخ۔
*حیات بعدالموت کی ابدیت۔
*اہرمن(شيطان)۔
*دیوار(جنات)۔
*یسنا(صلواة)۔
*دس فیصد لازمی خیرات(زکواۃ)۔
*دنیا کے خاتمے کے قریب ساوش یانت کی آمد(مہدی موعود)۔
*وہومانو ایک برگزیدہ فرشتہ (جبراٸیل)۔
پارسیوں کی نماز(رتو) کے اوقات حسبِ ذیل ہیں۔
پارسی گھنٹی بجا کر نماز کی اطلاع دیتے ہیں۔
نماز سے پہلے وضو لازمی ہے جس میں چہرہ اور بازو دھونے کا حکم ہے۔
نماز سے پہلے ٹوپی پہننا لازمی ہے۔
پارسیوں کا قبلہ آتش کدہ کا وہ کمرا ہوتا ہے جہاں آگ رکھی جاتی ہے۔
دورانِ نماز وہ اوستا کے سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔
پارسیوں میں نماز کے پانچ اوقات ہیں۔
*ہاوان گاہ(فجر)طلوع آفتاب سے 36منٹ قبل سے لیکر دوپہر39 :12 تک۔
*راپتھ وان گاہ(ظہر)12:40دوپہر سے لیکر سہ پہر3:39 بجے تک
*اوزرین گاہ(عصر)سہ پہر3:40 بجے سے لیکر غروب آفتاب کے 36منٹ بعد تک۔
*ایوستھرن گاہ(مغرب) غروب آفتاب کے 72 منٹ بعد سے لیکر رات 12:39تک۔
*اوشاہی یا اوشاہن(عشاء)رات گۓ 12:40سےلیکر صبح طلوع آفتاب سے 36 منٹ قبل تک۔
Reference
A Guide to our prayers
Auther:Tehmurasp Shawaksha pardiwala.
published by:Zorostrian Radih society parel Mumbai India.
Translated by: Syed Amjad hussain.
No comments:
Post a Comment