شجاعت حضرت علی کرم۔۔۔
امام ابنِ قدامہؓ نے متواترِ معنوی باتوں کی مثالیں دیتے ہوئے یہ بات ذکر کی ہے:
شجاعة علي وعلمه
"حضرتِ علیؓ کی شجاعت اور ان کا علم"
[إثبات صفة العلو ، صفحہ نمبر ۶۴]
ہم علمِ علیؓ پر گفتگو کرچکے ہیں، اب شجاعتِ علیؓ کا ذکر کرنا باقی رہ گیا تھا اور یہ باب ذرا طویل اور تحقیق طلب تھا تو اس کو وقت دیا۔
جاحظ نے حضرتِ علیؓ کی شجاعت کےچار پہلو ذکر کیے ہیں:
۱۔ رسول اللہ ﷺ کے بہادر صحابہ میں جنگوں میں جتنے مشرکین حضرتِ علیؓ نے قتل کیے ہیں، کسی نے نہیں کیے۔
۲۔ جنگوں میں سرداروں، قائدوں اور رئیسوں کو سب سے زیادہ جنہوں نے مارا ہے، وہ علیؓ ہی ہیں۔ ایک قائد کو مارنا پورے لشکر کو مارنے سے بڑی بات اور زیادہ ہمّت توڑنے والی چیز ہے۔
۳۔ پھر شہسوار اور جنگی لشکروں کے بڑے بہادر لوگوں کو بھی اسی کے ساتھ علیؓ مارنے والوں میں سب سے آگے ہیں۔
۴۔ پھر اس کے بعد اتنے لوگوں سے لڑے، آج تک ایسا ایک شخص نہیں ملتا جس سے علیؓ نے تلوار سے لڑا ہو اور وہ زندہ بچ گیا ہو۔
[الرسائل السياسية، صفحہ نمبر ۱۰۹]
پوری سیرت اس بات کی شاہد ہے۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ کہیں موضوع سے ہٹ نہ جائیں، مختصراََ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی ایک ایک جنگ کے لحاظ سے حضرتِ علیؓ کی شجاعت کو دیکھتے ہیں:
================
غزوہ بدر:
================
غزوہ بدر کے متعلق سیرتِ ابن ہشام کو دیکھیں۔ سیرتِ ابنِ ہشام میں ایک عنوان ہے:
مَنْ قُتِلَ بِبَدْرٍ مِنْ الْمُشْرِكِينَ
"جو لوگ مشرکین میں سے بدر کی غزوہ میں قتل ہوئے۔"
[سيرة ابن هشام ت السقا، جلد ۱، صفحہ نمبر ۷۰۸]
اب انہوں نے قبیلہ کے لحاظ سے بتایا اور نام گنوائے کہ کون کون قتل ہوئے۔ آپ کو تقریباََ ہر قبیلہ میں نظر آئے گا کہ علیؓ نے کسی مشرک کا کام تمام کیا ہے۔ اور کل ملا کر اٹھارہ(18) مشرکین کے متعلق انہوں نے ذکر کیا ہے کہ علیؓ نے ان کو ممکنہ طور پر قتل کیا۔ان کے نام یہ ہیں:
۱۔ حنظلہ بن ابی سفیان
۲۔ عاص بن سعید بن العاص
۳۔عقبہ بن ابی محیط
۴۔ عتبہ بن ربیعہ
۵۔ ولید بن عتبہ بن ربیعہ(یہ جھنڈے کے ساتھ آپؓ سے براہِ راست لڑا)
۶۔ حارث بن عامر بن نوفل
۷۔ زمعہ بن الاسود
۸۔ عقیل بن الاسود
۹۔ نوفل بن خویلد
۱۰۔ نضر بن حارث
۱۱۔ عمیر بن عثمان بن عمرو
۱۲۔ مسعود بن ابی امیہ
۱۳۔ ابو القیس بن فاکہ بن المغیرہ
۱۴۔ حاجز بن السائب
۱۵۔ عاص بن منبہ بن الحجاج
۱۶۔ ابو العاص بن قیس بن عدی
۱۷۔ اوس بن معیر بن لوذان
۱۸۔ معاویہ بن عامر
کسی صحابی کے اتنے نظر نہ آئے۔ واقدی کی روایات میں اس سے زیادہ کی تعداد کا ذکر ہے جن کو علیؓ نے قتل کیا مگر چونکہ ہم ان کو اس قدر معتبر نہیں سمجھتے، اس کا ضمناََ ہی ذکر کیا۔
================
۲۔ غزوہ احد:
================
اسی طرح غزوہ احد میں سیرتِ ابنِ ہشام کو دیکھیں۔ انہوں نے پھر عنوان باندھا ہے:
ذِكْرُ مَنْ قُتِلَ مِنْ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ أُحُدٍ
"احد کے دن جو مشرک قتل ہوئے، ان کا ذکر"
[سيرة ابن هشام ت السقا، جلد ۲، صفحہ نمبر ۱۲۸]
غزوہ احد کے مجموعی مقتولین کے نام جو ابنِ ہشام نے ذکر کیے ہیں، وہ غزوہ بدر سے کم ہیں۔ اور ان میں بھی آپ کو قریب قریب ہر قبیلہ میں علیؓ کا نام نظر آئے گا، میری نظر میں کوئی چھہ (6) مشرکین آئے جن کو علیؓ نے قتل کیا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں:
۱۔ طلحہ بن ابی طلحہ(یہ جھنڈے کے ساتھ آیا تھا اور آپؓ سے لڑا)
۲۔ ابو سعید بن ابی طلحہ
۳۔ ارطاۃ بن عبد شرحیل بن ہاشم
۴۔ عبد اللہ بن حمید بن زہیر
۵۔ ابو الحکم بن الاخنس
۶۔ ابو امیہ بن ابی حذیفہ
=================
۳۔ غزوہ خندق:
=================
غزوہ خندق میں اہلِ سیر کے کبار اہلِ علم کی روایت ہے کہ امام علیؓ نے عمرو بن عبد ود کو قتل کیا جو مشرکین کے بڑے شہسواروں اور بڑے دلیروں میں سے تھا۔ ابنِ اسحاق کی روایت ہے کہ اس نے خود جنگ کی دعوت دی کہ کوئی ہے جو مجھ سے لڑے؟ حضرتِ علیؓ بار بار اٹھتے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرتِ علیؓ کو اس سے لڑنے سے پہلے کئی دفعہ کہا:
إِنَّهُ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ وُدٍّ اجْلِسْ
"وہ عمرو بن عبدِ ودّ ہے، بیٹھ جاؤ۔"
مگر حضرتِ علیؓ کو یقین تھا کہ وہ اس سے لڑ سکتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی ۔ آپؓ گئے، لڑے اور اس کا کام تمام کردیا۔ اس طویل روایت کو ہم نے مختصر بیان کردیا ہے۔اگر کسی کو دیکھنا ہو تو اصل کتاب میں جا کر دیکھ سکتا ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہؓ بھی قتل میں شریک تھے مگر یہ خوارج نے حضرتِ علیؓ کے خلاف ذکر کیا ہے، صحابہ و تابعین سے ایسا کچھ ثابت نہیں۔ صحیح ترین مغازی جس میں مغازی موسیٰ بن عقبہ، مغازی عروہ بن مسعود، مغازی ابن اسحاق، مغازی عاصم بن عمر اور مغازی احمد بن عبد الجبار العطاردی کی روایات شامل ہیں جو سب ثقاتِ تابعین کی روایات ہیں، انہوں نے حضرتِ علیؓ ہی کا ذکر کیا ہے اور ان ہی کے قصّے کو بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين ت: الوادعي، جلد ۳، صفحہ نمبر۳۷-۳۹، رقم:۴۳۸۷]
===================
۴۔ غزوہ خیبر:
===================
پھر غزوہ خیبر کو دیکھیں۔ یہ صحیحین کی روایت ہے کہ خیبر کے اندر مرحب کہا کرتے تھے:
قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّى مَرْحَبُ
شَاكِى السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ
"تحقیق خیبر جانتا ہے کہ بے شک میں مرحب ہوں اور یہ کہ میں ہر وقت ہتھیار بند ہوتا ہوں اور ایک تجربہ کار جنگجو ہوں اور جب جنگیں ہوتی ہیں تو وہ بھڑک اٹھتا ہے۔"
یہ خیبر کا بادشاہ تھا۔ اس پر صحابی عامرؓ نکلے مگر مرحب نے ان کو قتل کردیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس رات کو کہا:
لَأُعْطِيَنَّ هذِه الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ علَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ ورَسولَه، ويُحِبُّهُ اللَّهُ ورَسولُهُ
"کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ "
حضرتِ علیؓ کی آنکھ میں تکلیف تھی مگر رسول اللہ ﷺ کے لعاب دہن سے ان کو شفا نصیب ہوئی اور آپ ؓ نے ان کو جھنڈا دیا۔ خیبر میں مرحب کے مقابلے میں علیؓ نے کہا:
أَنَا الَّذِى سَمَّتْنِى أُمِّى حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ
"میں وہ شخص ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے اور میں جنگل کے اس شیر کی مانند ہوں جو ایک ہیبت ناک منظر کا حامل ہو یا ان کے درمیان ایک پیمانوں میں ایک بڑا پیمانہ۔"
پھر ایک ہی وار میں مرحب کا کام تمام کردیا۔ [صحيح البخاري، رقم: ۴۲۱۰، صحيح مسلم ، ترقیم فوادعبدالباقی: ۱۸۰۷]
ابنِ اسحاق کی روایت ہے کہ خیبر کے قلعہ کا دروازہ حضرتِ علیؓ نے اٹھالیا تھا۔ [سيرة ابن هشام ت السقا، جلد ۲، صفحہ نمبر ۳۳۵]اسی روایت کی ایک سند امام باقرؒ سے بھی ملتی ہے۔ [المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري، جلد ۱۸، صفحہ نمبر ۱۸] اگرچہ یہ دونوں باتیں سنداََ بہت قوی نہیں مگر مغازی میں ۱س طریقے کی مرویات کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ان دونوں روایات کی سندوں میں کذاب کوئی نہیں۔ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کہتے ہیں:
"یہ روایت مختلف طریقوں سے مروی ہے اور یہ مشہور واقعہ ہے، اس کا واقع ہونا مستبعد نہیں ہے۔"
[المرتضیٰ، صفحہ نمبر ۸۱]
====================
۵۔ غزوہ حنین:
====================
پھر غزوہ حنین آتا ہے۔ اس میں دشمنانِ اسلام کے مقتولین کی کوئی فہرست سیرتِ ابنِ ہشام میں مجھے نہیں ملی اور تاریخِ خلیفہ بن خیّاط جیسی کتب میں بھی نہ ملیں۔ البتہ اگر ہم تلاش کریں تو کچھ اہم باتیں اس غزوہ کے متعلق ہمیں پتا لگتی ہیں جو حضرتِ علیؓ کی شجاعت سے متعلقہ ہیں۔
حضرتِ جابرؓ سے صحیح روایت مروی ہے کہ حنین کے دن مسلمانوں کے اکثر لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم نہ رہے، وہ کہتے ہیں:
فَانْطَلَقَ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ غَيْرَ كَثِيرٍ، ثَبَتَ مَعَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
"لوگ وہاں سے بھاگ گئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مہاجرین و انصار کا تھوڑا سا گروہ ہی رہ گیا، اور ان کا گھرانہ جن کی تعداد زیادہ نہیں تھی، وہ رہا۔ آپ کے ساتھ ثابت قدم رہنے والوں میں ابو بکرؓ و عمرؓ اور آپؓ کے اہلِ بیت میں سے علی بن ابی طالبؓ تھے۔"
اس کے بعد ذکر کرتے ہیں:
رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ فِي يَدِهِ رَايَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فِي رَأْسِ رُمْحٍ طَوِيلٍ لَهُ أَمَامَ النَّاسِ، وَهَوَازِنُ خَلْفَهُ، فَإِذَا أَدْرَكَ طَعَنَ بِرُمْحِهِ، وَإِذَا فَاتَهُ النَّاسُ رَفَعَهُ لِمَنْ وَرَاءَهُ، فَاتَّبَعُوهُ
"ہوازن کا ایک شخص سرخ اونٹ پر سوار تھا اور ہاتھ میں اس کے سرخ نشان لمبے نیزہ میں لگا ہوا تھا۔ جب کوئی شخص اس کی زد پر آتا یہ نیزہ سے اس کو قتل کرتا۔ اور پھر نشان کو اونچا کرتا۔ تو سب لوگ اس کی قوم کے اس کے آگے گِر جاتے۔"
اس کے بعد بیان کرتے ہیں:
بَيْنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ، يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ، إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ، فَضَرَبَ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ، فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْجَعَفَ عَنْ رَحْلِهِ وَاجْتَلَدَ النَّاسُ
"ہمارے درمیان ہوازن کا ایک شخص اس اونٹ پر جھنڈا لیے موجود تھا اور وہ جو کر رہا تھا سو کر رہا تھا، علی بن ابی طالبؓ اور انصار میں سے ایک شخص اس کے پیچھے چلے اور حضرتِ علیؓ نے پیچھے سے اونٹ کو ایسی تلوار ماری کہ اونٹ گِر پڑا۔ اور انصاری نے اس موقع پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کا پیر اس کی نصف پنڈلی کے ساتھ کٹ گیا اور وہ کجاوے سے گِر کر مرگیا۔ پھر لوگوں کے حوصلے واپس بلند ہوگئے ۔"
[مسند أحمد - ط الرسالة، جلد ۲۳، صفحہ نمبر ۲۷۴-۲۷۵، رقم: ١٥٠٢٧،قال محققو المسند: إسناده حسن ]
غور کریں تو یہ بڑا ہی غیر معمولی کارنامہ ہے کہ جنگ میں مسلمانوں کے انتشار کو ختم کردیا گیا۔ اس کے علاوہ اس جنگ کے متعلق ابنِ سعدؒ ایک موقع پر ذکر کرتے ہیں:
عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَحْمِلُ لِوَاءَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَتَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
"عثمان بن عبد اللہ نے مشرکین کے جھنڈے کو یومِ حنین اُٹھایا تو ان کو علی بن ابی طالبؓ نے قتل کردیا۔"
[الطبقات الكبرى ط دار صادر، جلد ۵، صفحہ نمبر ۵۱۹]
Copied
Wednesday, January 14, 2026
شجاعت حضرت علی کرم۔۔۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
#پوسٹ_معرض_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-
#پوسٹ_معرض_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...
-
★جنوبی ایشیا میں #عشق_و_محبت_مساوات_و_انسانیت کا #الکھ_جگانے والے #اولین:- (1)حضرت خواجہ #ابو_اسحاق_حسینی_چشتی قدس ﷲ سرہ کو آپؒ کے ★پیر و م...
-
ملک عضوض(پسر ہندہ) سے ہر مسلمان اچھی طرح واقف ہے۔ پھر بھی اسکے کردار کو حدیث و اقوال محدثین کی روشنی میں ملاحظہ فرمائے۔ مطاعن معاویہ کے نا...
-
#پوسٹ_معرض_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...
No comments:
Post a Comment