Tuesday, January 13, 2026

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یوم و ماہ شہادت کیا ہے؟


خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یوم و ماہ شہادت کیا ہے؟

کثیر کتب میں موجود ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت ماہ محرم نہیں بلکہ ماہ ذی الحجہ کے آخر میں ہوئی

امام ابن مسیب کہتے ہیں کہ:

"سیدنا عمر کی وفات ہوگئی تھی یہاں تک کہ ابھی ذوالحجہ ختم نہی ہوا تھا!"

[موطأ - واسنادہ صحیح الی ابن مسیب]

پھر : کتاب : السنن الکبریٰ بیہقی مترجم ( جلد/10 )
کتاب : اھل البغی باب : صلاحیت والوں کے درمیان مجلسِ شوریٰ مقرر کرنے کا بیان حدیث نمبر / 16578
"معدان کہتے ہیں کہ : یہ خطبہ آپ نے جمعہ کو دیا ۔ اور بدھ کے دن آپ فوت ہو گئے ، اور ذوالحجہ کی
26 تاریخ تھی " (( حدیث صحیح ))

مذکورہ ذیل کتب میں بھی ماہ ذی الحجہ میں شہادت کے حوالے موجود ہیں

حافظ ابن حجر (م852 ھ)اسماء الرجال کے حوالے سے اپنی شہرہ آفاق کتاب تقریب الہتذیب (مترجم جلد 1 صفحہ 658 رقم 4888) میں

تہذیب التہذیب میں بھی ابن حجر یہی لکھتے ہیں(جلد 7ص441،دارالکتاب الاسلامی ، قاہرہ ، مصر میں)

علامہ ذہبی (م748ھ)تذہیب تہذیب الکمال (جلد 7 ص 76 رقم 4928 مطبوعہ الفاروق الحدیثیہ للطباعہ والنشر، قاہرہ ،مصر) میں

علامہ ذہبی (العبر جلد 1 ص13) میں ذو الحجہ وفات

ابن کثیر(م774ھ) اپنی مشہور ِ زمانہ "البدایہ والنہایہ" المعروف تاریخ ابن کثیر(مترجم جلد 7 ص 186) پر

ابن سعد(م230ھ) طبقات (مترجم جلد 3 صفحہ 123 ، نفیس اکیڈیمی کراچی)میں

ابن قتیبہ دینوری(م 276 ھ) اپنی کتاب المعارف (مترجم ص 225، قرطاس پرنٹرز کراچی) پر

مؤرخ اسلام محمد بن جریر طبری(م310ھ) اپنی شہرہ آفاق تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری (مترجم جلد سوم حصہ اوّل ص 217) میں

ابن اثیر جزری (م630ھ)صحابہ کے حالات کے متعلق اپنی کتاب اُسد الغابہ (مترجم(حصہ پنجم) جلد 2 صفحہ 662 )میں

علامہ ابن خلدون (م808ھ)تاریخ ابن خلدون (مترجم جلد 2 ص 307) میں

جلال الدین سیوطی (م911ھ) اپنی کتاب تاریخ الخلفاء(ص 254،مطبوعہ وزارت اوقاف قطر) پر

تاریخ شہادت
حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ کی صحیح تاریخ شہادت 26 ذوالحجہ ہے
تاریخ ابن کثیر//ج ہفتم//ص 186،
طبقات ابن سعد//حصہ سوم//ص123،
تاریخ طبری جلدسوم حصہ اول//ص217،
تاریخ مسودی//حصہ 166

ابو بکر اسمعیل بن محمد بن سعد نے روایت کی ہے:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ذی الحجہ کی چھبیسویں(26) تاریخ (23)۲۳ھ کو چار شنبہ کے دن(صبح کی نماز میں) زحمی کئے گئے اور محرم کی پہلی تاریخ (24)۲۴ھ کو یک شنبہ کے دن دفن کئے گئے اور آپ کی مدت خلافت دس سال پانچ ماہ اور اکیس دن ہے اور عثمان بن محمد اخنسی کہا یہ غلط ہے بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات چھبیس ذوالحجہ کو ہوئی اورانتیس ذوالحجہ دو شنبہ کہ دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی

Usdul Ghabah Fi Marifat -us- Sahabah
Part 5 pg 667

ابو معشر کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضي اللہ عنہ 26 ذو الحجہ 23ھ کو شہید ہوئے ان کی مدت خلافت دس سال چھ مہینے اور چار دن رہی

حضرت زہری کا قول: حضرت عمر رضی اللہ عنہ 23 ذو الحجہ کو زخمی ہوئے

تاریخ طبری جلد سوم صفحہ 217'218
Copied 

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...