Wednesday, January 7, 2026

بڑی محنت کرنے کے بعد آخر کار معاویہ کی ایک بہت بڑی فضیلت ہاتھ لگ گئی سوچا دوستوں کے ساتھ شیر کروں 🙄🤔😬😕

بڑی محنت کرنے کے بعد آخر کار معاویہ کی ایک بہت بڑی فضیلت ہاتھ لگ گئی سوچا دوستوں کے ساتھ شیر کروں 🙄🤔😬😕

معاویہ کا منبر پہ پادنا
منبر رسول ص کی توہین اور بد دعا کا اثر
معاویہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا اور اس کا اثر

حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ،اتنے میں رسول اللہ (ص) تشریف لائے ،میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا .آپ (ص) نے ہاتھ سے مجھے تھپکا اور فرمایا جا معاویہ کو بلا لا،میں گیا پھر لوٹ کر آیا اور میں نے کہا وہ (معاویہ) کھانا کھاتا ہے .آپ(ص) نے پھر فرمایا جا اور معاویہ کو بلا لا.میں پھر لوٹ کر آیا اور کہا وہ کھانا کھاتا ہے .آپ (ص) نے فرمایا: اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے
صحیح مسلم،ص1403،کتاب:البروالصلتہ والادب،باب:25،حدیث:2604
حافظ ابن کثیر نے اس حدیث کو اپنی تاریخ میں بھی نقل کیا ہے اور ساتھ میں ابن عباس (رہ) کے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ اس بددعا رسول کے بعد معاویہ کبھی سیر نہیں ہوا (تاریخ ابن کثیر،ج 11،ص401)
حافظ ابن کثیر کی رائے
حافظ ابن کثیر لکھتاہے کہ
اس دعا سے معاویہ نے دنیا وآخرت دونوں میں فائدہ حاصل کیا،دنیا میں اس طرح کہ جب وہ شام پر امیر ہوا تو دن میں سات مرتبہ کھاتا تھا،اس کے لئے ایک پیالہ لایا جاتا جس میں بکثرت گوشت اور پیاز ہوتے تھے.علاوہ ازیں میٹھی اشیاء اور وافر مقدار میں فروٹ ہوتے تھے،وہ اس طرح کی اشیاء دن میں سات مرتبہ کھاتا تھااور کہتا تھا کہ اللہ کی قسم میں کھاتے کھاتے تھک جاتا ہوں مگر سیر نہیں ہوتا
ابن کثیر کا کہنا ہے کہ یہ ایک نعمت ہے کیونکہ ایسامعدہ بادشاہ چاہتے ہیں  (البدایتہ والنھایہ ،ج11،ص402)
حافظ ابن کثیرکے اس استدلال پر اب کیا تبصرہ کیا جائے ،بےشک معاویہ کو شاہانہ معدہ ملا تھا مگر اس بد دعا سے معاویہ کو آخرت میں کیا فائدہ ہوگا یہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے .البتہ معاویہ پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ کھڑے ہو کر خطہ دینے سے قاصر ہو گیا،چنانچہ شعبی کہتا ہے کہ
سب سے پہلا شخص جس نے بیٹھ کر خظبہ دیا ،وہ معاویہ تھا ،یہ اس وقت ہوا جب معاویہ پر چربی زیادہ ہوگئی تھی اور اس کا پیٹ بڑھ چکا تھا (مختصر تاریخ د
مشق ،ج25،ص 71)

*معاویہ کا مسجد کے منبر پر بیٹھ کر بلا تکلف “پاد” مارنا (ہوا خارج کرنا)*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بددعا کے نتیجے میں معاویہ کے پیٹ پر انتہائی چربی چڑھ گئی اور وہ ہر جگہ بیٹھ کر، ہر شخص کے سامنے بلا تکلف “پاد” مارنے لگا۔ اس شخص نے اللہ کی مسجد کے منبر کو بھی اپنی اس غلیظ عادت سے نہیں بخشا اور اللہ کی مسجد کے منبر پر بیٹھ کر مجمع کے سامنے بلا تکلف پاد مارنے لگا۔ اور پھر اپنی اس غلیظ عادت پر خفت مٹانے کے لیے طرح طرح کے بہانے بھی بنانے لگا۔

اہلسنت عالم دین علامہ زمخشری اپنی کتاب ربیع الابرار میں نقل کرتے ہیں:۔

يقول الزمخشري : افلتت من معاويه ريح على المنبر، فقال : يا ايها الناس إنَّ اللّه خلق أبداناً وجَعَل فيها ارواحاً فما تمالك الناس أن تخرج منهم، فقام صعصعة بن صوحان فقال : اما بعد فإنخروج الارواح في المتوضئات سنّة، وعلى المنابر بدعة. واستغفراللّه لي ولكم
. ( ربيع الابرار 4 : 172. )

ترجمہ:
معاویہ نے رسول (ص) کے منبر پر بیٹھ کر پاد مارا، اور پھر کہا: "اللہ نے انسانی جسم بنائے ہیں، اور اس میں پادوں کو قید کیا ہے۔۔۔” اس پر صحابی صعصعہ بن صوحان کھڑے ہو گئے اور فرمایا: "بیت الخلاء میں جا کر ریح خارج کرنا سنت ہے، مگر منبر پر بیٹھ کر پاد مارنا بدعت ہے۔
واستغفراللہ ربی لی ولکم۔
حوالہ: . ( ربيع الابرار 4 : 172. )
Pened- Moinuddin Qadri, From Varanasi

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...