Friday, January 9, 2026

بچارا مولوی ! ڈیڑھ سو 150 سال قبل بر صغیر میں بزرگان دین

بچارا مولوی ! ڈیڑھ سو 150 سال قبل بر صغیر میں بزرگان دین کے ہزار گیارہ سو سالہ دور میں بنائے گئے سات 7 کروڑ مسلمان مل گئے تھے (اس وقت تک ایک آدھ لاکھ دیوبندی مولویوں نے بھکا لئے ہوں گے)۔ اب تک انہیں سنبھالنا نہ سیکھ سکا۔دو سو سال سے مولوی صاحبان ہر پچیس پچاس سال بعد نئے نئے فرقے گھڑتے اور  اولیاء اللہ کے بنائے گئے مسلمانوں کو نو مسلم بنانے میں جٹے ہوئے ہیں۔ کیا کہہ کہہ کر ؟ ایسی ہی باتیں بنا بنا کر۔

مولوی جی ! بندے کے علاقے (وڈالا/سیوری) میں آٹھ مسجدیں اور ان سے زیادہ مدرسے ہیں۔ یہ سب نوے 90 سال کے عرصے میں بنے۔ مسلمانوں کا اسکول ایک بھی نہیں۔ اسکول چھوڑو، کتابوں کی ایک دکان بھی نہیں۔ ہے تو ایک نامسلم کی۔ بچوں کو سکھوں کے اسکول میں پڑھاتے ہیں، عیسائیوں کے اسکول میں پڑھاتے ہیں، مدراسیوں کے اسکول میں پڑھاتے ہیں ( علاقے میں تینوں کی مجموعی آبادی بھی قابل ذکر  نہیں) یا سرکاری اسکول میں۔ ادھر، اولیاء اللہ سے وابستہ قدیم ممبئی میں قدیم زمانے سے ہی مسلمانوں کے کئی اسکول اور کالج ہیں۔ ٹیوشن کلاسز اور نو نہالوں کے لئے نرسریاں، کنڈرگارٹن ہیں۔عالی شان مسجدیں اور مدرسے تو ہیں ہی۔ یتیم خانہ اور خیراتی ہسپتال ہیں، درگاہیں ہیں، معلوم نہیں لیکن ایک دو خانقاہ بھی ہوں گی۔ قوالی بھی ہوتی ہیں اور عرس بھی منائے جاتے ہیں۔

قوالی اور عرس وغیرہ کلمہ پڑھا کے مسلمان بنانے والوں کی تعلیم و روایات ہیں، تصوف کا اہم جزو ہیں، تصوف ( اسلام ) کے شعائر ہیں، اجداد کو کلمہ پڑھانے کا نذرانہ ہیں، کلمہ پڑھانے والوں و اسلام سے والہانہ وابستگی کی نشانیاں  ہیں، عقیدت اور احسان مندی کا شکرانہ ہیں۔ دین کے ساتھ ہی مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کا حصہ ہیں۔سال میں ایک مرتبہ ہی منائے جاتے ہیں۔ یہ فقط چند ظاہری خصوصیات و فوائد  ہیں، روحانی خوبیوں  کا احاطہ کرنا شمار سے باہر ہے۔

ڈیڑھ سو 150 سال سے کمان آپ کے ہاتھ میں ہے۔ ان تمام برسوں میں تباہی ہر روز بڑھی ہے، بڑھتی ہی جا رہی اور بڑھتی ہی جائے گی کہ آپ نے الحاد و ارتداد کی ہوائیں چلائی ہوئی ہیں، آندھیاں بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔آپ اپنے لئے مالی طور پہ غیر مفید شعائر اسلام کی برائی کر کر کے مسلمانوں کو اولیاء اللہ سے بے زار و دور کرتے ہیں، دیوبندی آپ سے چھین کے لے جاتے ہیں، ان سے غیر مقلد ناصبی اچک لیتے ہیں،اس کے بعد ان کی آخری منزل الحاد و ارتداد ہی ہوتی / ہونی ہے۔ لکھ رکھیں !

نا مسلموں کو مسلمان بناؤ ! ان پہ فتوے لگانا !
اہل تصوف (اسلام ) پہ فتوے لگانے کا حق صرف اہل تصوف بزرگوں یا عالموں کو ہی ہے، کسی بھی ادیان نو بنو کے مولوی، مفتی، علامہ الدھر کو نہیں۔

خدا کرے، کبھی کہیں آپ سے ملاقات ہو جائے ۔

کوئی صاحب آنجناب کا نام نامی اسم گرامی،پتہ،فون نمبر جو بھی جانتے ہوں، براہ کرم، رقم فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔تاکہ مزید بہتر طور پہ یاد رہ سکیں اور ڈائیری میں نوٹ کر لئے جائیں۔

اور ہاں، مولویوں کی مکاریوں و عیاریوں کا ذکر نہ کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جانتے نہیں۔

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...