کیا توہینِ شیخین کفر نہیں ہے؟ فتاویٰ علمائے دیوبند
▪ اگر کوئی مسلمان خلفائے راشدین میں سے کسی کو قتل کر ڈالے تو بھی اہل سنت کے نزدیک وہ دائر اسلام سے خارج نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ برا کہنا قتل سے کمتر ہے۔
حوالہ : [ شرح فقہ اکبر - جلد ٣ - صفحہ ٣٢۵ ]
▪ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیر محدث دہلوی فرماتے ہیں : جو شیعہ صحابہ اور امہات المومنین کو کافر نہ جانتا ہو بلکہ صرف ظلم اور غصب اور جورکے ذکر پر اکتفاکرتا ہوتو ضرورت کی حالت میں اس کے پیچھے نماز میں اقتداء کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
حوالہ : [ فتاوےٰ عزیزی - صفحہ ٣٨٩ ]
▪ مولانا مفتی رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں : جو شخص صحابہ کرام میں سے کسی کی تکفیر کرے وہ ملعون ہے ایسے شخص کو امام مسجد بنانا حرام ہے اور ول اپنے اس گناہ کبیرہ کے سبب سنت جماعت سے خارج نہ ہوگا۔
حوالہ : [ فتاویٰ رشیدیہ - صفحہ ٢٧۴ ]
▪قُطبُ العالم دیوبند گنگوہی صاحب فرماتے ہیں کچھ لوگ شیعہ کو کافر ، کچھ فاسق کہتے ہیں اور میرے نزدیک شیعہ کافر نہیں۔
حوالہ : [ فتاویٰ رشیدیہ - صفحہ ٢٩١ ]
▪ مفتی اعظم حضرت مولانا عزیزالرحمن فرماتے ہیں : محققین حنفیہ شیعہ تبراگو اور منکر خلفاء ثلثہ کو کافر نہیں کہتے اگرچہ بعض فقہاء نے ان کی تکفیر کی ہے مگر صحیح قول محققین کا ہے کہ سب شیخین اور انکار خلافت خلفاء کفر نہیں ہے فسق و بدعت ہے.
حوالہ : [ فتاویٰ دارالعلوم دیوبند - کتاب الفرائض - صفحہ ٧٣٧ ]
از- نعرہ: " گستاخِ صحابہ کو کا فر نہ ماننے والا,کافر" کہنے والوں کے جید علمائے دین
No comments:
Post a Comment