سانحہ کربلا کا بیٹے سے بڑا مجرم باپ
یزیدکو جب اپنےکوفیوں کےخطوط سےپختہ یقین ہو گیا کہ امام حسین ع اہل کوفہ کےبار بار کے بلاوے پر کوفے پہنچنےوالے ہیں۔ "اسنےمعاویہ کے غلام سرجون سے مشورہ طلب کیا۔سرجون نےاسےابن زیاد کو والی کوفہ بنانے کا حکم نامہ نکال کردیااورکہا کہ معاویہ نے مرنے سے پہلے ہی اس تحریری حکم کو نافذ کرنے کا حکم دے دیا تھا۔" یزید نے " ملک عضوض" کےحکم پر(ابن زیاد سےناراض ہونےکےباوجود) مع امام حسین 22 آل رسولؐ ودیگر، 77 نفوس قدسیہ ہولناک طریقوں سے قتل کروائے۔
کامل ابن اثیر،جلد4،صفحہ141،اشاعت 1922ء
دار الطبع جامعہ عثمانیہ،حیدرآباد(دکن)
مع امام حسین مقتولین کربلا ع کا پسر ہندہ بیٹے سے بڑا مجرم
یزید کو اپنے کوفیوں کے خطوط سے پختہ یقین ہو گیا کہ امام حسین علیہ السلام اہل کوفہ کے بار بار کے بلاوے پر کوفہ پہنچنے والے ہیں تو اس نے معاویہ کے غلام سرجون سے مشورہ مانگا۔سرجون نے اسے ابن زیاد کو والی کوفہ بنانے کا حکم نامہ نکال کر دیا اور کہا کہ معاویہ نے مرنے سے پہلے ہی اس تحریری حکم کو نافذ کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ یزید نے " ملک عضوض" کا حکم نافذ کیا(حالانکہ یزید ابن زیاد سے ناراض تھا) اور مع امام حسین 22 آل رسولؐ و دیگر 77 نفوس ہولناک طریقوں سے قتل کروا دیئے۔
کامل ابن اثیر،جلد چہارم،صفحہ 141،اشاعت 1922ء
دار الطبع جامیہ عثمانیہ،حیدرآباد(دکن)
No comments:
Post a Comment