Friday, January 9, 2026

حضرت مقداد والی حدیث (قسط نمبر 2)


حضرت مقداد والی حدیث (قسط نمبر 2)

حدیث مقدام کا ذکر کرنے کے بعد  شیخ الھند مولانا ابو الکلام آزاد  لکھتے ھیں کہ:

امیر معاویہ کی سیاست یہ تھی ۔ کہ وہ مال و دولت کے چھینٹوں سے گرم دلوں کو ٹھنڈا کیا کرتا تھا ۔ مسلمانوں کو حرام خوری کی راہ سب سے پہلے اسنے دکھائی ۔ چنانچہ اس موقع پر بھی یہی اصول عمل میں لایا گیا ۔ اسنے حکم دیا کہ مقدام کو انعام و اکرام سے نواز کر مالا مال کر دیا جائے ۔ لیکن مقدام نے جو کچھ پایا فقراء میں تقسیم کر دیا ۔

حوالہ :
البلاغ ابو الکلام آزاد جلد 6 صفحہ 209 ۔

حدیث مقدام کے تحت معاویہ کے بغض اھلبیت پر امام دیوبند خلیل احمد سہارنپوری  کی تصریح :
اسدی نے حسن بن علی رضوان الله علیه کو آگ کا انگارہ معاویہ کو خوش کرنے اور اسکا قرب حاصل کرنے کیلیئے کہا تھا ۔

حوالہ :
بذل المجھود السهارنپوري جلد 17 صفحہ 14 ۔

حدیث مقدام کی شرح کرتے ھوئے عظیم محدث شمس الدین العظیم آبادی  لکھتے ھیں :

افسوس معاویہ پر : اسنے اھلبیت (ع) کی قدر و منزلت کو نہیں پہچانا ۔ بلاشبہ امام حسن (ع) کی شہادت عظیم مصائب میں سے ایک ھے ۔ اللہ جزائے خیر عطا فرمائے سیدنا مقدام کو ۔ کہ وہ حق کہنے سے خاموش نہ ھوئے اور یہی مخلص مومن کی شان ھوتی ھے .

اس روایت سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ نواسہ رسول کی شہادت پر کون خوش ہوئے تھے. بات صرف اتنی ہی نہیں کہ کون خوش ہوا تھا اور کون غمزدہ, بلکہ اصل بات یہ ہے کہ زہر دیکر قتل کرنے والا کون ہے ؟ کچھ تاریخی روایات سے جو معلوم ہوتا ہے وہ آپ خود ملاحظہ فرمائیں :

قال الهيثم بن عدی : دسّ معاوية إلی ابنة سهيل بن عمرة امرأة الحسن مأة ألف دينار علی أن تسقيه شربة بعث بها إليها ففعلت.»
’’ہیثم بن عدی نے کہا ہے کہ معاویہ ( رضی اللہ عنہ ) نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی سہیل بنت عمرہ کو ایک ہزار دینا کے عوض سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر پلانے پر اکسایا۔ اس نے زہر اس کے پاس بھیجی تو اس نے ایسا کر دیا۔‘‘ (انساب الاشراف لاحمد بن یحیی البلاذری : ۵۹/۳)

«قال ابن عبد البرّ : ذکر أبو زید عمر بن شبہ وأبو بکر بن أبی خیثمة قالا : حدّثنا موسی بن إسماعیل قال : حدّثنا أبو بلال عن قتادة قال : دخل الحسین علی الحسن ، فقال : یا أخی ! إنّی سقیت السمّ ثلاث مرّات ، لم أسق مثل ھذہ المرّة ، إنّی لأضع کبدی ، فقال الحسین : من سقاک یا أخی ؟ قال : ما سؤالک عن ھذا ، أترید أن تقاتلہم ؟ أکلھم إلی الله، فلمّا مات ورد البرید بموتہ علی معاویة ، فقال : یا عجبا من الحسن شرب شربۃ من عسل بماء رومة فقضی نحبہ.»

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : اے بھائی ! میں نے کئی بار تین بار زہر پیا ہے، لیکن اس مرتبہ کی طرح کبھی نہیں پلایا گیا۔ میرا جگر نکلتا جا رہا ہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا : بھائی ! آپ کو کس نے زہر پلایا ہے؟ فرمایا : اس بارے میں آپ کے سوال کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ ان سے لڑائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ میں ان کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آپ کی موت کا پیغام پہنچا تو آپ کہنے لگے : افسوس ہے کہ حسن نے رومہ کے پانی کے ساتھ شہد کا ایک جام پیا اور فوت ہو گئے۔‘‘ (الاستیعاب لابن عبد البر : ۱۱۵/۱)
دلیل نمبر ۳
« قال الإمام ابن سعد : أنا محمّد بن عمر : نا عبدالله بن جعفر عن عبد الله بن حسن قال : كان الحسن بن علی رجلا كثير نكاح النساء ، وكنّ أقلّ ما يحظين عنده ، وكان قلّ امرأة يتزوّجها إلّا أحبّته وضنت به ، فيقال : إنّه كان سقی ، ثم أفلت ، ثم سقی فافلت ، ثمّ كانت الآخرة توفّی فيها ، فلمّا حضرته الوفاة ، قال الطبيب ، وهو يختلف إليه : هذا رجل قد قطع السم أمعاءه ، فقال الحسين : يا أبا محمّد ! خبّرنی من سقاك السمّ ، قال : ولم يا أخی ؟ قال : أقتله ، واللہ قبل أن أدفنك ، أو لا أقدر عليه ، أو يكون بأرض أتكلّف الشخوص إليه ، فقال : يا أخی ! إنّما هذه الدنيا ليال فانية دعه ، حتّی ألتقی أنا وهو عند اللہ ، فأبی أن يسمّيه ، وقد سمعت بعض من يقول : كان معاوية قد تلطّف لبعض خدمه أن يسقيه سمّا.»

’’عبداللہ بن حسن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ عورتوں سے بہت زیادہ نکاح کرتے تھے۔ عورتیں ان کے پاس بہت کم عرصہ گزار پاتیں۔ تقریباً سب عورتیں، جن سے آپ شادی کرتے، وہ آپ سے محبت کرتیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کو زہر پلایا گیا، لیکن وہ جانبر ہو گئے۔ پھر زہر پلایا گیا، لیکن وہ پھر جانبر ہو گئے۔ جب آخری دفعہ تھی تو وہ اس میں فوت ہو گئے۔ جب ان کی وفات کا وقت حاضر ہوا تو طبیب نے ان کی طرف آتے ہوئے کہا: یہ ایسا آدمی ہے، جس کی انتڑیاں زہر نے کاٹ دی ہیں۔ حسین رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابومحمد ! مجھے بتائیے کہ آپ کو زہر کس نے پلائی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیوں اے بھائی؟ حسین رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم میں اسے آپ کو دفن کرنے سے پہلے قتل کر دوں گا یا اس پر قادر نہ ہو سکوں گا یا وہ ایسی زمین میں ہو گا، جہاں میرا داخل ہونا مشکل ہو گا۔ اس پر حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھائی ! یہ دنیا چند فانی راتوں پر مبنی ہے۔ اس شخص کو چھوڑ، میں اسے اللہ کے ہاں مل لوں گا۔ یہ کہہ کر انہوں نے اس کا نام بتانے سے انکار کر دیا۔ میں نے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسین رضی اللہ عنہ کے کسی خادم کو زہر پلانے پر ورغلایا تھا۔‘‘ (تاریخ ابن عساکر : ۲۸۲/۱۳،۲۸۳)
ابوبکر بن حفص بیان کرتے ہیں :
«توفّی الحسن بن علی وسعد بن أبی وقّاص فی أيّام بعد ما مضی من إمارة معاوية عشر سنين ، وكانو يرون أنّه سقاهما سمّا.»
’’سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد کے دس سال گزرنے کے بعد فوت ہوئے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو زہر پلایا تھا۔‘‘ (مقال الطالبین لابی الفرج علی بن الحسین الاصبہانی : ص ۲۰)

ابنِ جعدۃ کہتے ہیں :
«كانت جعدة بنت الأشعب بن قيس تحت الحسن بن علی ، فدسّ إليها يزيد أن سمي حسنا ، إنّی مزوّجك ، ففعلت ، فلمّا مات الحسن بعثت إليه الجعدة ، تسأل يزيد الوفاء بما وعدها ، فقال : إنّا والله لم نرضك للحسن ، فنرضاك لأنفسنا.»
’’جعدہ بنت الاشعت بن قیس سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔ یزید نے اسے بہلایا کہ تُو حسن کو زہر دے دے تو میں تجھ سے نکاح کر لوں گا۔ اس نے ایسا کر دیا۔ جب حسن رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو جعدہ نے یزید سے اپنے وعدے کو وفا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم نے تجھے حسن کے لیے پسند نہیں کیا تھا، اپنے لیے کیسے کریں۔‘‘ (تاریخ ابن عساکر : ۲۸۴/۱۳، المنتظم لابن  الجوزی : ۲۲۶/۵)

]
طبرانی ،معجم کبیر میں لکھتے ہیں
حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا شعبة : عن أبي بكر بن حفص أن سعدا و الحسن بن علي رضي الله عنهما ماتا في زمن معاوية رضي الله عنه فيرون أنه سمه
سعد اور حسن بن علی [سلام اللہ علیہما]نےزمان معاویہ میں انتقال کیا ہے راوی کہتے ہیں کہ معاویہ نے حسن بن علی [سلام اللہ علیہما] کو   زھر دیا ہے
المعجم الكبير ج ۳ ص 71
المؤلف : سليمان بن أحمد بن أيوب أبو القاسم الطبراني
الناشر : مكتبة العلوم والحكم - الموصل

#مقدام #آگ_کا_گولہ #حسن #فوت
-Zafar Mirza

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...