Wednesday, January 21, 2026

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-


#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-
200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں سے دیوبندی اور پھر اہل حدیث بنایا جاتا رہا ہے، لیکن پچھلے 20-15 یا زیادہ سال میں جتنے بھی مسلمان اسلام چھوڑ کر ملحد-ناستک ہوئے، ان تین یا دو مرحلوں سے گزر کے ہی ہوئے ہیں۔ چونکہ ڈیڑھ دو سو سال پہلے تک مسلم معاشروں میں مسالک نو بنو کا قطعا وجود تھا نہ الحاد و ملحدوں کا نام و نشان۔

گزشتہ کچھ برسوں سے امریکہ اور یوروپ سے گاہے گاہے خبریں آتی رہتی ہیں کہ مسلم ملکوں سے گئے ہوئے مسلمانوں کے بچے ملحد ہو رہے ہیں۔ ایسی خبریں ہندوستان سے بھی آتی رہتی ہیں اور پاکستان کا حال تو  بعض ویڈیو میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ " آپ جانتے ہیں! کن کن بڑے بڑے مفتیوں اور علماء تک کے بچے ملحد ہیں !!! " 

ان مراحل سے گزر کر اسلام چھوڑنے والے لوگوں کے بیانات یوٹیوب پہ Ex-Muslims کے ویڈیو میں دیکھے سنے جا سکتے ہیں۔ان میں سے کسی نے اپنا نام #Sahil، کسی نے #Sameer اور کسی نے #Sachwala وغیرہ وغیرہ رکھا ہوا ہے۔ یوٹیوب پہ ان کے ناموں سے پہلے Exmuslim لکھئے، چینل نمودار ہو جائیں گے۔ یقینا یہ خبر ہر مسلمان کے نزدیک تشویش ناک ہونی چاہئے۔کیرل میں تو سابق مسلمانوں نے با قاعدہ " Ex-Muslims of Kerala " نامی تنظیم رجسٹرڈ کروا لی ہے جو اسلام چھوڑ کر آنے والوں کی ہر طرح کی قانونی، حفاظتی اور مالی مدد کرتی ہے۔ اس بارے میں بھی یوٹیوب سے رجوع کیا جا سکتا ہے‌‌۔

مزید یہ کہ اصول علمائے کرام کے مطابق، اگر کسی عالم دین کے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچنے والے اساتذہ کے سلسلے میں سے کوئی ایک استاذ کسی بھی وجہ سے غائب ہو جائے تو بقول علمائے دین، اس کا علم دین معتبر رہے گا نہ وہ بطور عالم دین۔

جن لوگوں نے بظاہر اپنی مرضی مگر حقیقتا کسی کے ورغلانے سے اپنے آبا و اجداد سے چلے آ رہے اصلی اولین عقائد و تعلیمات و شعائر  چھوڑ کے نئے عقائد ..... اپنائے۔ خواہ ایک یا زیادہ بار ، بطور مثال تین پشتوں کو لیتے ہیں۔ دادا کسی کے ورغلانے سے آبا و اجداد کے کچھ اصلی اولین عقائد و تعلیمات و شعائر چھوڑ کر بریلوی بن گیا، پھر اس کے بیٹے نے بڑے ہو کر بریلویت چھوڑ دی اور کچھ اور اصلی اولین عقائد و تعلیمات و شعائر چھوڑ کر  دیوبندی عقائد و تعلیمات و شعائر اپنا کے دیوبندی بن گیا، پھر اس کے بیٹے نے دیوبندی عقائد و تعلیمات و سعائر سے بھی کچھ چھوڑ  دیئے اور اہل حدیثوں/غیر مقلدوں کے عقائد و تعلیمات و شعائر اپنا کر اہل حدیث بن گیا۔ ورغلانے والوں کو دادا کا مذہب بدلوانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا کہ بریلوی اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کے، بنسبت دیوبندیوں سے قریب تر نظر آتے ہیں۔ اسی طرح کسی بریلوی کو دیوبندی بنانے میں بہت زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی کہ وہ بھی خود کو سنی حنفی ظاہر کرتے ہیں، بعد از دیوبندی کو اہل حدیث . . . . بنانا آسان سے آسان تر ہو جاتا ہے کہ پہلے دادا نے کچھ اصلی اولین عقائد و تعلیمات و شعائر چھوڑ کر نئے اپنائے، پھر باپ نے بھی یہی کیا، پوتے کے لئے تو کچھ بھی چھوڑنا / اپنانا باپ دادا کے مقابلے مزید آسان ہو گیا کہ خاندانی عادت و روایت بھی بن گئی اور ورغلانے والوں کے لئے بھی زیادہ آسان۔ اس کے بعد کی نسلوں میں سے کسی کے لئے بھی آخری منزل الحاد یعنی ملحد ہو جانا ہی بچی ( قیامت تب تک نہ آئے گی جب تک زمین پہ ایک بھی رب کا نام لیوا رہے گا)، جو ہر دو اعتبار سے مزید آسان کہ . . . . لکڑ دادا، پڑ دادا، دادا اور باپ بھی تو اپنے اصلی اولین عقائد و تعلیمات و شعائر چھوڑتے رہے ہیں۔ اس پر آسانیوں کا مزید طرہ یہ کہ دین دھرم کے نام پہ کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا، نہ پیسہ خرچ ہوتا ہے نہ وقت۔ کسی بھی قسم کا کوئی جھنجھٹ بھی نہیں۔ کماؤ، کھاؤ، پیو، پہنو  اور۔۔۔۔۔ کسی سے ڈرتے رہنا نہ مسئلے مسائل، نہ عبادات و آخرت اور حرام و حلال کی فکر؛ اپنی زندگی اپنی مرضی اپنی بندگی . . . . .

خدا نے ہر بندے کو جو چاہے ماننے/کرنے جو چاہے نہ ماننے نہ کرنے کا حق یعنی اختیار دیا ہے۔ لیکن جب کسی شخص نے کسی کے سچا ہونے پہ ایمان لا کر بلاواسطہ یا بالواسطہ کوئی دین دھرم بالخصوص اسلام قبول کر لیا تو اس کی نسلیں بے شک خدا کے عطا کردہ اس اختیار کے حق کی وجہ سے مرضی کی مالک ہیں لیکن ان میں سے جتنے بھی اسلام کو ماننے کے دعویدار ہیں، آفاقی، اصولی و منطقی طور پہ ہر ایک کے ایمان و عقائد و تعلیمات و شعائر معتبر ہونے کے لئے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم تک تواتر و تسلسل سے ایسے ہی پہنچنے لازم و ملزوم ہیں جیسے علم دین و عالم دین کے ثقہ ہونے کے لئے اساتذہ کے سلسلے کا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم تک تواتر و تسلسل سے پہنچنا۔‌
غور و تحقیق کیجئے اور خوووووب کیجئے ! اللہ تعالی مدد فرمائے۔  آمین                                                           اولین اشاعت-24-10-24
یہاں سے خراسان تک چشتی ہی چشتی، پورے خطے کی تہذیبوں و انسانیت پہ چشتیوں کے اثرات و احسانات۔۔۔۔۔

حضرتِ خواجہ مودود چستی قدس سرہ العزیز
https://fb.watch/w_7EK7hObQ/)    
  حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہ العزیز
https://www.facebook.com/share/v/1AUzLvpzzC/?mibextid=NnVzG8)      ‌‌                ‌           
.
.
.


Sunday, January 18, 2026

★جنوبی ایشیا میں #عشق_و_محبت_مساوات_و_انسانیت کا #الکھ_جگانے والے :-

(1)حضرت خواجہ #ابو_اسحاق_حسینی_چشتی قدس ﷲ سرہ کو آپؒ کے ★پیر و مرشد حضرت خواجہ #علی_دینوری قدس ﷲ سرہ العزیز (وصال 14 محرم الحرام) نے ★250 ہجری کے قریب خرقہ خلافت و ولایت اور " چشتی " لقب عطا فرما کے قدیم ہندوستان یعنی آج کے جنوبی ایشیا کے ملک افغانستان کے شہر #چشت_روانہ کیا۔ آپ قدس ﷲ سرہ چشت تشریف فرما ہوئے اور بندگان خدا کے درمیان عشق و محبت و مساوات و انسانیت کا الکھ جگانے لگے۔ وفات 14 ربیع الآخر 329 ہجری۔ اس دوران آپ قدس اللہ سرہ العزیز نے چشتی دوم کے پیدا ہونے کی پیشگوئی فرمائی اور 260 ہجری میں آپ قدس ﷲ سرہ العزیز کے(2)خلیفہ حضرت خواجہ #ابو_احمد چشتی قدس ﷲ سرہ متولد ہوئے۔ وصال 01 جمادی الاخر 355 ہجری۔ آپ قدس ﷲ سرہ العزیز وقت آنے پر مسند خلافت پہ متمکن کئے گئے۔ حضرت خواجہ ابو احمد چشتی قدس ﷲ سرہ العزیز کے بعد آپؒ کے(3)خلیفہ حضرت خواجہ #ابو_محمد چشتی قدس ﷲ سرہ مسند خلافت پہ جلوہ افروز ہوئے۔ وفات 4 ربیع الآخر 421 ہجری۔ آپ قدس ﷲ سرہ العزیز کے(4)خلیفہ حضرت خواجہ #ابو_یوسف چشتی قدس ﷲ سرہ مسند خلافت پہ رونق فرما ہوئے۔ وصال 03 رجب المرجب 459 ہجری۔ آپ قدس ﷲ سرہ العزیز کے(5)خلیفہ حضرت خواجہ #قطب_الدین_مودود چشتی قدس ﷲ سرہ مسند خلافت پہ متمکن ہوئے‌۔ وفات 01 رجب  المرجب 527 ہجری۔ آپ قدس ﷲ سرہ العزیز کے(6)خلیفہ حضرت خواجہ #حاجی_شریف زندنی چشتی قدس ﷲ  سرہ۔ وصال 10 رجب المرجب۔ آپ قدس ﷲ سرہ العزیز کے(7)خلیفہ حضرت خواجہ #عثمان_ہارونی چشتی قدس ﷲ سرہ۔ وفات 5 شوال 607 ہجری۔ آپ قدس ﷲ سرہ العزیز کے(8)خلیفہ حضرت خواجہ غریب نواز #معین_الدین چشتی اجمیری قدس ﷲ سرہ۔ وصال 6 رجب المرجب 627 ہجری۔ آپ قدس ﷲ سرہ العزیز کے(9)خلیفہ حضرت خواجہ #قطب_الدین_بختیار کاکی چشتی قدس ﷲ سرہ۔ وفات 14 ربیع الآول‌ 633 ہجری۔ آپ قدس ﷲ سرہ العزیز کے(10)خلیفہ حضرت خواجہ شیخ #فرید_الدین_مسعود گنج شکر چشتی قدس ﷲ سرہ۔ وصال 5 محرم الحرام 668 ہجری۔ آپ قدس ﷲ سرہ العزیز کے دو بڑے معروف و مشہور خلفاء :- (11)حضرت خواجہ شیخ #علاؤالدین #علی_احمد_صابر چشتی کلیری قدس ﷲ سرہ۔ وفات 13 ربیع الاول اور ( 12)حضرت خواجہ محبوب الٰہی #نظام_الدین اولیاء چشتی قدس ﷲ سرہ۔ وِصال 17 ربیع الآخر  725 ہجری۔ ان دونوں برگزیدہ ہستیوں کے دو بڑے معروف خلفاء :- حضرت مخدوم صابر چشتی کلیری قدس ﷲ سرہ العزیز کے(13)خلیفہ حضرت خواجہ #شمس_الدین ترک صابری چشتی پانی پتی قدس ﷲ سرہ۔ وفات 15 جمادی الاخر 716 ہجری، آپؒ ترکمنستان سے ہندوستان تشریف لاۓ–اور حضرت نظام الدین اولیا قدس ﷲ سرہ العزیز کے نائب (14)حضرت خواجہ شیخ #نصیر_الدّین نظامی چشتی چراغ دہلی قدس ﷲ سرہ۔ وصال 18 رمضان المبارک 757 ہجری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ★500 پانچ سو برس کے اس مسلسل طویل سفر میں خواجگان چشت کی مشرقی شاخ کے مذکورہ 14 خواجگان چشت اور دیگر چشتیہ خواجگان کے ہزار ہا خلفاء نے نہ صرف جنوبی ایشیا یعنی قدیم ہندوستان کے چپے چپے پہ بلکہ ایران کے شہر نیشاپور (صوبہ خراسان  کا دارالحکومت-کے قرب و جوار میں دیگر خواجگان چشت کی درگاہوں کے علاوہ، 20 بیس کلومیٹر پہ واقع حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی قدس ﷲ سرہ العزیز کے ایرانی خراسانی مغربی چشتی شاخ کے خلیفہ ★شاہ سنجان حضرت خواجہ #رکن_الدین_محمود چشتی قدس ﷲ سرہ– ولادت 482، وصال 593 ہجری، کی درگاہ آج بھی زائرین کی عقیدت کا محور ہے) تک اور تحقیق کیجئے ! یقین کامل ہے کہ افغانستان و ایران کی سرحدوں سے ملحق وسط ایشیائی ممالک ترکمنستان، ازبکستان وغیرہ تک کے کم از کم سرحدی علاقوں میں خواجگان چشت نے عشق و محبت و مساوات و انسانیت کا الکھ جگایا۔ یہ #ایمان، یہ #توحید، یہ #مدرسے، یہ #مسجدیں، یہ #کروڑوں_سجدہ_ریز_پیشانیاں , یہ #زبان_اردو ، یہ #تہذیب #و_تمدن_و_ثقافت سب انہیں کے اسی الکھ جگانے کا #فیض_و_کرم ہیں۔ ان کے ہزاروں خلفاء کے ★1200 بارہ سو سال سے متواتر پشت در پشت ہوتے چلے آ رہے ہزاروں خلفاء کے ہزاروں چشتی خلفاء اور لاکھوں کروڑوں مریدین و عقیدت مند آج بھی دنیا بھر میں بارگاہ خدا و مخلوق خدا میں (بالخصوص بندگان خدا کے درمیان) عشق و محبت و مساوات و انسانیت کا یہی الکھ جگا رہے ہیں۔ 







Wednesday, January 14, 2026

★امید ہے اس مسئلے پہ طنز و نصائح بند ہو جائیں گے, 14 #نکات

★امید ہے اس مسئلے پہ طنز و نصائح بند ہو جائیں گے, 14 #نکات

           زبانی جمع خرچ کرنے والے غلط فہمی میں ہیں۔ ان کا یہ نکتہ نظر امت محمدیہ کو حتمی تباہی کے دہانے کی طرف لے جائے گا، اگرچہ ان کی نیتیں اچھی ہی کیوں نہ ہوں.....


وقت 14 منٹ↓(اسکرین شاٹ پہ تبصرہ آخر میں ملاحظہ فرمائے)


پہلا نکتہ۔ قرآن سمجھ کے پڑھنے کی نصیحت اور طنز تبھی بامعنی ہو سکتے ہیں جب ہر شخص (ڈیڑھ ارب افراد) کی تربیت کر کے اخلاص کی خو بیدار اور سمجھنے کی استعداد پیدا کر دی جائے۔ اس مسئلے پہ خدائے محمدؐ کا فرمان بڑا واضح ہے:-

 ۔۔۔#ھدی_للمتقین_ہدایت_پرہیزگاروں_کیلئے_ہے(2-2)۔ علیم و خبیر رب العالمین نے کلام پاک میں سمجھنے و ہدایت پانے کے لئے شروع میں ہی بڑی صراحت سے بتا دیا کہ میرے کلام کو سمجھنے اور مجھ سے ہدایت پانے کے لئے بندے کا پہلے پرہیزگار متقی بننا شرط ہے۔۔۔۔۔پتہ چلا، امت 300 تین سو برس سے اصلی متقی پیدا ہی نہیں کر رہی۔ مانند نمک ہوئے، انہیں بھی  بھیس بھرنا پڑا۔۔۔۔۔احقر کے پیشِ نظر چار ہیں،جنہیں کچھ ایسا کرنا پڑا کہ سماج پہ مسلط نو سنی شر سے بچے رہیں۔۔۔۔۔


دوسرا۔ اگر مصاحف سماوی لوگ خود ہی سمجھ لیا کرتے، انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔۔۔۔۔


تیسرا۔ اس باطل خیال کے مطابق، قرآن کسی پہاڑ کی چوٹی یا کعبۃ ﷲ کی چھت پہ نازل کر دیا جانا چاہئے تھا۔ لوگ خود ہی ایمان لے آتے، خود ہی سمجھ لیتے، خود ہی عمل کر لیتے اور خود ہی متقی بن جاتے۔۔۔۔۔


چوتھا۔ مولی علی کرم ﷲ وجہہ الکریم واحد قرآن شناس و شارح تھے، جن سے حضرات عبد ﷲ بن عباس و عبد ﷲ بن مسعود سمیت تمام اجلہ صاحب علم صحابہؓ جب بھی مشکل پیش آتی، رجوع کیا کرتے تھے۔ جو سارے کے سارے رحمت اللعالمینؐ سے تعلیم و تربیت یافتہ تھے۔حضرت عمرؓ نے آپؐ سے دس بارہ سال میں ایک سورت پڑھی؛ سورہ البقرہ۔ اب، ہر آدمی میں تکبر بھرا جا رہا ہے کہ وہ بنا استاذ، بنا اتالیق، بنا مرشد کی رہنمائی کے ہی از خود قرآن سمجھنے کا اہل ہے، نتیجے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خوارج کی طرح حتمی فیصلے صادر کرنے کا مجاز ہے۔۔۔۔۔


پانچواں۔ قرآن کے مزاج و زبان اور زبان کے اسرار و رموز بھی خوب اچھی طرح سمجھنے والے عربوں نے کون سے تیر مارے ہوئے ہیں؟ بلکہ ان کی حالت سادہ لوح معانی سمجھنے کی نیت سے نہیں، ثواب کی نیت سے پڑھنے والے عجمیوں(گونگوں) سے بدتر ہے۔۔۔‌‌۔۔جامعہ الازہر مصر کی ایک کہاوت:-#قرآن_نازل_ہوا_عرب_میں، #پڑھا_گیا_مصر_میں اور #سمجھا_گیا_ہند_میں، خود کلام ﷲ سمجھ کر پڑھنے کے ہزار ہا باطل خیالات کو مسترد کرنے کیلئے کافی سے بہت زیادہ زائد ہے کہ بنا سمجھے عقیدت واحترام سے  عبادت کے طور پہ تلاوت کلام ﷲ کرنے والوں کے #ہندوستانی_بڑے_بزرگ ( #اولیاء_ﷲ) ابتداء سے آج تک ساری دنیا کے علماء و اسلامی اسکالرز سے ★زیادہ دانا و بینا، ★زیادہ سمجھدار، ★زیادہ دیانتدار، ★زیادہ ملنسار، ★زیادہ صاحب ادراک، ★زیادہ فہیم، ★زیادہ دور بیں، ★زیادہ حقیقت شناس، ★زیادہ معانی شناور، ★زیادہ عادل، ★زیادہ حق پرست، ★زیادہ رب العالمین و رحمت اللعالمینؐ کے ★منشا و مقاصد ★دین مبین کو جانتے، سمجھتے اور عمل کرتے چلے آ رہے ہیں۔۔۔۔۔


چھٹا۔ بیشتر آیات کسی خاص واقعے خاص پس منظر کے تناظر میں نازل کی گئی ہیں۔ جب تک ان واقعات و تناظر کو صحیح طور پہ نہ جانا سمجھا جائے بڑے سے بڑے عربی داں بھی قرآن سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔۔۔۔۔


ساتواں۔ عربی کے سوا کروڑ الفاظ میں سے رب العالمین کے منتخب و مرتب کردہ  قرآن کے 3,23,671 الفاظ کو سمجھنا گڑے گڑیا کا کھیل نہیں ہے۔ جس کا ہر لفظ اقوام عالم کی قیامت تک کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے بھی زیادہ معانی اور معانی کے پیچھے چھپے معانی سے بھرا ہوا ہے۔۔۔۔۔


آٹھواں۔ الفاظ آگے پیچھے کرنے سے ہر زبان کے فقروں کے مفہوم میں تغیر و تبدل پیدا ہو جاتا ہے۔مثال: ٭ہدایت پرہیزگاروں کے لئے ہے اور ٭پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے۔ فقط پہلا ایک لفظ اٹھا کر آخری لفظ سے پہلے رکھنے پر مفہوم میں فرق واقع ہو گیا اور دو ترجمے بن گئے۔ لفظ بدلنے و کم زیادہ کرنے سے کیا کیا ہو سکتا ہے ؟ سوچ کر ہی روح کانپ رہی ہے کہ کلام خدا ہے، کلام خدا ! ۔۔۔۔۔


نواں۔ ٭جو سارے کے سارے رحمت اللعالمینؐ سے تعلیم و تربیت یافتہ تھے۔ یہ جملہ اوپر لکھا گیا ہے۔ اس کا صرف ایک لفظ بدلنے سے موجودہ مفہوم باقی تو رہے گا لیکن ماند پڑ جائے گا اور ایک دیگر مفہوم پیدا ہو کر پہلے مفہوم پہ حاوی ہو جائے گا۔ جس پر بیجا سہی، مگر اعتراض بھی کیا جا سکتا ہے۔ دیکھئے :- حالانکہ سارے کے سارے رحمت اللعالمینؐ سے تعلیم و تربیت یافتہ تھے۔۔۔۔۔


دسواں۔ بنا سمجھے پڑھنے والوں میں سے بیشتر کو اپنی زبان بھی ٹھیک سے نہیں آتی لیکن نیتیں اخلاص و محبت خدا و رسولؐ و قرآن سے بھری ہوتی ہیں۔ اسی عقیدت و محبت و احترام کی بنا پر وہ عربوں کی طرح، قرآن پڑھ کر بے احترامی سے سرہانے کے طور پہ استعمال نہیں کرتے۔۔۔۔۔


گیارہواں۔ وہ تب سے ایسے ہی پڑھتے چلے آ رہے ہیں جب سے ان کے آبا و اجداد اسلام میں داخل ہوئے۔ جن کے سچا ہونے پہ ایمان لانے کے بعد ان کے اجداد مسلمان ہوئے تھے–ان بڑے بزرگوں نے ان کے لئے عالمی سطح پر ہوئے صدیوں کے تجربے پہ مبنی یہی طریقہ بہترین تجویز کیا کہ اخلاص نیت سے تلاوت کلام ﷲ کرنا، ان کے لئے دونوں جہان میں سمجھ کے پڑھنے سے افضل ہے۔ کوئی 500 پانچ سو تو کوئی 1200 بارہ سو سال سے اسی اخلاص نیت و احترام سے ﷲ کا کلام پڑھتا چلا آ رہا ہے اور آج بھی نو سنیوں سے بہتر انسان+مسلمان+بہتر سنی+بہتر حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی ہے۔۔۔۔۔


بارہواں۔ اس باطل خیال کے حامل کوئی صاحب، 

".....#ما_انا_من_المشرکین'' کے تین ترجموں کی تشریح کر دیں تاکہ سمجھنا آسان ہو جائے کہ کون سا ترجمہ بہتر ہے، منشائے خدا کے قریب تر ہے، بندگان خدا کے لئے مفید تر ہے :-

1- ۔۔۔#مشرکوں_سے_میرا_کوئی_واسطہ_نہیں_ہے

2- ۔۔۔#میں_مشرکوں_میں_سے_‌نہیں_ہوں 

3- ۔۔۔#میں_مشرکوں_میں_نہیں۔ ۔۔۔۔۔


تیرہواں۔ نتائج کے نمونے کی جھلک:- منکرین حدیث، قرآن سمجھ کے پڑھنے کی تبلیغ کر کر کے معاشرے میں بے چینی، بد امنی اور تفرقے پیدا کر رہے ہیں۔ نیتوں کی خدا جانے، عملا معلوم ہوتا ہے یہ چاہتے ہیں کہ ملت کا بچا کھچا شیرازہ بھی بکھر جائے، ہر آدمی اپنے طور پہ الفاظ خداوندی کو معانی پہنا پہنا کر چودہ سو سالہ وحدت کی رہی سہی بساطِ بھی الٹ دے، فرامین رحمت اللعالمینؐ کو نعوذباللہ دفن کر دے اور سیر و مغازی و تاریخ وغیرہ سب کو دریا برد۔۔۔۔ لنک نیچے چسپاں ہے


چودہواں۔ غالبا تمام غیر عرب مسلم اقوام میں حضرت شیخ سعدیؒ قرآن کے اولین مترجم ہیں، جنہوں نے کم و بیش 825 آٹھ سو پچیس برس قبل قرآن کا ترجمہ کیا۔ ان سے قبل  600 چھ سو سال کے دوران پورے عالم اسلام میں قرآن کا دوسرا کوئی ترجمہ نہیں کیا گیا۔ کم از کم ایشیا میں تو نہیں، کیوں ؟؟؟؟؟ اسی طرح ان کے بعد کم و بیش 600  چھ سو برس تک ایشیا کے مختلف خطوں پہ قائم ہوئیں متعدد سلطنتوں اور بادشاہتوں کے ادوار میں کسی عالم نے ترجمہ نہیں کیا، کیوں ؟؟؟؟؟ دو ڈھائی سو سال سے قرآن کے ترجموں پہ ترجمے آنے شروع ہوئے۔ سوا ڈیڑھ سو برس پہلے تک صرف 5/4 ترجمے تھے، خدا جانے اب کتنے ہیں ؟ فقط ایک زبان-اردو میں ہی 20/15 تو اسلام 360 ایپ پہ ہی اپ لوڈ ہیں۔ ذرا غور کیجئے ! جب سے قرآن و حدیث کے ترجمے منظر عام پہ لانے شروع کئے گئے، ملت کتنے ٹکڑوں اور کتنے فرقوں میں تقسیم ہوتی چلی آ رہی ہے ؟؟؟؟؟ پورے جنوبی ایشیا(قدیم ہندوستان) میں 1000 ایک ہزار سال تک کوئی فرقہ/ مسلک نہ بنا۔ دیگر خرابیاں سو الگ۔ یہ تو علماء کے ترجموں کا نتیجہ ہے، جب ہر فرد مترجم و شارح قرآن ہوگا تب کیا ہوگا ؟؟؟؟؟ حیرتناک ! ہر آدمی کو نبیؐ علیؓ محسوس کرا کے تکبر و گھمنڈ کے دلدل میں پھینکا جائے(۔۔۔۔جس کے دل میں رائی برابر تکبر ہے، جنت میں داخل نہ ہوگا:مسلم-266)۔ ان و متقی شارحین قرآن عظیم کی حاجت سے بے نیازی و عدم اعتمادی کا بیج خود قرآن شناسی کے نام پہ ہی سادہ لوح ذہنوں میں جما کر, دین مبین و مسلمین کو تباہ کیا جائے !!!!! حالانکہ سب انہیں کے وسیلے سے ہی مسلمان ہیں الا دو پانچ فیصد‌۔۔۔۔


بندہ اپنی کار پردازیوں، غلطیوں، غفلتوں کے نتیجوں میں ملی ناکامیوں کا الزام کسی دوسرے، نا مسلم فرد و قوم پہ رکھ کے خود معصوم بننے اور اپنے اندرون سے صرف نظر کرنے کی مکاری کا قائل نہیں ہے۔ شیطان کو جو کرنا ہے کرنے کی کوشش کرے گا ہی، یہ اس کا اختیار و شعار ہے۔ آپ غور کیجئے ! ہمارے درمیان 2-250 دو ڈھائی سو برس سے کون سی طاقتیں ہیں جنہوں نے یہ سب کیا اور دین و ملت کی وحدت کو چکنا چور کر کے ذلیل و خوار کیا، کر رہی ہیں؟ موٹے طور پہ تین ہیں۔ غور و خوض کیجئے ! سب کو پڑھئے ! تحقیق کیجئے ! خلق خدا کے ساتھ ان کے برتاؤ دیکھئے کہ حکم خدا و سیرت رحمت اللعالمین صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم کے عدل و انصاف پہ مبنی ہیں یا نہیں ۔۔۔۔۔ ﷲ حامی و ناصر ہو !


 نئی نئی باتیں اچھی لگتی ہیں، مگر ان کے نتائج پہ فقط اچھی طرح غور و فکر ہی نہیں کرنا چاہئے بلکہ انہیں دعوت و تبلیغ میں استعمال کرنے سے قبل سیکڑوں مرتبہ تجربے کے ترازو میں تول لینا چاہئے کہ ان سے سماج میں بگاڑ پیدا ہوگا یا سدھار۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ تفرقے، زبوں حالی، ناکامیاں، گلی کوچوں سے لے کر اسٹیج اور بلند بالا ایوانوں تک مسلمین و دین مبین پہ کئے جا رہے حملے ایسے ہی محدود+متعصب+غیر متوازن(=ناکام) ذہنوں کے اقوال و افعال کے نتیجے ہیں۔ کلام ﷲ کے فقط چار لفظوں کے تین ترجمے واضح طور پہ بتا رہے ہیں کہ ﷲ کے کلام کو سمجھنے کے لئے کس قدر اعلی پائے کی عاجزی، انکساری، ذہانت، حقانیت، عدالت، صلاحیت،اور دقیق علوم کی احتیاج ہوتی ہے ! امید ہے اب تک جو حضرات کسی کے ورغلانے سے سادہ لوحی و نیک نیتی کی بنا پر اس ڈگر پہ چل پڑے تھے، جانے کے بارے میں سوچ رہے تھے یا ایسے افراد کی تائید کر رہے تھے، اپنے خیالات و تصورات پہ نظر ثانی کرتے ہوئے شعور کی عمیق گہرائیوں میں جا کر غور و فکر کریں گے۔۔۔۔۔اور قرآن–ان کے نمائندوں سے سمجھیں گے جو جامعہ الازہر کی کہاوت کے مدار ہیں۔ جنوبی ایشیا میں دین مبین پھیلانے والے ہیں–خواجگان چشت۔ جہاں جنبہ داری سکھائی جائے گی نہ تعصب۔ آپ و آپ کے بچوں کو سعی کے مطابق کائنات کی طرح وسیع کر دیا جائے گا۔ متقی پرہیزگار پاکباز بنا دیا جائے گا۔ آپ کی روح=امر ربی میں پیوست خلیفہ خدا ہونے کی قوتوں کو بیدار کرکے ذلا بخشی جائے گی۔پھر آپ سنت انبیاء علیھم السّلام ادا کرنے کے لئے خواہ سائنسداں بنیں، تکنیکی استاذ بنیں، محقق سمندری حیات بنیں، ماہر طبقات الارض بنیں، آسمان کے شناور بنیں یا کچھ اور ہر جگہ خدا و خلق خدا کے دوست ہوں گے انبیاء علیہم السلام کی مانند۔۔۔۔۔


محدود(متعصب) ذہن لامحدود کلام سمجھنے کے اہل نہیں ہوتے !


عدل سےگفتگو نہ کرنا چوطرفہ ظلم‌ و قوم کی تباہی کا اعلان ہے !

۔

۔

۔

۔

۔

بہت شکریہ، مالک خیر دے،خیر بانٹیں؛ دعا گو و دعا جو–المہر خاں 25-5-14

لنک :-

https://www.facebook.com/share/16dkWvvbqK/


صاحب اسکرین شاٹ   Mustafai . . . . .  . . .

کہتے ہیں : 80 سال سے قرآن کی تلاوت کرنے والے سے کسی ایک آیت کا مطلب پوچھو تو کہتے ہیں : نہیں معلوم، ظلم اسے کہتے ہیں !

 تکبر کی انتہا دیکھئے عمر کا لحاظ ہے نہ بزرگی کا احترام۔ تصور کیجئے، بذرگ کی داڑھی ٹوپی بھی ہوگی اور غالبا ماتھے پہ سجدوں کے نشاں بھی مگر صاحب اسکرین شاٹ کی تعلیم و تربیت و مصابحت نے صرف تکبر و انانیت کو پروان چڑھایا‌۔  45 سالہ آنجناب کی کوتاہ بینی پہ نظر ڈالئے کہ ماضی کو جانتے ہیں نہ حال سے واقف نہ مستقبل پہ نظر۔ تکبر اور دعوے اس قدر بلند کے الامان الحفیظ۔ دعوے یہ کہ مجھ سمیت میرے والدین، بیوی بچے، عزیز و اقرباء اور آبا و اجداد سب قرآن سمجھتے ہیں/ تھے، ابھی نہیں، صدیوں سے مگر اتنا شعور بھی نہیں رکھتے کہ سمجھ سکیں کہ 80 سال قبل نہ صرف ملک کے حالات دیگر گوں تھے نہ صرف قوم کے حالات بدتر تھے؛ آزادی ازادی، ہندوستان چھوڑو اور " لے کے رہیں گے پاکستان"جیسے نعرے انتہائے افق پر تھے بلکہ آج کی طرح ہر گام پہ سہولتیں بھی نہ تھیں۔۔۔۔۔اسی تبصرے کو کافی جانئے۔ شکریہ

۔

۔

۔


بالخصوص برائے صاحب پوسٹ !۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔#حتمی #فیصل #دلیل #نبوت ! 5/1

بالخصوص برائے صاحب پوسٹ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔#حتمی #فیصل #دلیل #نبوت !      5/1                                                
#سیرت_و_سنتؐ_عظمت_حسنؑ  وحشر"ملک عضوض" !

             ‌★200 خصوصاً 80/70 سال سے ایسے کام  کئے جا رہے ہیں جو امت محمدیہ نے 1300/12 سال میں کبھی نہیں کئے۔ ملت اسلامیہ نے اس پورے طول طویل دور میں کبھی بھی، کہیں بھی بچوں کے نام، سفیان و ہندہ، معاویہ و یزید، مروان و صفوان، حجاج و زیاد وغیرہ نہیں رکھے۔ کم از کم جنوبی ایشیا کی 1200 سالہ تاریخ میں تو قطعاً نہیں۔ اب پیٹرو ڈالر کے نرغے میں پھنس کر سفیان و معاویہ، ہندہ و یزید، مروان و صفوان عام کئے جا رہے ہیں۔ حجاج کے لئے دلوں میں  نرمی پیدا کی جا رہی ہے۔ کہیں سیاست معاویہ زندہ باد کے نعرے لگائے، عرس منائے اور کہیں سے''یزید معاویہ کا بیٹا تھا، اس لئے تابعی تھا، اس کے لئے اسے'رحمہ اللہ' کہنا چاہئے'' کے فتوے جاری کئے جا رہے ہیں۔ اسی طرح دیگر ایسے بہت سے بالکل نئے نئے کام  کئے جا رہے ہیں جو اسلام اور اس کی طاہر و مطہر ہستیوں کی شبیہ بگاڑنے کے ساتھ ساتھ، مسلمانوں کے زاویہ نگاہ تبدیل کر رہے ہیں بلکہ ذہنیت، ایمان و عقائد، اعمال و افعال و خصلتوں میں بھی خطرناک بدلاؤ لا رہے ہیں؛ ادھر  قابل کراہت لوگوں کو قابل مدح بنا رہے ہیں۔ امت میں ایسے لوگ پیدا کر دیئے گئے ہیں جو حق کے نام پہ ثنائے باطل اور بنام احترام کل،تقدس مصابحت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم، شان اہل بیت اطہار علیہم السلام، قربانی شہادت شہداء+صحابیت سابقون اولون مہاجر و انصار- صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین، اتباع تابعین و تبع تابعین اور تقویٰ اولیاءﷲ و صلحاؒء کی تضحیک و تذلیل کرنے پہ کمر باندھ چکے ہیں۔ فرقہ ہائے جدید میں سے بعض مسلکوں نے اس تعلق سے قدیم عقائد و نظریات پس پشت ڈال دیئے اور بالکل نئے عقیدے و نظرئے اپنا لئے ہیں۔ بیشتر مقرر، واعظ، خطیب، مصنف و مبلغ  اہل بیت اطہارؑ سے برائے نام تعلق کے خوگر ہوگئے یا ان کے اسمائے مبارکہ کو عوام کی اکثریت کے درمیان ساکھ بچائے  رکھنے  کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ سابقون اولون مہاجر و انصار صحابہؓ  کے ہم پلہ معاویہ کو باور کرایا جا رہا ہے، بلکہ بعض اوقات ان سے بھی بڑھ کے، جیسے، یزید کو معاویہ کا بیٹا ہونے کی بنا پر تابعی اور "رحمہ اللہ" ڈکلیئر کیا گیا؛ جب کہ آپؐ نے اسے خصوصی طور پہ ذمی لقب "ملک عضوض" دیا ہے اور "طلقاء" میں ہے ہی ۔۔۔۔۔۔جس کا مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ بشمول  محفوظ خطا حضرت امام حسینؑ تمام اصحاب رسول رضی ﷲ عنہم و حکم قرآن کے مطابق ان کی احسان کے ساتھ پیروی کرنے والوں کا دانستہ نا دانستہ مزاق اڑایا جائے؛ معاویہ و یزید کو ان کے سروں پہ بٹھا دیا جائے؛ ضمیر, شرافت و اقدار و اخلاق کی بات ہی کیا ! عدالت، قوانین شرعیت، انصاف، اصول و ضوابط سمیت اسلام کو دفن کر دیا جائے؛ حق کو باطل، باطل کو حق قرار دے دیا جائے اور اسلام کے نام پہ ہی مسلمانوں کو دین خدا و رسولؐ سے نکال کے بے راہ روی پہ ڈال دیا جائے؛ روز مرہ کی پوری زندگی بااصول سے بے اصول،انصاف پروری سے ناانصافی، حق سے ہٹا کر باطل پہ مرتکز کر دی جائے؛ یہاں تک کہ ان کی آخرت بالخیر پہ بھی سوالیہ نشان لگا دیا جائے ! ملت میں ایک بالکل منفرد طبقہ ابھر آیا ہے جو 100/50 سال پہلے تک کہیں نہیں تھا اور بنو امیہ کے لئے خدا و رسولؐ، اسلام و ایمان، اصول و مبادی، نظام عدل و امت محمدیہ کو داؤ پہ لگا چکا ہے۔ طویل گفتگو کا موقع نہیں۔ دنیا و آخرت سے وابستہ مسلمین دور حاضر  کے روئے، نظرئے، عقیدے، جبلتیں تباہ کر رہے اس اہمترین دینی، معاشرتی و اخلاقی بگاڑ کا پختہ حل #متواتر دلیل نبوت فرمان رسولؐ ہے۔ قوی امید ہے، اس کی زیر نظر تحلیل محبین ﷲ و رسولؐ، دین و ایمان اور حق و انصاف کو موجودہ روش پہ غور و فکر کرنے کے لئے مفید ثابت ہوگی۔۔۔۔۔۔

      5/2 ۔۔۔۔۔      
         محمد رسول ﷲ حسنین کریمینؓ کے نانا جانؐ نے فرمایا:-

               میرا یہ بیٹا سردار ہے-امید ہے-ﷲ اس کے ذریعے

                        دو مسلمان گروہ-میں-صلح-کرائے گا  

محفوظ خطا حضرت امام حسن علیہ السّلام نبی کریمؐ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں تھے, خاص جمعے کے دن، جمعے کی نماز سے عین قبل، خطبے کے دوران، تمام صحابہ رضی ﷲ عنہم خطبہ پوری توجہ و انہماک سے سماعت کر رہے ہیں، آپؐ ٹھیک اس وقت پیشگوئی فرماتے ہیں تاکہ ہر شخص دھیان سے سن لے اور ذہن نشیں ہو جائے، آواز، الفاظ اور رو مبارک سے بیٹے کی طرف مزید متوجہ کرنے کی خاطر کبھی صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین اور کبھی ان کی جانب نظر کرم فرماتے ہوئے انتہائی اہم بشارت پیشگوئی کا پہلا فرمان اعلان عام صادر کرتے ہیں :- " #میرا یہ بیٹا #سردار ہے۔۔،"  #کس کا #سردار ہے ؟  تمام امت محمدیہ کا ؛ ہر مسلمان کا ! جو بھی آپؐ کو برضا و رغبت خاتم الانبیاء مانتا ہو۔ جو بھی ﷲ کو واحدہ لاشریک، فرشتوں، کتابوں، انبیاء و رسل علیہم السلام اور روز حساب پہ ایمان رکھتا ہو، جو بھی محمدؐ بن عبدﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم کا دعویدار امتی ہو۔ ان سب کے سردار سبط رسولؐ حضرت امام حسن بن علی علیہم السلام ہیں۔ جس نے بھی محمد رسول ﷲ صلّی بن عبدﷲ۔۔۔ کا دعویٰ امتی کرنے کے باوجود اس فرمان کو نہ مانا، حضرت امام حسن بن علی علیہم السلام کو اپنا سردار تسلیم نہ کیا، وہ محمدؐ بن عبدﷲ۔۔۔۔کے ذریعے ﷲ تعالیٰ کے حکم پر مقرر کردہ نبی اکرمؐ کے سردار بیٹے کو سردار نہ ماننے کا ہی مرتکب نہیں ہوا، بلکہ ﷲ و رسولؐ  کے حکم سے سرتابی کرنے کا بھی مستوجب قرار پایا۔ پس، از خود اس نے رب العالمین و رحمت اللعالمینؐ کا دامن جھٹک کے چھوڑ دیا۔ فرمان رسولؐ میں مخفی شخص مع ناصبین پیشگوئی دلیل نبوتؐ کے #پہلے جزو میں ہی #دوہرا #فارغ ہے۔۔۔۔۔

مگر خبر نبی مکرمؐ ابھی کافی ہے۔ آگے فرمایا:-"۔۔۔#امید ہے۔۔۔"۔ آپؐ نے "امید" لفظ لغوی نہیں، یقینی خبر کے اصطلاحی و مرادی معنی میں استعمال فرمایا ہے کہ انبیاء و رسل علیہم السلام حکم خدا سے متعلق ہرگز غیر یقینی کلام نہیں فرماتے۔ آپؐ نے پیشگوئی صلح اس لئے فرمائی کہ آپؐ کو ﷲ تعالیٰ کی طرف سے معلوم تھا کہ جس شخص کے مستقبل میں باطل ثابت ہونے کے باوجود بھی، بلا کسی حق اور قوانین عدل و انصاف کی خلاف ورزی کر کے، جنگ و جدال کا طوفان برپا کرنے کی بنا پر، اس کا دوبارہ خبث باطن ظاہر کرنے اور ایک مرتبہ پھر امتحان سے گزارنے کی خدائی منشا کے پیش نظر ((( اس سے قبل جنگ صفین میں قتل حضرت عمار بن یاسرؓ و باغی گروہ دلیل نبوتؐ سے :- افسوس ! عمار! تجھے ایک #باغی گروہ قتل کرے گا۔#تو اسے #جنت کی طرف اور #وہ تجھے #جہنم کی طرف بلاتا ہوگا ))) صلح کی شرائط پہ معاہدہ ہونا ہے، وہ رسول خدا صلّی کے امت پہ مقرر کردہ سردار بیٹے کو خدا و رسولؐ کی حکم عدولی کر کے نہ صرف اپنا سردار تسلیم نہیں کرے گا بلکہ تیر و تلوار و تفنگ، مکر و فریب اور مقبوضہ حکومت کے تمام وسائل کے ساتھ فتنہ و فساد اور قتل و قتال پہ بھی اتر آئے گا (((جیسے, محفوظ خطا خلیفہ راشد مولیٰ علیؑ کے حکم معزولی و آپ کرم  اللہ وجہہ الکریم کو امیر المومنین ماننے سے انکار اور صفین میں مکر و خوں کے دریا بھائے ))) ساتھ ہی قرآن کی آیت :- مومن صلح کی پیشکش قبول کرے، کو مد نظر رکھ کے اپنی دانست میں بڑی ہوشیاری بھری چال چلے گا کہ میرا یہ بیٹا حکم خدا پہ عمل کرتے ہوئے ایک مسلمان گروہ کی دوسرے سے لازماً صلح کرائے گا۔ دلیل نبوتؐ میں مخفی شخص نے نبی کریمؐ کے کم  و بیش 34 سال قبل( فتح مکہ سے ڈھائی تین سال پہلے) ہر مسلمان کے سردار مقرر کئے گئے آپؐ کے  بیٹے کو اپنا سردار تو تسلیم کیا ہی کیا نہیں بلکہ فرمان رسولؐ کی ڈھٹائی سے مزید توہین کرتے ہوئے (بظاہر صرف) پوری ریاست مسلمہ ہتھیانے کی خاطر، مکر و جنگ کا جال بچھا دیا۔ معاویہ مع ناصبین #دوسری مرتبہ فارغ۔ مزید وضاحت زیر"دو مسلمان گروہ"۔۔۔۔۔




5/3
ایک مرتبہ پھر حاجت نہیں رہ جاتی کہ باقی فرمان رحمت اللعالمین صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے مزید گفتگو کی جائے، مگر کم از کم اس پیشگوئی دلیل نبوت سے مکمل طور پہ استفادہ کرنا لازم ہے۔ آپؐ نے دوران خطبہ جمعہ، بر سر منبر، حضرت امام حسن علیہ السّلام کے لئے ایک اور انتہائی عظیم‌ الشان بشارت کا اعلان فرمایا :-"۔۔۔۔۔#ﷲ اس کے ذریعے۔۔۔۔۔" ۔ کس کے ذریعے؟؟؟ کون؟؟؟؛ سبط رسولؐ امام حسن بن علیؑ، کے ذریعے، رب العالمین۔ ایک مرتبہ پھر دھیان دیجئے! رب العالمین ! حضرت امام حسنؑ کے ذریعے ! نہ کہ حضرت امام حسنؑ از خود !!! آپؐ کے یہ الفاظ ارشاد گرامی حضرت امام حسن علیہ السّلام کو رب العالمین و اپنا #نمائندہ مقرر کرنے کا #صریح اعلان عام ہیں !!! آپؐ نے بحکم قادر مطلق فرمان دلیل نبوت کے اولین جزو سے حضرت امام حسنؑ کو‌ امت کا سردار اور اس تیسرے ارشاد گرامی سے #خدا و #اپنا #نمائندہ مقرر فرمایا۔ حضرت امام حسن علیہ السّلام دونوں مسلمان گروہ سمیت تمام مسلمانوں کے سردار سربلند اور بجز مرتبہ مقام نبوت و رسالت #آپؐ کے #جاں نشیں #من جانب #رب العالمین ٹھہرے۔۔دلیل نبوتؐ میں مخفی شخص مع ناصبین #تیسری دفعہ فارغ کہ رب العالمین و رحمت اللعالمینؐ کے نمائندے کو ان کا نمائندہ ماننے سے بھی منحرف ہوا۔ ادھر، آپؑ کو (مزید) تین طرح کے تین جلیل القدر مقام و مراتب سے سرفراز کیا گیا اور اختیارات امور ملت اسلامیہ سپرد کئے گئے۔ ایک، نمائندہ ﷲ و رسولؐ۔ دو، امت محمدیہ کے سردار سربلند اور تین، خلیفت المسلمین بنا کر۔۔۔۔۔

نبی ا کرمؐ آگے فرماتے ہیں:-"۔۔۔#دو مسلمان گروہ۔۔۔"۔ ایک وہ جو اپنی  مرضی اور خوش دلی سے اسلام، امت محمدیہ، عدل و انصاف، حفاظت خلافت علیٰ منہاج نبوت، حق و خوشنودی حق تعالیٰ کی خاطر، حضرت امام حسنؑ کو تمام اختیارات سپرد کر کے، ملت اسلامیہ کا خلیفت المسلمین بنا کر میدان میں لایا۔ یہ عظیم واقعہ مشیت قادر مطلق اور اس کے محبوبؐ کی پیشگوئی ظہور میں آنے کی تمہید کے طور پہ رو نما ہوا۔ متعلقہ دلیل نبوت فرمان رسولؐ :- ((( میرے بعد خلافت #تیس 30 سال رہے گی، بعد از #کٹکھنا_راجہ آ جائے گا )))۔ دوسرا وہ جسے ایک شخص نے بغض مولیٰ(کرم ﷲ وجہہ الکریم) کے پروردہ ناصبین، منافقین، طامع دولت و حکومت، عیش و عشرتِ پرست، مطلبی، خوفزدہ، حب بنو امیہ کے جعل میں پھنسائے گئے، تمیز حق و باطل سے قاصر، مجبور، کم سمجھ، ناسمجھ اور سادہ لوح مسلمانوں کو مختلف حربوں، ہتھکنڈوں سے ورغلا کر گروہ بنایا ہوا تھا۔ وہ اسے نواسہ نبیؐ نمائندہ رب العالمین و رحمت اللعالمینؐ سردار سربلند خلیفت المسلمین حضرت امام حسنؑ کو ساتھیوں سمیت قتل کرنے کے لئے ہزاروں خوں آشام نیزے، تیر و تلوار و طبل، زرہیں، خود اور گھوڑے وغیرہ دے کر میدان میں لے کے آیا۔۔۔۔۔ الا ناصبین=منافقین، ((( پیمانہ ایمان، فرمان دلیل نبوت رسولؐ :- یا علی ! تم سے محبت نہیں کرے گا مگر صرف مومن اور بغض نہیں رکھے گا مگر فقط منافق/۔۔۔۔۔ہم ان (منافقوں) کو دہرا عذاب دیں گے۔ پھر انہیں ایک(خاص) عذاب اعظیم کی طرف بھیجا جائے گا:لتوبہ،101))) اس گروہ کے تمام مسلمان کسی بھی وجہ سے معاویہ کے ساتھ ہوں، بہر طور مسلمان تھے، خواہ گمراہ کئے گئے، بدگماں کئے گئے، للچائے یا ڈرائے گئے ((( ان سب کو مولیٰ علی کرم ﷲ وجہہ الکریم نے معاف کر کے امید ظاہر کی تھی کہ رب کریم انہیں معاف فرما دےگا )))۔ گروہ میں ان کی بڑی بھاری اکثریت تھی۔ اتنی بڑی  کہ سارے دشمن خدا و رسولؐ، دین و امت اور انسانیت انہیں کے پیچھے چھپنے کو لاچار تھے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آج مجبور ہیں اور خود کو "سنی" باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔

دلیل نبوتؐ کا اگلا لفظ گرامی ہے :-"۔.۔۔۔۔۔#میں۔۔۔۔۔"، دھیان دیجئے! " #میں" ؛ ' #سے #نہیں' !!! حضرت امام حسنؓ نمائندہ خدا و رسولؐ اور پوری امتِ محمدیہ کے سردار سربلند و خلیفت المسلمین بھی ہیں۔ جس کے افراد خواہ دو گروہ میں تقسیم ہوں، تین چار یا زیادہ،  آپؑ کی ذمےداری میں داخل تھے۔ ورغلانے گئے مسلمان گروہ کے خود ساختہ سرگروہ نے اس کے دم پہ سالوں سے مسئلہ کھڑا کیا ہوا تھا، جسے راہ راست پہ گامزن دوسرا مسلمان گروہ حل کرنا چاہتا تھا، سو آپؑ نے دونوں  "#میں" صلح کرائی، نہ کہ خود کسی #سے کی۔ معاویہ مع ناصبین #چوتھی دفعہ فارغ۔ بالفرض اگر مدافع مخفی شخص  کہے کہ نمائندہ خدا و رسولؐ نے' صلح  کی'  تو مخفی شخص پانچویں بار فارغ کہ (((مگر جیسے کہ دلیل نبوت فرمان رسولؐ سے عیاں ہے، آپؓ نے کسی سے بھی صلح نہیں کی))) آپؐ کا ایک اور اعلان اعلی شان ہے:- ((( میری، میرے اہلبیت سے جنگ کے مرتکب سے جنگ ہے، صلح والے سے صلح ))) یعنی حضرت امام حسنؑ #سے جنگ کرنے والا بھی کافر اور صلح کرنے والا بھی۔ جیسے مکے کے کافروں و مشرکوں نے آپ صلّی سے جنگ کی تب بھی کافر، صلح کی تب بھی کافر۔ یمن، نجران کے وفد نے ایمان نہ لاکر جزیہ دینے کی شرط پہ معاہدہ کر کے صلح کی تب بھی۔۔۔۔۔




5/4
بشارت دلیل نبوتؐ کا مخزن امن لفظ ہے:- "۔۔۔۔#صلح۔۔". یہ لفظ نبی مکرمؐ کی اس پیشگوئی کی اہمیت کے اعتبار سے اپنی جگہ اس قدر اہم ہے  کہ اس کے جلو میں کتاب کی متعدد جلدیں سما جائیں۔ لکھنے والے کو عبد مناف کے بیٹوں سے شروع کر کے ﷲ تعالیٰ کے صلح سے متعلق منشا و مقاصد اور آخری فیصلے تک کے ممکنہ و گزشتہ واقعات، اثرات، عمل، رد عمل, نتائج ، کرداروں کی جبلتیں، روایتیں، منصوبے، اہداف و مقاصد کا تمام پہلوؤں سے تجزیہ کرتے ہوئے بلا رو رعایت جلدوں پہ جلدیں قلمبند کرنی ہوں گی۔ سو، فقط چند باتیں۔ یہ عالم انسانیت کا  فقید المثال واقعہ ((( صلح ، اس لئے کہ نمائندہ خدا و رسولؐ؛ مخالف گروہ کے خود ساختہ سرگروہ کو چند شرائط کے کاغذی وعدے پہ سب کچھ سپرد کر دے اور مسلمانوں کی ریاست میں سے مطلق کوئی ادنٰی سی شے بھی اپنے پاس نہ رکھے؛ مثل خرق عادت حیرت و استعجاب کا مقام ہے !!!!! ))) تھا کہ ماقبل و بعد کبھی کہیں ہوا نہ ہوگا۔ بالکل سانحہ کرب و بلا مقتل خانوادہ رسولؐ ( 72 میں 22 مع حضرت امام حسینؑ) کی طرح بے مثل مگر ساتھ ہی قطعاً بر عکس ! نتائج دونوں کے یکساں۔ صلح کی شرائط کے خلاف عمل کرنے والے کی نیت و ذہنیت کے عکاس اعمال و اقوال و اثرات و نتائج فیصلہ صادر کرتے ہیں :- فتنہ اوپری طور پہ خاموش ہوا اور دین و امت میں دائمی تفرقہ ڈال دیا گیا ((( جیسے, صفین میں قرآن نیزوں کی نوک پہ چڑھا کے ڈالا اور آپؐ کی خوارج نکلنے کی پیشگوئی پوری ہونے کا ذریعہ بنا)))
۔۔۔۔۔ ! ایسے تنازعات میں صلح، عموما تین طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک، غالب فریق مغلوب فریق پہ شرطیں تھوپتا ہے۔ یہاں ایسا ہرگز نہیں۔ دو، فریقین کچھ لے دے کر صلح کرتے ہیں۔ یہ بھی قطعاً نہیں ہوا۔ تین، مکار فریق جو چاہتا ہے لینے  کے لئے دوسرے فریق کی ہر شرط قبول کر لیتا ہے۔ بالکل یہی کیا  گیا، مگر حضرت امام حسنؑ کی نسبت سے بوجہ عدیم المثال صلح ہونے کے مقابل اس کی اہمیت کم کم؛  اور دلیل نبوتؐ میں مخفی شخص کے تعلق سے انتہائی شدید عتاب آمیز ۔۔۔۔۔ ! چوں کہ حضرت امام حسن علیہ السلام رسول ﷲ صلّی کے نواسے، جاں نشیں من جانب رب کریم الا نبوت و رسالت، تعلیم و تربیت، دعاووں و فیضان یافتہ‌ (دوسری طرف!!!) سو آپؑ کو بہ واسطہ نبی اکرمؐ موصول حکم خدا پہ عمل کرنا ہی کرنا تھا. اسی لئے آپؑ نے راہ راست پہ گامزن جماعت کی طرف سے ایسی (((خواہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ پہ القا کیں یا مولیٰ علی کرم ﷲ وجہہ الکریم نے نبی کریمؐ سے موصولہ امانت کا مجموعہ آپ ع کو پہنچایا )))  شرطیں منوائیں جنہیں آپؑ خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ ساری تسلیم کر لے گا، مگر عمل برعکس کرے گا۔ یوں اس کے سارے بہتان، سارے بہانے، سارے مطالبے، سارے وعدے، سارے ارادے طشت از بام ہو جائیں گے۔۔۔۔! ایک اہم بات یہ کہ"صلح"بنا معاہدہ لکھے اور معاہدے میں بغیر شرائط درج کئے، ہرگز صلح نہیں ہوتی۔۔۔۔۔

آخری جزو گرامی پیشگوئی دلیل نبوتؑ :-"۔۔۔کرائے گا۔" صلح کرائے گا۔ "#کرائے"! پہ #خصوصی توجہ #مرکوز کیجئے! "#کرائے گا"؛ #کرے گا#نہیں!!! #صلح #کون#کرائے گا؟ #رب العالمین۔ #کس #کے#ذریعے #کرائے گا؟ #سبط رسولؐ #حسن بن علیؑ #کے#ذریعے #کرائے گا۔ #کون؟ #کس؟ #کے #ذریعے #کن؟ #کی#صلح #کرائےگا؟ #رب العالمین #اپنے و #اپنے #محبوبؐ #کے#نمائندے حضرت امام #حسنؑ  کے #ذریعے "#دو مسلمان گروہ"#میں #صلح #کرائے گا جو حکم خدا سے نبی کریمؐ کے مقرر کردہ ہر امتی کے سردار سربلند بھی ہیں۔  معاویہ مع ناصبین #پانچویں دفعہ فارغ۔ حضرت امام #حسنؔ نے #رب العالمین کے #قرآن و #آپؐ  سے موصول #حکم پر #بطور ان کے #نمائندے #دو مسلمان گروہ ''  #میں '' #صلح #کرائی #نہ کہ #خود #کسی '' #سے"  #کی۔۔۔۔۔

نبی اکرمؐ نے بحکم خدا اولین الفاظ پیشگوئی دلیل نبوت سے حضرت امام حسنؑ کو ہر امتی کا سردار مقرر فرمایا، پھر انہیں اپنے بعد تیس 30 سال پورے ہونے سے پہلے ہی ایک شخص کے، چھ 6 برس سے، خدا کی زمین پہ پھیلائے جا رہے فتنہ و فساد کو مزید پھیلانے سے رکوانے، برپا کی جا رہی خانہ جنگی اور بد امنی ختم کرانے، مع بندگان خدا امت کے جان و مال و عزت و حرمت محفوظ رکھوانے اور دوبارہ ((( پہلے قتل حضرت عمار بن یاسرؓ و باغی گروہ پیشگوئی دلیل نبوتؐ کے ذریعے ))) امتحان میں پڑے اسی شخص کا ایک بار پھر خبث باطن ظاہر کرانے کے لئے منجانب رب العالمین خود اس کا و اپنا #نمائندہ مقرر فرمایا۔ یہ اس قدر عظیم المرتبت ذمےداری تھی کہ سبط رسولؐ حضرت امام حسن بن علیؑ ہی سر انجام دے سکتے تھے۔  جیسے ان  کے والد  کرم ﷲ وجہہ الکریم کو اپنی جگہ مکے  کے کافروں و مشرکوں کی، اپنے پاس رکھی ہوئی امانتیں، سپرد کرانے کے لئے، روانگی شب ہجرت، بستر نبوت پہ سلایا؛ مہینوں بعد از فتح  مکہ، حج کے موقع پہ اپنا نائب بنا کر مشرکین و کفار کو ان کے لئے نازل حتمی حکم خدا سنانے  مکے بھیجا اور بدر و احد و خندق  و خیبر  وغیرہ  میں عظمت و رفعت سے بھریں عظیم ذمےداریاں عطا  کی تھیں۔۔۔۔۔




5/5
روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضرت امام حسنؑ نے کسی سے بھی قطعاً صلح نہیں کی۔رب العالمین نے اپنے و اپنے رسولؐ کے نمائندے(کے ذریعے)، مع ساری امت مسلمہ دونوں مسلمان گروہ کے سردار سربلند اور راہ راست پہ گامزن جماعت کے ان کو سپرد کردہ اختیارات کے تحت منجانب کل، شامل تنازعہ " دو مسلمان گروہ  میں صلح کرائی۔" شامی گروہ  کو سب  کچھ تہس نہس کرنے اور قتل و غارتگری پہ کمر پستہ  کر دیا گیا تھا۔ اسے  بائیس 22 برس سے جمع  کرنے والے سرگروہ نے مکر و فریب و لالچ کےنرغے میں پھنسا کر اپنے پیچھے پوری طرح لانبند کیا ہوا تھا۔ سو آپؑ نے ﷲ و رسولؐ اور راہ راست پہ گامزن مسلمان گروہ کی طرف سے، گمراہ  کردہ مسلمان  گروہ  کے خود ساختہ سرگروہ بنے شخص کو، چند سال کے لئے، مسلمانوں کی ریاست کے انتظامی امور سپرد کر دیئے۔ اس پہ مزید شرعی حجت تمام کرنے کے لئے معاہدہ صلح میں شرائط منوا کے لکھوا دیں۔ اس آخری و تیسرے امتحان میں بھی #نمائندہ خدا و رسولؐ کے مقابلے پہ آیا شخص پوری طرح ناکام ہو گیا۔ ((( اس سے قبل صفین میں حضرت عمار بن یاسرؓ کے قتل کی خبر موصول ہونے پر فرمان دلیل نبوتؐ کے معانی پلٹ کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ہمزہؓ۔۔۔۔۔  اور مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضرت عمار و دیگر شہداء رضی ﷲ عنہم کے  قاتل اور ۔۔۔۔۔ (نعوذباللہ) قرار دیا۔ چھ ماہ بعد بمقام اذرج‌ کلام اللہ سمیت خلیفہ راشد، 1000 بدری و اصحاب رضوانؓ اور تمام امت محمدیہ کے ساتھ ایسا ہی کیا ))). معاویہ مع ناصبین #چھٹی دفعہ فارغ۔ معاہدے کی شرائط  کے برعکس عمل کرنے سے اس  کا اصل مقصد و چہرہ ایک بار پھر تیسری بار علیم و خبیر و بصیر رب سمیت کروڑوں مسلمین اور پوری نوع انسانی کے سامنے آ گیا تاکہ روز حساب  کروڑ ہا  کروڑ ﷲ کے بندے اس کے خلاف گواہی دے سکیں۔ اس ایک ہی دلیل نبوت فرمان رسولؐ میں مخفی شخص مع ناصبین #چھ 6 مرتبے فارغ ہے۔ دونوں فریق میں صلح کا معاہدہ کرانا اور راہ راست پہ گامزن جماعت کی جانب سے معاہدے کی شرائط طے کرنا بھی دلیل نبوت فرمان نبی کریمؐ و اس جماعت کے آپؑ کو سپرد کردہ اختیارات کے تحت آپؓ کی ذمےداری میں داخل تھا۔ خدا و محبوب خدا صلّی کے نمائندے سبط رحمت اللعالمینؐ حضرت امام حسن بن علیؑ کے مقابلے پہ سرگروہ ناصبین آیا یہ اس کی پرورش و پرداخت، جبلت و ہوس اقتدار پہ طرہ مع آپؐ اہل بیت اطہارؑ سے بغض کی مار ؛ کوئی اور آتا، تب بھی حضرت امام حسن علیہ السّلام کی #سرداری #ذمےداری و #نمائندگی ﷲ و رسولؐ کی قدر و منزلت یہی ہوتی۔۔۔۔۔
 

   ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔    
 
   ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ 

   ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ 

   ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  

   ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔

نوٹ: تحریر میں پانچ پیشگوئی دلائل نبوت فرامین رسولؐ پیش کئے گئے ہیں۔ ایک جانب سب کا تعلق راست بالراست مشترکہ طور پہ اہل بیت اطہار و تین الگ الگ برگزیدہ ہستیوں اور ہر دو طرفہ جدا جدا مواقع سے ہے؛ یعنی آپؐ نے دس سالہ دور ہجرت کے مختلف اوقات میں موقع بموقع، کم و بیش 34 تا 40 برس بعد متفرق  موقعوں پر، سانحات و واقعات غیر مشتبہ رونما ہونے کے بارے میں، کل پیشگوئیاں ارشاد فرمائئں؛ دوسری طرف تمام متون میں فرد واحد اخص الخاص نشانہ مخفی شخص ''معاویہ'' ہے۔ انتہائی توجہ طلب و حیرت انگیز بات یہ کہ آپؐ نے کسی ایک پیشگوئی میں بھی اس کا نام لینا بھی گوارا نہیں فرمایا !!!!!  یہاں تک  کہ ایک  میں اس  کی خصلت  کو پوری طرح ابھار کے نمایاں کیا اور ساتھ ہی نام لینے سے بھی  سخت اعراض فرمایا۔ دلائل نبوتؐ میں مخفی شخص مع ناصبین نصف النہار کی طرح واضح اور موٹے طور پہ #گیارہ 11،جی ہاں، گیارہ 11 دفعے فارغ ہے۔ اسی سیرت و سنت رسولؐ پہ عمل  کرتے ہوئے تحریر میں کوشش کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور سبط رحمت اللعالؐمین حضرت امام حسن بن علی علیہم السّلام کے اسمائے مبارکہ کے ساتھ ایک ہی جملے میں اس کا نام نہ آئے۔ اگر کہیں بھول چوک سے آ گیا ہو، بہت بہت معذرت ! مطلع فرمائیں ! تاکہ تصحیح کر دی جائے !۔۔۔۔۔
         اولین اشاعت: 2022-10-27  نظر ثانی: 23-01-25
                                                       ‌‌بہت شکریہ -المہر خاں                         
      You can read here too :-
The Danka :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100065451491487&mibextid=kFxxJD )

Al-Miher  :-https://www.facebook.com/almiher.khan?mibextid=ZbWKwL )

Khan :-https://www.facebook.com/khan.al.miher?mibextid=ZbWKwL )

YT:-https://youtube.com/@al-miherkhan5200 )

Mahfoozeen e AnilKhata :- https://www.facebook.com/profile.php?id=100069971176911&mibextid=ZbWKwL

Baab e Ilm :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=61558962702629&mibextid=ZbWKwL

Darwaza e Ilm :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=61559172542175&mibextid=ZbWKwL

Baadul Ilm :-
https://www.facebook.com/bab.ul.llm.126850?mibextid=ZbWKwL
















Danka.in :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087020187177&mibextid=ZbWKwL

Danka News :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087052285886&mibextid=ZbWKwL

News Danka :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087407590643&mibextid=ZbWKwL

Danka :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087427479115&mibextid=ZbWKwL

Danka.com :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087568682766&mibextid=ZbWKwL

Al-Miher Khan :-
https://www.linkedin.com/in/al-miher-khan-a74450263 )

Al-Miher Khan :-
https://twitter.com/miher_al?s=20 )

Khan Al,-Miher :-
https://twitter.com/khan_Almiher/header_photo )

Al-Miher Khan :-
https://instagram.com/almiherkhan?igshid=ZGUzMzM3NWJiOQ%3D%3D )

بڑےچرچے ہیں ! #کیسےمعلوم فلاں کام #بدعت ہے؟ #हिंदीभी


بڑےچرچے ہیں ! #کیسےمعلوم فلاں کام #بدعت ہے؟    #हिंदीभी
2/1        حدیث سے۔                     #لیکن . . . . . #احادیث_جمع کرنا تو #سب_سے_بڑی_بدعتوں_میں_سے_ایک ہے۔۔۔۔۔ ! میلاد النبیؐ کی خوشی ایک دن، ماہ یا خاص مواقع پہ منائی جاتی ہے،ادھر جوں ہی کوئی #تحریر_و_تقریر_و_گفتگو کے دوران #حدیث_بیان کرتا ہے، فورا  #بدعت_پہ_عمل کرنے کا #مرتکب_ہو #جاتا_ہے ! ملاحظہ فرمائے :- 

یہ (میلاد نبیؐ ) روح و روحانیت کا معاملہ ہے ! مادے کے ماہر اسے قرآن و حدیث و آثار میں تلاش نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ انہیں قرآن و حدیث و آثار سے ہی ثابت بھی کیوں نہ کر دیا جائے، تسلیم نہیں کریں گے، جیسے سائنسدانوں پہ کیا جاتا ہے، نہیں مانتے۔

صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین کو پورے عرب کے مرتدوں اور چھوٹے نبیوں نے چین نہیں لینے دیا۔ بعد از سیکڑوں سال سے مستحکم چلی آ رہیں دنیا کی دو سپر پاور شہنشاہیتیں روم اور فارس تمام جنگی ساز و سامان و افواج کے ساتھ دونوں جانب سے نبردآزما ہو گئیں؛ وسائل کی انتہائی کمی کے باوجود ان سے مقابلہ کرنے میں مصروف ہونے نے۔۔۔ان سے قبل 22 سال دشمن جان رسول کریمؐ اور اسلام کفار مکہ کی لگاتار سات سات سو  700/700  کلومیٹر کا ریگستانی و پہاڑی سفر طے کر کر کے بارمبار برسائی گئیں قہر سامانیوں۔۔۔نے، کم مائیگی و بے بضاعتی نے۔ خلفائے راشدینؓ کے بعد #سو 100 ہجری کے اندر #دین_محمدیؐ کا کیا #حشر کیا گیا !!! :-
ﷲ کی قسم !  شریعت محمدیؐ کی کوئی بات اب میں نہیں پاتا۔ سوا اس کے کہ یہ لوگ با جماعت نماز پڑھ لیتے ہیں۔ حضرت ابو درداؓ ، بخاری-650، مسلم، مشکواۃ، مسند احمد، موطی امام مالکؒ۔وفات-32 ہجری
#میں_عہد_نبیؐ_کی_نماز_بھی
#اس_زمانے_میں_نہیں_پاتا !
...#اب_نماز_کو_بھی_ضائع_کر_دیا_گیا_ہے ! :
آپؐ کے خادم خاص حضرت انس بن مالکؓ، وصال-93 ہجری،اموی دور ملوکیت کے 54 ویں برس؛ عمر- زائد از 100 سال۔ #بخاری (529/30) کی #وحشت_ناک_صحیح_روایتوں کے ان الفاظ میں پنہاں معانی و مطالب سے ہر صاحب علم و نظر واقف ہے۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی، انہیں اس کے لئے کسی خاص اہتمام کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔ یہ سب ہمیں بدعت کے ذریعے معلوم ہوا۔

مخالفین بدعت، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب جو بھی حدیث بیان کرتے ہیں، خواہ اس یا کسی اور موضوع سے متعلق، حضرتِ عمر فاروقؓ نے تمام احادیث رسولؐ کے سننے, سنانے, جمع کرنے پہ سخت پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کا روز روشن کی طرح واضح مطلب ہے کہ اصول مخالفین بدعت کے مطابق ، بعد میں کبھی بھی ، کسی کو بھی احادیث رسولؐ ہرگز جمع۔۔۔۔۔ نہیں کرنی چاہئیں تھیں کہ صحابہؓ نے تو نہ صرف جمع نہیں کی تھیں بلکہ حکم امیر المومنینؓ کے تحت سننے, سنانے سے بھی باز رہے تھے، الا استثنیٰ۔ یہ بھی ہمیں بدعتیوں کے صدقے سے معلوم ہوا۔ مع صحاح ستہ تمام کتب احادیث میں رقم کردہ کل روایتیں بدعت پہ عمل   کرنے کا ہی نتیجہ ہیں۔ ان وجوہات  کی بنا پر مخالفین بدعت کے اصول کی رو سے انہیں کسی ایک بھی حدیث کو سننے, سنانے، جمع کرنے، عبارت و خطاب و کلام میں بیان کرنے سے قطعاً کوئی واسطہ نہیں ہونا چاہئے۔

طرہ یہ کہ آپؐ کے پردہ فرمانے کے ڈھائی تین سو 300/250  سال بعد ، بدعت کے ذریعے  کشید  کر کے قلمبند کی  گئیں تمام روایتوں کے بارے میں کامل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ وہی الفاظ ارشاد گرامی ہیں جو آپؐ کی زبان مبارک سے جاری و ساری ہوئے یا کس میں کتنی کمی بیشی ہوئی، جیسے,تواتر کی بنا پہ قرآن و متواتر احادیث کے بارے میں پورے وثوق سے !  آپؐ سے منسوب احادیث پہ ایقان و اعتماد اس لئے کیا (جو جیسی جتنی جس کے نزدیک معقول ہے) جاتا ہے کہ حضرات مؤلفین ( محدثینؒ ) نے سخت محنت اور اپنے تئیں پوری ایماندارانہ کوشش سے جمع کردہ منتخبہ معیاری روایتیں بیان کیں۔ بعد از محققین نے بھی ان پہ خوب کام کیا اور آج تک جاری ہے۔ اس طریقہ کار سے علم جرح و تعدیل وجود میں آیا، جو علم بدعت کا ہی ایک بچہ ہے۔ یہ بھی ہمیں #بدعت #ایجاد کرنے سے ہی معلوم ہوا۔

غور کیجئے !  ایک ایک محدث کو پانچ پانچ سات سات لاکھ احادیث کے عظیم ذخیرے ازبر، اور لکھیں صرف پانچ پانچ سات سات ہزار ہی  ! ! !  ؟؟؟  یہ بھی ہمیں بدعت کے طفیل ہی معلوم ہوا۔



2/2
اگر پھنس گئے ہیں، عربیت سے پنڈ چھڑائے ! عربیت اسلام نہیں ہے۔ اسلام عربیت (جاہلیت) کے خلاف اٹھا تھا۔ دین اسلام رب العالمین و خاتم النبیین رحمت  اللعالمینؐ کے کائناتی اصولوں اور مقاصد کے مجموعے کا نام ہے۔ ورنہ %99 امکان ہے، ایسے ہی بن جائیں گے کہ ایک فیصد %01 سچے لوگ بھی اعتبار نہیں کریں گے۔ جیسے محدثینؒ نے نہیں کیا اور ایک ایک کر کے عمر بھر کی محنت شاقہ سے جمع کردہ %99 روایتیں دماغ کے نہاں خانوں میں ہی دفن کر دیں۔ یاد رہے !  تمام قابل قبول حدیثوں کے سبھی معزز روات عرب ہیں اور ادھر، محدثین  نے جن %99  یعنی پانچ  5 لاکھ میں سے چار 4 لاکھ پچیانوے 95 ہزار حدیثوں کو  موضوعہ، خود ساختہ،جھوٹی, گھڑی گئیں اور باطل قرار دے کر دفن کیا، کے تمام روات بھی %200 عرب ہی ہوں گے۔ اور یہ سب بھی ہمیں بدعتیوں کے وسیلے سے ہی معلوم ہوا۔

احادیث کے روات کی روداد کو بڑا انوکھا کارنامہ بتایا جاتا ہے، ( ہے بھی) مگر حقیقت نہیں بتائی جاتی کہ اس کارنامے کے منصہ شہود پہ آنے کی وجہ کیا ہے !  اشارے کر دیئے گئے، #غور و خوض کیجئے !  اصول مخالفین بدعت کے تحت ان کے پاس قرآن کے بعینہ الفاظ پہ عمل کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ انہیں چاہئے کہ تراجم قرآن کے انبار، تفاسیر قرآن کے ذخائر، کتب احادیث و تراجم کے خزینے، فقہ کے دفینے، شروحات کے خزائن، علم کلام کا بحر زخار، فلسفہ و تاریخ کے بھنڈار وغیرہ وغیرہ، سب سےدستبردار ہو جائیں۔ صرف ان علوم و کتب ہی سے کیوں !  ان مسلمانوں سے بھی اعلانیہ برائت کا اظہار کریں جنہوں نے یہ سارے شاہکار تخلیق کئے اور ان سے بھی جو ان پہ بارہ تیرہ سو 1300/1200 سال عمل کرتے رہے۔  یہ سب بدعتیوں اور ان کے ایجاد کردہ علوم بدعت کے ذریعے تخلیقی مراحل سے گزر کے وجود میں آئے شاہکار ہیں ؛  انہیں ہر دور کے بدعتیوں نے اگلے دور کے بدعتیوں کو بحفاظت منتقل کیا، یہاں تک کہ موجودہ بدعتی مسلمانوں کو پہنچایا۔ پس، انہیں  ہرگز بدعتیوں کے شاہکاروں اور علوم بدعت سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے۔ بقول مخالفین بدعت اور ان کے اپنے اصول کے تحت بی وہ علوم بدعت سے مستفیض ہو کر گمراہی کے راستے پہ چل رہے ہیں جو شرک تک پہنچاتا ہے۔ ان کے اسی اصول کے تحت ان پر علم بدعت و اس کے بطن سے بیدا کی گئی ہر چیز کو یک لخت ٹھوکر مارنا واجب ہے۔ اپنے اس اصول پہ عمل کر کے وہ أمیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکم کی روز نا-فرمانی کرنے سے ہی نہیں، تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متضاد عمل کرنے سے بھی محفوظ رہیں گے اور ان کی مکمل طور پہ اتباع کرنے کا فریضہ بھی ادا کریں گے۔ بدعت سے پوری طرح پاک صاف ہو کر  شرک کی طرف بڑھ رہے قدموں کو بھی روک لیں گے اور اس کی تمام غلاظتوں سے مصفا و منزہ ہو کر دودھ کے نہیں، نور کے دھلے ہو جائیں گے۔ قوی امید ہے، آج سے ہی، مخالفین بدعت عربی قرآن کے علاوہ تمام پڑھی، سنی حدیثیں اور علوم کسی دوسرے کو پڑھائیں گے نہ پڑھیں گے، سنائیں گے نہ سنیں گے، عرض کریں گے نہ حضور میں پیش کریں گے اور نہ ہی کسی بھی طرح، کبھی بھی، کہیں بھی ثبت کریں گے۔ یہی ان کے ایمان و اعتقاد و اصول کا تقاضا ہے۔ ہاں، خود ان پہ عمل ضرور کر لیں، لیکن آ گے کسی بھی وسیلے سے دوسروں کو ہرگز نہیں پہنچانی چاہئیں۔

      ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔    
 
      ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ 

      ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ 

      ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  
 
      ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔

مخالفین بدعت کو یہ بھی خوب اچھی طرح سمجھ اور یاد رکھ لینا چاہئے کہ ان و ان کے بڑوں کی مانند کم مایہ عقل و علم، فہم و فراست، ادراک و وجدان، شعور و تفکر، متعصبانہ ذہنیت اور ڈیڑھ دو سو سال سے ہی قرآن و حدیث کا مطالعہ نہیں کیا گیا بلکہ اس کے بر عکس چودہ سو ستاون 1457 برس سے سیکڑوں جلیل القدر، وسیع الذہن، کہنہ مشق، ہمہ جہتی علوم کے غواص، سیرت و سنت رسولؐ کے پابند بدعتی علماء اور بزرگان دین، رب العالمین و رحمت اللعالمینؐ کے آفاقی مقاصد و منشا و مفتضا-اسلام برائے انسان، حال، ماضی مستقبل ، قوموں کی نفسیات و ضروریات ، دنیا و آخرت کے حالات و واقعات کی روشنی میں قرآن کے ایک ایک نقطے، حرف و لفظ پہ متعدد پہلوؤں سے غور و فکر کرتے رہے، آج بھی کرتے ہیں، آئندہ بھی کرتے رہیں گے اور اسی طریق پہ ہر حدیث کے ہر ہر نقطے، حرف، لفظ، کے معانی و مطالب و مقاصد اور محل استعمال پہ بھی.....
    اولین اشاعت- 2022-10-11               نظر ثانی - 22-12-31
                                                                -المہر خاں   
                   

۔
۔
      You can read here too :-

Al-Miher:-https://www.facebook.com/almiher.khan?mibextid=ZbWKwL

Yasha:-https://www.facebook.com/yasha.ali.khan?mibextid=ZbWKwL

Khan:-https://www.facebook.com/khan.al.miher?mibextid=ZbWKwL

YouTube :-
https://youtube.com/@al-miherkhan5200

Mahfoozeen e AnilKhata :- https://www.facebook.com/profile.php?id=100069971176911&mibextid=ZbWKwL

Baab e Ilm :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=61558962702629&mibextid=ZbWKwL

Darwaza e Ilm :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=61559172542175&mibextid=ZbWKwL









Baadul Ilm :-
https://www.facebook.com/bab.ul.llm.126850?mibextid=ZbWKwL

The Danka :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100065451491487&mibextid=kFxxJD

Danka.in :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087020187177&mibextid=ZbWKwL

Danka News :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087052285886&mibextid=ZbWKwL

News Danka :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087407590643&mibextid=ZbWKwL

Danka :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087427479115&mibextid=ZbWKwL

Danka.com :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087568682766&mibextid=ZbWKwL

Al-Miher Khan :-
https://www.linkedin.com/in/al-miher-khan-a74450263 )

Al-Miher Khan :-
https://twitter.com/miher_al?s=20

Yasha Ali Khan:-
https://x.com/Yasha_Ali_Khan?t=bDgTFydsg66g67_X8sF2hg&s=09

Al-Miher Khan :-
https://instagram.com/almiherkhan?igshid=ZGUzMzM3NWJiOQ%3D%3D
.
.
.

   

बड़े चर्चे हैं ! कैसे मालूम फ़ुलां काम #बिद्अत है ? 2/1

बड़े चर्चे हैं !  कैसे मालूम फ़ुलां काम #बिद्अत है ?                2/1
                          ‌                      ह़दीस़ से।                     #लेकिन . . . . . #ह़दीस़_जमा करना तो #सब_से_बड़ी_बिद्अतों_में_से_एक_है . . . . . ! #मिलादुन्नबी स़. की #ख़ुशी एक #दिन, #माह या #ख़ास़_मवाक़े  पे #मनाई जाती है, इधर जैसे ही कोई #तह़रीर_ओ_तक़रीर_ओ_गुफ़्त्गू के दौरान #ह़दीस़_बयान करता है,फ़ौरन #बिद्अत_पे_अमल करने का #मुर्तकिब हो जाता #है। #बांचिए :-

यह ( मिलाद ए नबी स़.) रूह़ व रूह़ानियत का मुआम्ला है, मादे के माहिर इसे क़ुर्आन ओ ह़दीस़ ओ आस़ार में तलाश नहीं कर सकते। यहां तक कि उन्हें क़ुर्आन ओ ह़दीस़ ओ आस़ार से ही स़ाबित भी क्यूं न कर दिया जाए, तस्लीम नहीं करेंगे। जैसे साइंसदानों पे किया जाता है, नहीं मानते।

स़ह़ाबा किराम रिज़्वानुल्लाही अलैहिम अज्मईन को पूरे अ़रब के मुर्तिदों और झूटे नबियों ने चैन नहीं लेने दिया। बाद अज़ सैकड़ों साल से मुस्तह़कम चली आ रहीं दुनिया की दो सुपर पावर शहंशाहियतें रूम और फ़ारस तमाम जंगी साज़ ओ सामान ओ अफ़्वाज के साथ दोनों जानिब से नबर्द-आज़्मा हो गईं। वसाइल की इंतेहाई कमी के बावुजूद उनसे मुक़ाबिला करने में मस़्रूफ़ होने ने .......उनसे क़ब्ल 22 बरस दुश्मन ए जान ए रसूलअल्लाह स़. और इस्लाम कुफ़्फ़ार ए मक्का की लगातार सात सात सो  700/700 किलोमीटर का रेगिस्तानी और पहाड़ी सफ़र तै कर कर के बारमबार बरसाई गई क़हर सामानियों ने...कम माईगी व  बे-बज़ाअती ने। ख़ुलफ़ा ए राशिदीन रजी. के बाद #सो 100 हिजरी के अंदर #दीन_ए_मॊह़म्मदी स़. का क्या #ह़श्र किया गया ! ! ! :-
#मैं_नबी स़. #के_अहद_की_नमाज़_भी_इस_ज़माने_में_नहीं_पाता !
#अब_नमाज़_को_भी_ज़ाऐ_कर_दिया_गया_है ! :बुख़ारी
आप स़ के ख़ादिम ए ख़ास ह़ज़रत अनस बिन मालिक रज़ी., विस़ाल-93 हिज्री,उमवी दौरे मलूकियत के 54 वें बरस।उम्र- ज़ाइद अज़ 100 साल।#बुखारी(529/30)की वह़्शत-नाक स़ह़ीह़ रिवायतों के इन अल्फ़ाज़ में पिन्हां मआनी व मत़ालिब से हर स़ाह़ब ए इल्म ओ नज़र वाक़िफ़ है.....वैसे भी, उन्हें इसके लिए किसी  ख़ास़ एहतेमाम की बिल्कुल ज़रूरत नहीं थी ! यह सब हमें  बिद्अत के ज़रिए मालूम हुआ ।

मुख़ालिफ़ीन ए बिद्अत, नबी ए करीम स़. से मन्सूब जो भी ह़दीस़ बयान करते हैं, ख़ाह इस या किसी और मौज़ू से मुतअल्लिक़; ह़ज़रत उमर फारूक रज़ी. ने तमाम अह़ादीस़ ए रसूल स़. के सुन्ने , सुनाने , जमा करने पे सख़्त पाबंदी आइद कर दी थी। इसका रोज़ ए रोशन की त़रह़ वाज़ेह़ मतलब है कि उस़ूल ए मुख़ालिफ़ीन ए बिद्अत के मुताबिक़, बाद में कभी भी, किसी को भी अह़ादीस़ ए रसूल स़. हर्गिज़ जमा..... नहीं करनी चाहिए थीं कि स़ह़ाबा रज़ी.ने तो न सिर्फ़ जमा नहीं की थीं बल्कि ह़ुक्म ए अमीर-उल-मौमिनीन रज़ी के तहत सुन्ने सुनाने से भी बाज़ रहे थे, इल्ला इस्तिस़ना। यह भी हमें बिद्अतियों के स़द्क़ै से मालूम हुआ। मै सिह़ाह़ ए सित्ता तमाम कुतुब ए अह़ादीस़ में रक़म कर्दा कुल रिवायतें बिद्अत पे अमल करने का ही नतीजा हैं। इन वुजूहात की बिना पर मुख़ालिफ़ीन ए बिद्अत के उस़ूल की रू से , उन्हें किसी एक भी ह़दीस़ को सन्ने, सुनाने, जमा करने, इबारत ओ ख़ित़ाब ओ कलाम में बयान करने से क़त़्अन कोई वास्ता नहीं होना चाहिए ।

त़ुर्रा यह कि आप स़.के पर्दा फ़र्माने के ढ़ाई तीन सो  250/300  साल बाद बिद्अत के ज़रिए कशीद करके क़लमबंद की गईं तमाम रिवायतों के बारे में कामिल यक़ीन से नहीं कह सकते कि यह वही अल्फ़ाज़ ए इर्शाद ए गिरामी हैं जो आप स़. की ज़बान ए मुबारक से जारी ओ सारी हुए या किस में कितनी कमी बेशी हुई; जैसे, तवातुर की बिना पे क़ुर्आन व मुतवातिर अह़ादीस़ के बारे में पूरे वुस़ूक़ से ! आप स़. से मन्सूब अह़ादीस़ पे ईक़ान ओ एत्माद इस लिए किया ( जो जैसी जितनी जिसके नज़दीक माक़ूल है ) जाता है कि ह़ज़्रात ए मॊअल्लिफ़ीन ( मुह़द्दिस़ीन रह़.) ने सख़्त मेह़नत और अपने तईं पूरी ईमादाराना कोशिश से जमा कर्दा मुन्तख़बा मैयारी रिवायतें बयान कीं। बाद अज़ मॊह़क़्क़िक़ीन ने भी उनपे ख़ूब काम किया और आज तक जारी है। इस त़रीक़ा ए कार से इल्म ए जिरह़ ओ तादील वुजूद में आया, जो इल्म ए बिद्अत का ही एक बच्चा है। यह भी हमें #बिद्अत #ईजाद करने से ही मालूम हुआ ।

ग़ौर किजिए ! एक एक मॊह़द्दिस़ को पांच पांच सात सात  लाख अह़ादीस़ के अज़ीम जख़ीरे अज़्बर, और लिखें सिर्फ़ पांच पांच सात सात हज़ार ही  ! ! ! ???  यह भी हमें बिद्अत के त़ुफ़ैल ही मालूम हुआ।




2/2
अगर फंस गए हैं,अ़र्बियत से पिंड छुड़ाईये ! अर्बियत इस्लाम नहीं है। इस्लाम अ़र्बियत (जाहिल्यत) के ख़िलाफ़ उठा था। दीन ए इस्लाम रब्बुल आलमीन व ख़ातमुन्नबिय्यीन रह़मतुल्लिल्आलमीन स़. के काएनाती उस़ूलों और मक़ास़िद के मज्मुए का नाम है । वर्ना ऐसे ही बन जाएंगे कि एक फ़ीस़द 01% सच्चे लोग भी एत्बार नहीं करेंगें। जैसे मॊह़द्दिस़ीन रह़.ने नहीं किया और एक एक करके उम्र भर की मेह़नत ए शाक़्क़ा से जमा कर्दा  99% रिवायतें दिमाग़ के निहां ख़ानों में ही दफ़्न कर दीं। याद रहे ! तमाम क़ाबिल ए क़ुबूल ह़दीस़ों के सभी मॊअज़्ज़ज़ रव्वात अ़रब हैं और इधर, मॏह़द्दिस़ीन ने जिन 99% यानी पांच 5 लाख में से चार 4 लाख पिच्चयानवे 95 हज़ार ह़दीस़ों को मौज़ूआ, ख़ुद साख़्ता, झूटी, घड़ी गईं और बात़िल क़रार दे कर दफ़्न किया , के तमाम रव्वात भी 200% अ़रब ही होंगे। और यह सब भी हमें बिद्अतियों के वसीले से ही मालूम हुआ ।

अह़ादीस़ के रव्वात की रूदाद को बड़ा अनौखा कारनामा बताया जाता है (है भी) मगर ह़क़ीक़त नहीं बताई जाती कि इस कारनामे के मनस़्सा ए शुहूद पे आने की वजह क्या है! इशारे कर दिए गए, #ग़ौर ओ ख़ौज़ किजिए ! उस़ूल ए मुख़ालिफ़ीन ए बिद्अत के तहत उनके पास क़ुर्आन के अ़रबी अल्फ़ाज़ पे अमल करने के इलावा कोई और रास्ता नहीं है। उन्हें चाहिए कि तराजिम ए कुर्आन के अंबार, तफ़ासीर कुर्आन के ज़ख़ाइर, क़ुतुब ए अह़ादीस़ ओ तराजिम के ख़ज़ीने, फ़िक़्ह के दफ़ीने, शुरूह़ात के ख़ज़ाइन, इल्म ए कलाम का बह़र ए ज़ख़्ख़ार, फ़ल्सफा ओ तारीख़ के भंडार वग़ैरह वग़ैरह, सब से दस्तबर्दार हो जाएं। सिर्फ़ इन उलूम ओ कुतुब ही से क्यूं ! उन मुसलमानों से भी एलानिया बराअत का इज़्हार करें !  जिंहोंने यह सारे शाहकार तख़्लीक़ किए और उन से भी जो इन पे बारह तेरह 12/13  सो साल अमल करते रहे। यह सब बिद्अतियों और उनके इजाद कर्दा उलूम ए बिद्अत के ज़रिए तख़्लीक़ी मराह़िल से गुज़र के वुजूद में आए शाहकार हैं। उन्हें हर दौर के बिद्अतियों ने अगले दौर के बिद्अतियों को बह़िफ़ाज़त मुन्तक़िल किया; यहां तक कि मौजूदा बिद्अती मुसलमानों को पहुंचाया। पस, उन्हें हर्गिज़ बिद्अतियों के शाहकारों और उलूम ए बिद्अत से फ़ाइदा नहीं उठाना चाहिए ! बक़ौल मुख़ालिफ़ीन ए बिद्अत और उनके अपने उस़ूल के तह़त ही वह उलूम ए बिद्अत से मुस्तफ़ीज़ होकर गुमराही के  रास्ते पे चल रहे हैं, जो शिर्क तक पहुंचाता है। उनके इसी उस़ूल के तहत उन पर इल्म ए बिद्अत व उसके बत़्न से पैदा की गई, हर चीज़ को यक लख़्त ठोकर मारना वाजिब है। अपने इस उस़ूल पे अमल करके वह अमीर-उल-मौमिनीन ह़ज़रत उमर फ़ारूक़ रज़ीअल्लाहु अन्हु के ह़ुक़्म की रोज़  नाफ़र्मानी करने से ही नहीं, तमाम स़ह़ाबा किराम रिज़्वानुल्लाही अलैहिम अज्मईन के मुतज़ाद अमल करने से भी मह़फ़ूज़ रहेंगे और उनकी मुकम्मल त़ौर पे इत्तेबा करने का फ़रेज़ा भी अदा करेंगे। बिद्अत से पूरी त़रह़ पाक-स़ाफ़ हो कर शिर्क की तरफ़ बढ़ रहे क़दमों को भी रोक लेंगे और उसकी तमाम ग़िलाज़तो से मुस़फ़्फ़ा व मुनज़्ज़ा हो कर दूध के नहीं, नूर के धुले हो जाएंगे। क़वी उम्मीद है, आज से ही, मुख़ालिफ़ीन ए बिद्अत अ़रबी क़ुर्आन के इलावा तमाम पढ़ी सुनी ह़दीस़ें और उलूम किसी दूसरे को पढ़ाएंगे न पढ़ेंगे, सुनाएंगे न सुनेंगे, अर्ज़ करेंगे न हुज़ूर में पेश करेंगे और ना ही किसी भी त़रह़, कभी भी, कहीं भी स़ब्त करेंगे। यही उनके ईमान ओ एतक़ाद ओ उस़ूल का तक़ाज़ा है। हां , ख़ुद उनपे अमल ज़रूर कर लें, लेकिन आगे किसी भी वसीले से दूसरों को हर्गिज़ नहीं पहुंचानी चाहिएं ।

मुख़ालिफ़ीन ए बिद्अत को यह भी ख़ूब अच्छी त़रह़ समझ और याद रख लेना चाहिए कि उन व उनके बड़ों की मानिन्द कम माया अक़्ल ओ इल्म, फ़हम ओ फ़िरासत, इद्राक ओ विज्दान, शुऊर ओ तफ़क्कुर,मुतास़्स़िब ज़ेहनियत और डेढ़ दो सो साल से ही क़ुर्आन ओ ह़दीस़ का मुताला नहीं किया गया ; बल्कि इसके बर्अक्स चौदह सो सत्तावन 1457  बरस से सैकड़ों जलील-उल-क़द्र, वसी-उज़्ज़ेहन, कॊहना मश्क, हमा जेहती उलूम के ग़व्वास सीरत ओ सुन्नते रसूल स़. के पाबंद बिद्अती उलमा और बुज़ुर्गान ए दीन, रब्बुलआलमीन व रह़मतुल्लिल्आलमीन स़. के आफ़ाक़ी मन्शा ओ मक़ासिद ओ मुक़्तज़ा ए दीन-बराए इंसान, ह़ाल, माज़ी, मुस्तक़बिल, कौमों की नफ़्सियात ओ ज़रूरियात, दुनिया ओ आख़िरत के ह़ालात ओ वाक़ेआत की रोशनी में क़ुर्आन के एक एक नुक़्ते, ह़र्फ़ व लफ़्ज़ पे मुतअद्दिद पहलूओं से ग़ौर ओ फ़िक्र करते रहे, आज भी करते हैं, आइंदा भी करते रहेंगे और इसी त़रीक़ पे हर ह़दीस़ के हरेक नुक़्ते, ह़र्फ़, लफ़्ज़, के मआनी ओ मत़ालिब ओ मक़ासिद और मह़ल ए इस्तेमाल पे भी। . . . . .
     अव्वलीन इशाअत-11-10-22          नज़र ए स़ानी - 31-12-22   
                
                                 बहुत शुक्रिया  -अलमिहर ख़ां       
        
                     
      You can read here too :-

Almiher:-https://www.facebook.com/almiher.khan?mibextid=ZbWKwL )
Yasha:-https://www.facebook.com/yasha.ali.khan?mibextid=ZbWKwL )
Blog:-https://baabeilm.blogspot.com/?m=1)
YT:-https://youtube.com/@al-miherkhan5200 )

Mahfoozeen e AnilKhata :- https://www.facebook.com/profile.php?id=100069971176911&mibextid=ZbWKwL

Baab e Ilm :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=61558962702629&mibextid=ZbWKwL

Darwaza e Ilm :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=61559172542175&mibextid=ZbWKwL

Baadul Ilm :-
https://www.facebook.com/bab.ul.llm.126850?mibextid=ZbWKwL

The Danka :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100065451491487&mibextid=kFxxJD

Danka.in :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087020187177&mibextid=ZbWKwL

Danka News :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087052285886&mibextid=ZbWKwL

News Danka :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087407590643&mibextid=ZbWKwL

Danka :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087427479115&mibextid=ZbWKwL

Danka.com :-
https://www.facebook.com/profile.php?id=100087568682766&mibextid=ZbWKwL

Al-Miher Khan :-
https://www.linkedin.com/in/al-miher-khan-a74450263 )

Al-Miher Khan :-
https://twitter.com/miher_al?s=20 )

Khan Al,-Miher :-
https://twitter.com/khan_Almiher/header_photo )

Al-Miher Khan :-
https://instagram.com/almiherkhan?igshid=ZGUzMzM3NWJiOQ%3D%3D )

اب وہ نماز بھی نہیں رہی: حضرت انس بن مالکؓ

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...