★امید ہے اس مسئلے پہ طنز و نصائح بند ہو جائیں گے, 14 #نکات
زبانی جمع خرچ کرنے والے غلط فہمی میں ہیں۔ ان کا یہ نکتہ نظر امت محمدیہ کو حتمی تباہی کے دہانے کی طرف لے جائے گا، اگرچہ ان کی نیتیں اچھی ہی کیوں نہ ہوں.....
وقت 14 منٹ↓(اسکرین شاٹ پہ تبصرہ آخر میں ملاحظہ فرمائے)
پہلا نکتہ۔ قرآن سمجھ کے پڑھنے کی نصیحت اور طنز تبھی بامعنی ہو سکتے ہیں جب ہر شخص (ڈیڑھ ارب افراد) کی تربیت کر کے اخلاص کی خو بیدار اور سمجھنے کی استعداد پیدا کر دی جائے۔ اس مسئلے پہ خدائے محمدؐ کا فرمان بڑا واضح ہے:-
۔۔۔#ھدی_للمتقین_ہدایت_پرہیزگاروں_کیلئے_ہے(2-2)۔ علیم و خبیر رب العالمین نے کلام پاک میں سمجھنے و ہدایت پانے کے لئے شروع میں ہی بڑی صراحت سے بتا دیا کہ میرے کلام کو سمجھنے اور مجھ سے ہدایت پانے کے لئے بندے کا پہلے پرہیزگار متقی بننا شرط ہے۔۔۔۔۔پتہ چلا، امت 300 تین سو برس سے اصلی متقی پیدا ہی نہیں کر رہی۔ مانند نمک ہوئے، انہیں بھی بھیس بھرنا پڑا۔۔۔۔۔احقر کے پیشِ نظر چار ہیں،جنہیں کچھ ایسا کرنا پڑا کہ سماج پہ مسلط نو سنی شر سے بچے رہیں۔۔۔۔۔
دوسرا۔ اگر مصاحف سماوی لوگ خود ہی سمجھ لیا کرتے، انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔۔۔۔۔
تیسرا۔ اس باطل خیال کے مطابق، قرآن کسی پہاڑ کی چوٹی یا کعبۃ ﷲ کی چھت پہ نازل کر دیا جانا چاہئے تھا۔ لوگ خود ہی ایمان لے آتے، خود ہی سمجھ لیتے، خود ہی عمل کر لیتے اور خود ہی متقی بن جاتے۔۔۔۔۔
چوتھا۔ مولی علی کرم ﷲ وجہہ الکریم واحد قرآن شناس و شارح تھے، جن سے حضرات عبد ﷲ بن عباس و عبد ﷲ بن مسعود سمیت تمام اجلہ صاحب علم صحابہؓ جب بھی مشکل پیش آتی، رجوع کیا کرتے تھے۔ جو سارے کے سارے رحمت اللعالمینؐ سے تعلیم و تربیت یافتہ تھے۔حضرت عمرؓ نے آپؐ سے دس بارہ سال میں ایک سورت پڑھی؛ سورہ البقرہ۔ اب، ہر آدمی میں تکبر بھرا جا رہا ہے کہ وہ بنا استاذ، بنا اتالیق، بنا مرشد کی رہنمائی کے ہی از خود قرآن سمجھنے کا اہل ہے، نتیجے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خوارج کی طرح حتمی فیصلے صادر کرنے کا مجاز ہے۔۔۔۔۔
پانچواں۔ قرآن کے مزاج و زبان اور زبان کے اسرار و رموز بھی خوب اچھی طرح سمجھنے والے عربوں نے کون سے تیر مارے ہوئے ہیں؟ بلکہ ان کی حالت سادہ لوح معانی سمجھنے کی نیت سے نہیں، ثواب کی نیت سے پڑھنے والے عجمیوں(گونگوں) سے بدتر ہے۔۔۔۔۔جامعہ الازہر مصر کی ایک کہاوت:-#قرآن_نازل_ہوا_عرب_میں، #پڑھا_گیا_مصر_میں اور #سمجھا_گیا_ہند_میں، خود کلام ﷲ سمجھ کر پڑھنے کے ہزار ہا باطل خیالات کو مسترد کرنے کیلئے کافی سے بہت زیادہ زائد ہے کہ بنا سمجھے عقیدت واحترام سے عبادت کے طور پہ تلاوت کلام ﷲ کرنے والوں کے #ہندوستانی_بڑے_بزرگ ( #اولیاء_ﷲ) ابتداء سے آج تک ساری دنیا کے علماء و اسلامی اسکالرز سے ★زیادہ دانا و بینا، ★زیادہ سمجھدار، ★زیادہ دیانتدار، ★زیادہ ملنسار، ★زیادہ صاحب ادراک، ★زیادہ فہیم، ★زیادہ دور بیں، ★زیادہ حقیقت شناس، ★زیادہ معانی شناور، ★زیادہ عادل، ★زیادہ حق پرست، ★زیادہ رب العالمین و رحمت اللعالمینؐ کے ★منشا و مقاصد ★دین مبین کو جانتے، سمجھتے اور عمل کرتے چلے آ رہے ہیں۔۔۔۔۔
چھٹا۔ بیشتر آیات کسی خاص واقعے خاص پس منظر کے تناظر میں نازل کی گئی ہیں۔ جب تک ان واقعات و تناظر کو صحیح طور پہ نہ جانا سمجھا جائے بڑے سے بڑے عربی داں بھی قرآن سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔۔۔۔۔
ساتواں۔ عربی کے سوا کروڑ الفاظ میں سے رب العالمین کے منتخب و مرتب کردہ قرآن کے 3,23,671 الفاظ کو سمجھنا گڑے گڑیا کا کھیل نہیں ہے۔ جس کا ہر لفظ اقوام عالم کی قیامت تک کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے بھی زیادہ معانی اور معانی کے پیچھے چھپے معانی سے بھرا ہوا ہے۔۔۔۔۔
آٹھواں۔ الفاظ آگے پیچھے کرنے سے ہر زبان کے فقروں کے مفہوم میں تغیر و تبدل پیدا ہو جاتا ہے۔مثال: ٭ہدایت پرہیزگاروں کے لئے ہے اور ٭پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے۔ فقط پہلا ایک لفظ اٹھا کر آخری لفظ سے پہلے رکھنے پر مفہوم میں فرق واقع ہو گیا اور دو ترجمے بن گئے۔ لفظ بدلنے و کم زیادہ کرنے سے کیا کیا ہو سکتا ہے ؟ سوچ کر ہی روح کانپ رہی ہے کہ کلام خدا ہے، کلام خدا ! ۔۔۔۔۔
نواں۔ ٭جو سارے کے سارے رحمت اللعالمینؐ سے تعلیم و تربیت یافتہ تھے۔ یہ جملہ اوپر لکھا گیا ہے۔ اس کا صرف ایک لفظ بدلنے سے موجودہ مفہوم باقی تو رہے گا لیکن ماند پڑ جائے گا اور ایک دیگر مفہوم پیدا ہو کر پہلے مفہوم پہ حاوی ہو جائے گا۔ جس پر بیجا سہی، مگر اعتراض بھی کیا جا سکتا ہے۔ دیکھئے :- حالانکہ سارے کے سارے رحمت اللعالمینؐ سے تعلیم و تربیت یافتہ تھے۔۔۔۔۔
دسواں۔ بنا سمجھے پڑھنے والوں میں سے بیشتر کو اپنی زبان بھی ٹھیک سے نہیں آتی لیکن نیتیں اخلاص و محبت خدا و رسولؐ و قرآن سے بھری ہوتی ہیں۔ اسی عقیدت و محبت و احترام کی بنا پر وہ عربوں کی طرح، قرآن پڑھ کر بے احترامی سے سرہانے کے طور پہ استعمال نہیں کرتے۔۔۔۔۔
گیارہواں۔ وہ تب سے ایسے ہی پڑھتے چلے آ رہے ہیں جب سے ان کے آبا و اجداد اسلام میں داخل ہوئے۔ جن کے سچا ہونے پہ ایمان لانے کے بعد ان کے اجداد مسلمان ہوئے تھے–ان بڑے بزرگوں نے ان کے لئے عالمی سطح پر ہوئے صدیوں کے تجربے پہ مبنی یہی طریقہ بہترین تجویز کیا کہ اخلاص نیت سے تلاوت کلام ﷲ کرنا، ان کے لئے دونوں جہان میں سمجھ کے پڑھنے سے افضل ہے۔ کوئی 500 پانچ سو تو کوئی 1200 بارہ سو سال سے اسی اخلاص نیت و احترام سے ﷲ کا کلام پڑھتا چلا آ رہا ہے اور آج بھی نو سنیوں سے بہتر انسان+مسلمان+بہتر سنی+بہتر حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی ہے۔۔۔۔۔
بارہواں۔ اس باطل خیال کے حامل کوئی صاحب،
".....#ما_انا_من_المشرکین'' کے تین ترجموں کی تشریح کر دیں تاکہ سمجھنا آسان ہو جائے کہ کون سا ترجمہ بہتر ہے، منشائے خدا کے قریب تر ہے، بندگان خدا کے لئے مفید تر ہے :-
1- ۔۔۔#مشرکوں_سے_میرا_کوئی_واسطہ_نہیں_ہے
2- ۔۔۔#میں_مشرکوں_میں_سے_نہیں_ہوں
3- ۔۔۔#میں_مشرکوں_میں_نہیں۔ ۔۔۔۔۔
تیرہواں۔ نتائج کے نمونے کی جھلک:- منکرین حدیث، قرآن سمجھ کے پڑھنے کی تبلیغ کر کر کے معاشرے میں بے چینی، بد امنی اور تفرقے پیدا کر رہے ہیں۔ نیتوں کی خدا جانے، عملا معلوم ہوتا ہے یہ چاہتے ہیں کہ ملت کا بچا کھچا شیرازہ بھی بکھر جائے، ہر آدمی اپنے طور پہ الفاظ خداوندی کو معانی پہنا پہنا کر چودہ سو سالہ وحدت کی رہی سہی بساطِ بھی الٹ دے، فرامین رحمت اللعالمینؐ کو نعوذباللہ دفن کر دے اور سیر و مغازی و تاریخ وغیرہ سب کو دریا برد۔۔۔۔ لنک نیچے چسپاں ہے
چودہواں۔ غالبا تمام غیر عرب مسلم اقوام میں حضرت شیخ سعدیؒ قرآن کے اولین مترجم ہیں، جنہوں نے کم و بیش 825 آٹھ سو پچیس برس قبل قرآن کا ترجمہ کیا۔ ان سے قبل 600 چھ سو سال کے دوران پورے عالم اسلام میں قرآن کا دوسرا کوئی ترجمہ نہیں کیا گیا۔ کم از کم ایشیا میں تو نہیں، کیوں ؟؟؟؟؟ اسی طرح ان کے بعد کم و بیش 600 چھ سو برس تک ایشیا کے مختلف خطوں پہ قائم ہوئیں متعدد سلطنتوں اور بادشاہتوں کے ادوار میں کسی عالم نے ترجمہ نہیں کیا، کیوں ؟؟؟؟؟ دو ڈھائی سو سال سے قرآن کے ترجموں پہ ترجمے آنے شروع ہوئے۔ سوا ڈیڑھ سو برس پہلے تک صرف 5/4 ترجمے تھے، خدا جانے اب کتنے ہیں ؟ فقط ایک زبان-اردو میں ہی 20/15 تو اسلام 360 ایپ پہ ہی اپ لوڈ ہیں۔ ذرا غور کیجئے ! جب سے قرآن و حدیث کے ترجمے منظر عام پہ لانے شروع کئے گئے، ملت کتنے ٹکڑوں اور کتنے فرقوں میں تقسیم ہوتی چلی آ رہی ہے ؟؟؟؟؟ پورے جنوبی ایشیا(قدیم ہندوستان) میں 1000 ایک ہزار سال تک کوئی فرقہ/ مسلک نہ بنا۔ دیگر خرابیاں سو الگ۔ یہ تو علماء کے ترجموں کا نتیجہ ہے، جب ہر فرد مترجم و شارح قرآن ہوگا تب کیا ہوگا ؟؟؟؟؟ حیرتناک ! ہر آدمی کو نبیؐ علیؓ محسوس کرا کے تکبر و گھمنڈ کے دلدل میں پھینکا جائے(۔۔۔۔جس کے دل میں رائی برابر تکبر ہے، جنت میں داخل نہ ہوگا:مسلم-266)۔ ان و متقی شارحین قرآن عظیم کی حاجت سے بے نیازی و عدم اعتمادی کا بیج خود قرآن شناسی کے نام پہ ہی سادہ لوح ذہنوں میں جما کر, دین مبین و مسلمین کو تباہ کیا جائے !!!!! حالانکہ سب انہیں کے وسیلے سے ہی مسلمان ہیں الا دو پانچ فیصد۔۔۔۔
بندہ اپنی کار پردازیوں، غلطیوں، غفلتوں کے نتیجوں میں ملی ناکامیوں کا الزام کسی دوسرے، نا مسلم فرد و قوم پہ رکھ کے خود معصوم بننے اور اپنے اندرون سے صرف نظر کرنے کی مکاری کا قائل نہیں ہے۔ شیطان کو جو کرنا ہے کرنے کی کوشش کرے گا ہی، یہ اس کا اختیار و شعار ہے۔ آپ غور کیجئے ! ہمارے درمیان 2-250 دو ڈھائی سو برس سے کون سی طاقتیں ہیں جنہوں نے یہ سب کیا اور دین و ملت کی وحدت کو چکنا چور کر کے ذلیل و خوار کیا، کر رہی ہیں؟ موٹے طور پہ تین ہیں۔ غور و خوض کیجئے ! سب کو پڑھئے ! تحقیق کیجئے ! خلق خدا کے ساتھ ان کے برتاؤ دیکھئے کہ حکم خدا و سیرت رحمت اللعالمین صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم کے عدل و انصاف پہ مبنی ہیں یا نہیں ۔۔۔۔۔ ﷲ حامی و ناصر ہو !
نئی نئی باتیں اچھی لگتی ہیں، مگر ان کے نتائج پہ فقط اچھی طرح غور و فکر ہی نہیں کرنا چاہئے بلکہ انہیں دعوت و تبلیغ میں استعمال کرنے سے قبل سیکڑوں مرتبہ تجربے کے ترازو میں تول لینا چاہئے کہ ان سے سماج میں بگاڑ پیدا ہوگا یا سدھار۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ تفرقے، زبوں حالی، ناکامیاں، گلی کوچوں سے لے کر اسٹیج اور بلند بالا ایوانوں تک مسلمین و دین مبین پہ کئے جا رہے حملے ایسے ہی محدود+متعصب+غیر متوازن(=ناکام) ذہنوں کے اقوال و افعال کے نتیجے ہیں۔ کلام ﷲ کے فقط چار لفظوں کے تین ترجمے واضح طور پہ بتا رہے ہیں کہ ﷲ کے کلام کو سمجھنے کے لئے کس قدر اعلی پائے کی عاجزی، انکساری، ذہانت، حقانیت، عدالت، صلاحیت،اور دقیق علوم کی احتیاج ہوتی ہے ! امید ہے اب تک جو حضرات کسی کے ورغلانے سے سادہ لوحی و نیک نیتی کی بنا پر اس ڈگر پہ چل پڑے تھے، جانے کے بارے میں سوچ رہے تھے یا ایسے افراد کی تائید کر رہے تھے، اپنے خیالات و تصورات پہ نظر ثانی کرتے ہوئے شعور کی عمیق گہرائیوں میں جا کر غور و فکر کریں گے۔۔۔۔۔اور قرآن–ان کے نمائندوں سے سمجھیں گے جو جامعہ الازہر کی کہاوت کے مدار ہیں۔ جنوبی ایشیا میں دین مبین پھیلانے والے ہیں–خواجگان چشت۔ جہاں جنبہ داری سکھائی جائے گی نہ تعصب۔ آپ و آپ کے بچوں کو سعی کے مطابق کائنات کی طرح وسیع کر دیا جائے گا۔ متقی پرہیزگار پاکباز بنا دیا جائے گا۔ آپ کی روح=امر ربی میں پیوست خلیفہ خدا ہونے کی قوتوں کو بیدار کرکے ذلا بخشی جائے گی۔پھر آپ سنت انبیاء علیھم السّلام ادا کرنے کے لئے خواہ سائنسداں بنیں، تکنیکی استاذ بنیں، محقق سمندری حیات بنیں، ماہر طبقات الارض بنیں، آسمان کے شناور بنیں یا کچھ اور ہر جگہ خدا و خلق خدا کے دوست ہوں گے انبیاء علیہم السلام کی مانند۔۔۔۔۔
محدود(متعصب) ذہن لامحدود کلام سمجھنے کے اہل نہیں ہوتے !
عدل سےگفتگو نہ کرنا چوطرفہ ظلم و قوم کی تباہی کا اعلان ہے !
۔
۔
۔
۔
۔
بہت شکریہ، مالک خیر دے،خیر بانٹیں؛ دعا گو و دعا جو–المہر خاں 25-5-14
لنک :-
https://www.facebook.com/share/16dkWvvbqK/
صاحب اسکرین شاٹ Mustafai . . . . . . . .
کہتے ہیں : 80 سال سے قرآن کی تلاوت کرنے والے سے کسی ایک آیت کا مطلب پوچھو تو کہتے ہیں : نہیں معلوم، ظلم اسے کہتے ہیں !
تکبر کی انتہا دیکھئے عمر کا لحاظ ہے نہ بزرگی کا احترام۔ تصور کیجئے، بذرگ کی داڑھی ٹوپی بھی ہوگی اور غالبا ماتھے پہ سجدوں کے نشاں بھی مگر صاحب اسکرین شاٹ کی تعلیم و تربیت و مصابحت نے صرف تکبر و انانیت کو پروان چڑھایا۔ 45 سالہ آنجناب کی کوتاہ بینی پہ نظر ڈالئے کہ ماضی کو جانتے ہیں نہ حال سے واقف نہ مستقبل پہ نظر۔ تکبر اور دعوے اس قدر بلند کے الامان الحفیظ۔ دعوے یہ کہ مجھ سمیت میرے والدین، بیوی بچے، عزیز و اقرباء اور آبا و اجداد سب قرآن سمجھتے ہیں/ تھے، ابھی نہیں، صدیوں سے مگر اتنا شعور بھی نہیں رکھتے کہ سمجھ سکیں کہ 80 سال قبل نہ صرف ملک کے حالات دیگر گوں تھے نہ صرف قوم کے حالات بدتر تھے؛ آزادی ازادی، ہندوستان چھوڑو اور " لے کے رہیں گے پاکستان"جیسے نعرے انتہائے افق پر تھے بلکہ آج کی طرح ہر گام پہ سہولتیں بھی نہ تھیں۔۔۔۔۔اسی تبصرے کو کافی جانئے۔ شکریہ
۔
۔
۔
No comments:
Post a Comment