محفوظ خطا کی وضاحت
Kamran Ali Umrani
یہ اہل سنت و الجماعت ( حنفی،مالکی،شافعی اور مالکی) کا متفقہ العالیہ عقیدہ ہے کہ آپ ص کی جگر گوشۂ ،آپ ص کے داماد اور آپ ص کے دونوں نواسوں کو اللہ تعالی نے غلطیوں/خطاوں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ اس کی تصدیق آیت تطہیر و آیت مباہلہ وغیرہ اور ان آیات سے متعلق آپ ص کے عمل و دعا سے ہوتی ہے۔
انبیاء علیھم السلام معصوم خطا ہیں اور یہ حضرات محفوظ خطا۔ ذرا سا فرق ہے۔معصوم خطا یعنی خطا سے پوری طرح پاک،جن کا ہر عمل و قول حق و صداقت کی دلیل بر حق ہے۔ محفوظ خطا یعنی یہ چاروں ہستیاں انبیاء کی طرح نہیں،ان سے خطا کا امکان تو ہے مگر اللہ تعالی محفوظ رکھتا ہے۔ بس یہی ذرا سا علمی نظریاتی فرق ہے۔ ویسے، حقیقت میں تمام امت محمدیہ متفق ہے کہ ان میں سے کسی سے بھی کبھی کوئی خطا نہیں ہوئی۔اسی لئے ان کا ہر عمل و قول عین اسی طرح دین ہے جیسے آپ ص یا دیگر انبیاء علیھم السلام کا۔
ان اصطلاحات کے اصل عربی الفاظ " معصوم عن الخطا اور محفوظ عن الخطا ":ہیں۔
امید ہے بات سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
No comments:
Post a Comment